Daily Roshni News

صبر کا ثمر: ایک ادھوری داستان کی تکمیل

صبر کا ثمر: ایک ادھوری داستان کی تکمیل

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وہ تپتی دوپہر جب میں نے گاؤں کی دھول جھاڑ کر شہر کا رخ کیا تھا، میرے ذہن میں صرف ایک ہی بات رقص کر رہی تھی: “میں اس جاہل عورت کے ساتھ زندگی کیسے گزار سکتا ہوں؟” جسے نہ ڈھنگ سے بات کرنی آتی تھی، نہ میرے معیار کا لباس پہننا اور نہ ہی سلیقے سے روٹی پکانا۔ میں نے اسے ایک بوجھ سمجھا اور گاؤں کے کچے مکان میں، اس کی خاموش آنکھوں میں ٹھہری ہوئی التجا کو نظر انداز کر کے، اپنی “جدید دنیا” کی طرف نکل گیا۔

شہر میں، میں نے اپنی پسند کی جیون ساتھی چنی۔ وہ تعلیم یافتہ تھی، آرائشِ جمال سے واقف تھی اور سلیقے سے محفلیں سجاتی تھی۔ وقت گزرتا گیا، میں نے گاؤں والی بیوی کو ماضی کی ایک دھندلی یاد سمجھ کر بھلا دیا۔ بس مہینے کے آخر میں کچھ رقم بھیج کر اپنا “ضمیر” مطمئن کر لیتا کہ میرا فرض پورا ہو رہا ہے۔

واپسی کا سفر: حیرتوں کا جہاں

سالوں بعد، جب زمینوں کے کچھ کاغذات کے سلسلے میں مجھے مجبوری میں گاؤں جانا پڑا، تو میرے ذہن میں وہی نقشہ تھا: ایک گرا ہوا کچا مکان، ویرانی اور وہی بدحواس سی عورت۔ لیکن جوں ہی میں نے گاؤں میں قدم رکھا، منظر ہی بدلا ہوا تھا۔

جہاں جھونپڑیاں ہوا کرتی تھیں، وہاں اب پکی سڑکیں اور ہریالی تھی۔ اور میرا وہ کچا گھر؟ وہاں اب ایک عظیم الشان حویلی کھڑی تھی جس کا رعب اور دبدبہ دور سے ہی دکھائی دیتا تھا۔ میں نے کسی سے پوچھا، “یہ حویلی کس کی ہے؟” جواب ملا، “صاحب! یہ آپ ہی کا گھر ہے۔”

میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔ ابھی میں اس صدمے سے سنبھلا نہ تھا کہ گاؤں کے معززین، وہ نمبردار اور زمیندار جو کبھی مجھے پہچانتے بھی نہ تھے، جوق در جوق میری طرف آنے لگے۔ ان کے لہجوں میں عاجزی تھی اور آنکھوں میں احترام۔

> “بھائی صاحب! آپ آ گئے؟ ذرا بی بی جی سے کہیے گا کہ میرا وہ زمینی تنازع حل کر دیں، وہ صرف ان کی بات مانتے ہیں۔”

> “صاحب! پولیس کا مسئلہ ہو یا نہری پانی کا، بی بی جی کے فیصلے کے آگے کوئی سر نہیں اٹھاتا۔”

میں گنگ کھڑا سوچ رہا تھا کہ یہ “بی بی جی” کون ہے؟ کیا یہ وہی “جاہل” عورت ہے؟

خاموشی کا وقار

حویلی کے صحن میں قدم رکھتے ہی ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ وہاں ہر چیز ترتیب سے تھی، جیسے کائنات کا ہر ذرہ کسی خاص قانون کے تحت چل رہا ہو۔ اسی لمحے وہ سامنے آئی۔

وہ بدلی ہوئی تھی، مگر اس کی آنکھوں کی وہ خاموشی اب ایک پُروقار سمندر بن چکی تھی۔ سادہ لباس میں ملبوس، اس کے چہرے پر وہ نور تھا جو صرف علم اور ریاضت سے آتا ہے۔ اس نے نہ مجھے طعنہ دیا، نہ شکایت کی، نہ میرے دوسری شادی کے زخم کو کریدا۔ اس نے بس سر جھکا کر دھیمی آواز میں کہا:

> “آپ تھکے ہوئے ہوں گے، اندر تشریف لائیے۔ کھانا تیار ہے۔”

کھانے کی میز پر لذیذ پکوان دیکھ کر میں نے حیرت سے پوچھا، “یہ سب کیسے ہوا؟ تمہیں تو روٹی تک بنانی نہیں آتی تھی۔”

وہ دھیرے سے مسکرائی، ایک ایسی مسکراہٹ جس میں ہزاروں دکھوں کا زہر تھا جسے اس نے امرت بنا لیا تھا۔

“جب آپ نے مجھے جاہل کہہ کر چھوڑا، تو میرے پاس دو راستے تھے: یا تو میں مر جاتی، یا پھر خود کو جاہل سے انسان بنا لیتی۔ میں نے سمجھ لیا تھا کہ جہالت ڈگری نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ سیکھنے کا جذبہ نہ ہونے کا نام ہے۔ میں نے کتابیں پڑھیں، وقت کے بدلتے تقاضے سمجھے اور آپ کی بھیجی ہوئی رقم کو ضائع کرنے کے بجائے اسے امانت سمجھ کر زمینوں میں لگایا۔”

مکافاتِ عمل اور پچھتاوا

شام کے سائے گہرے ہوئے تو میں نے دیکھا کہ حویلی کے دروازے پر ضرورت مندوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ کوئی دعا دے رہا ہے، کوئی انصاف مانگ رہا ہے۔ وہ عورت جسے میں نے شہر کے معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے ٹھکرا دیا تھا، اب ایک پورے گاؤں کا ضمیر اور سہارا بن چکی تھی۔

میں نے لرزتی آواز میں پوچھا، “کیا تمہیں مجھ سے نفرت نہیں؟”

اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی نظروں میں وہ گہرائی تھی جسے میں اپنی “پڑھی لکھی عقل” سے ناپ نہیں سکتا تھا۔ اس نے کہا:

> “نفرت کے لیے بھی رشتے کا احساس ہونا ضروری ہے۔ میں نے تو اپنی امیدیں اللہ سے جوڑ لی تھیں۔ آپ نے مجھے تنہا چھوڑا، تو مجھے اللہ مل گیا۔ اب مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں۔”

اس رات مجھے احساس ہوا کہ میں نے جس عورت کو “باورچی خانے” کے پیمانے پر تولا تھا، اس کی پرواز تو آسمانوں تک تھی۔ میں جسے مٹی سمجھ کر چھوڑ آیا تھا، وہ ایک ایسا ہیرا نکلی جس کی چمک نے پورے علاقے کو روشن کر رکھا تھا۔

حاصلِ کلام

ہم اکثر انسانوں کو ان کی ظاہری حالت، زبان یا کسی ایک ہنر کی کمی کی بنیاد پر مسترد کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ عورت کا صبر اور اس کی ہمت جب بیدار ہوتی ہے، تو وہ صرف گھر ہی نہیں، پوری نسلیں اور بستیاں بدل دیتی ہے۔

میرا پچھتاوا آج بھی قائم ہے، کیونکہ میں نے صرف ایک بیوی نہیں کھوئی تھی، میں نے اس وقار اور سکون کو ٹھکرا دیا تھا جو مجھے کہیں اور میسر نہ آ سکا۔

​#عبرت_ناک_کہانی

​#صبر_کا_پھل

​#مکافاتِ_عمل

​#پچھتاوا

​#خاموش_جدوجہد

​#عورت_کا_احترام

​#باوقار_عورت

​#ہنر_اور_صلاحیت

​#خود_اعتمادی

​#خاتون_اول

​#UrduLiterature

​#UrduStories

​#ShortStory

​#MoralStories

​#LifeLessons

​#UrduQuotes

​#انمول_رشتہ

​#بدلتا_وقت

​#احساس_ندامت

Loading