شیخ چلی اور “شیر کا شکار”
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک بار شیخ چلی کو کسی نے کہہ دیا کہ شہر کے باہر والے جنگل میں ایک بہت بڑا شیر رہتا ہے جو لوگوں کو ڈراتا ہے۔ شیخ نے سوچا، “اگر میں اس شیر کو پکڑ لوں، تو پورا شہر مجھے اپنا ہیرو مان لے گا، اور بادشاہ سلامت مجھے انعام میں ڈھیروں سونا دیں گے۔”
شیخ چلی ایک لمبی لاٹھی لے کر جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اسے ایک پرانا ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔ اس نے اسے جیب میں ڈال لیا۔
تھوڑی دور جا کر کیا دیکھتا ہے کہ ایک جھاڑی کے پیچھے سے شیر کے غرانے کی آواز آ رہی ہے۔ شیخ چلی کی تو سٹی گم ہو گئی۔ لیکن پھر اسے اپنی “بہادری” یاد آئی۔ اس نے ہمت کی، جیب سے وہ آئینہ نکالا اور اسے جھاڑی کی طرف کر کے خود ایک پیڑ کے پیچھے چھپ گیا۔
شیر باہر نکلا، اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ شیر سمجھا کہ سامنے کوئی دوسرا شیر کھڑا ہے! وہ غصے سے دھاڑنے لگا۔ شیخ چلی نے دیکھا کہ شیر خود کو ہی دیکھ کر غصے سے پاگل ہو رہا ہے، تو شیخ نے بھی دور سے ہی اپنی لاٹھی لہرا کر چیخنا شروع کر دیا: “اوئے شیرو! اب تیری خیر نہیں، میں تجھے دیکھ رہا ہوں!”
شیر نے جب دوسری طرف سے آواز سنی، تو وہ مزید بپھر گیا اور آئینے پر چھلانگ لگا دی۔ آئینہ چکنا چور ہو گیا اور شیر کے پنجے زخمی ہو گئے۔ شیر درد سے کراہتا ہوا وہاں سے بھاگ نکلا۔
شیخ چلی نے جب دیکھا کہ شیر بھاگ گیا ہے، تو وہ پیڑ سے باہر نکلا اور فاتحانہ انداز میں بولا: “دیکھا! میں نے اپنی عقلمندی سے شیر کو شکست دے دی۔ اب یہ شیر کبھی واپس نہیں آئے گا کیونکہ وہ جان گیا ہے کہ یہاں ایک بہت بڑا ‘جادوگر’ رہتا ہے جو آئینے کے اندر سے بھی لڑ سکتا ہے!”
وہ گھر پہنچ کر پورے محلے میں ڈینگیں مارتا پھر رہا تھا کہ اس نے شیر کو صرف اپنی آنکھوں کی گھور سے بھگا دیا ہے۔ بیچارے محلے والے مسکرا کر رہ
گئے اور شیخ اپنی ہی جھوٹی بہادری کے نشے میں چور رہا۔
شیخ چلی کی اس بہادری کی کہانی کا اختتام تب ہوا جب محلے کے کچھ شکّی لوگوں نے کہا، “بھائی! اگر شیر واقعی ڈر کر بھاگا ہے، تو ذرا ہمیں بھی دکھاؤ وہ جگہ جہاں شیر زخمی ہوا تھا۔”
شیخ چلی نے سینہ پھلا کر کہا، “ضرور! چلو میرے ساتھ!”
سب لوگ اس کے پیچھے جنگل پہنچے۔ شیخ چلی وہاں پہنچ کر ٹھٹھک گیا، کیونکہ جہاں اس نے شیر کو آئینہ دکھایا تھا، وہاں شیر کے قدموں کے نشانات تو تھے، لیکن ساتھ ہی ایک بھیڑ کا بچہ بھی گھاس چر رہا تھا۔
شیخ نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا اور اپنی بات سنبھالتے ہوئے بولا: “دیکھو! یہ شیر اتنا ڈرپوک تھا کہ وہ شیر سے بھیڑ بن کر بھاگا ہے! یہ جو بھیڑ کا بچہ دیکھ رہے ہو نا؟ یہ وہی شیر ہے جو میری دھمک سے سکڑ کر چھوٹا ہو گیا ہے!”
محلے والے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے، مگر شیخ چلی نے اتنی سنجیدگی سے یہ بات کہی کہ گاؤں کے نادان لوگ اس دن سے اس کا نام “شیر کو بھیڑ بنانے والا جادوگر” رکھ بیٹھے۔
نتیجہ:
شیخ چلی کی دنیا میں منطق اور عقل کا وہی حال تھا جو بارش میں کاغذ کی کشتی کا ہوتا ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کو بھی اتنی دیدہ دلیری سے ‘کرشمہ’ بنا کر پیش کرتا تھا کہ سننے والا اپنی ہنسی روکنے پر مجبور ہو جائے
![]()

