Daily Roshni News

صحافی راجہ فاروق حیدر کے والد گرامی ڈاکٹر راجہ اللہ دتہ خان مرحوم شخصیت اور گرانقدر خدمات کے اعتراف میں خو بصورت تحریر

ہالینڈ، صحافی راجہ فاروق حیدر کے والد گرامی

ڈاکٹر راجہ اللہ دتہ خان مرحوم

شخصیت اور گرانقدر خدمات کے اعتراف میں خو بصورت تحریر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشل – جاوید عظیمی ) ہالینڈ میں عرصہ دراز سے مقیم جانی پہچانی سماجی شخصیت اور سنیئر صحافی  راجہ فاروق حیدر آپ کا تعلق گجرات کے علاقے ڈنگہ سے ہے۔ آپ کے والد  ڈاکٹر راجہ اللہ دتہ خان مرحوم نے اپنی زندگی میں مذکورہ علاقے کے باسیوں کے لئے بے شمار خدمات سر انجام دئیں ، جس کے باعث مرحوم نے علاقے کی ممتاز شخصیات کی فہرست میں نمایاں جگہ حاصل کی۔ مرحوم کی گرانقدر خدمات ، شخصیت اور خاندانی  پس منظر کا احاطے اور اعتراف کرنے کے لئے علاقے کے کسی مکین نے نام ظاہر کئے بغیر شاندار خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اپنے تاثرات رقم کئے ہیں۔ اس گمنام شخصیت کی تحریر کو معروف آن لائن اردو اخبار ڈیلی روشنی نیوز انٹر نیشنل پنے قارئین کے لئے شائع کر رہا ہے۔

محمد جاوید عظیمی

چیف ایڈیٹر روشنی نیوز انٹرنیشنل

گمنام ہیروزِ ڈنگہ -راجہ بازار والے–ڈاکٹر راجہ اللہ دتہ خان مرحوم ✍️

ڈنگہ ضلع گجرات کا ایک تاریخی قصبہ ہے۔ اس سرزمین نے بے شمار نامور شخصیات کو جنم دیا، مگر کچھ لوگ صرف نام نہیں ہوتے — وہ ایک احساس ہوتے ہیں۔

ایسا ہی ایک درخشاں نام ہے ڈاکٹر راجہ اللہ دتہ خان مرحوم۔
آج وہ ہمارے درمیان نہیں،
مگر ان کا کردار، ان کی محبت اور ان کی خدمات آج بھی زندہ ہیں۔

ڈاکٹر راجہ اللہ دتہ خان مرحوم کا تعلق ڈنگہ کے گکھڑ راجپوت گھرانے سے تھا۔
ان کے والد کا نام راجہ دولت خان تھا۔

انہوں نے ایم بی بی ایس مکمل کیا اور بعد ازاں ایران چلے گئے جہاں چیف میڈیکل آفیسر کے عہدے پر فائز رہے۔
1940 کے قریب وطن واپس لوٹے اور اپنے آبائی قصبہ ڈنگہ میں سکونت اختیار کی۔

وہ صرف ایک تعلیم یافتہ ڈاکٹر نہیں تھے — وہ خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار انسان تھے۔

1937 میں میڈیکل کی تعلیم مکمل کر کے عملی زندگی کا آغاز کیا، ایسے وقت میں جب وسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔
وہ تقریباً چھیالیس برس تک طب کے شعبے سے وابستہ رہے۔

ان کے کلینک کا دروازہ ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہتا تھا۔
وہ صرف نبض نہیں دیکھتے تھے — حالات بھی دیکھتے تھے۔
وہ صرف بیماری نہیں پوچھتے تھے — پریشانی بھی پوچھتے تھے۔

ان کےمتعلق مشہور تھا:
غریب کو دعا بھی فری، دوا بھی فری۔

اگر کوئی مریض خاموش رہتا تو پوچھتے:
“کچھ کھانے پینے کے لیے ہے؟”
اور خاموشی جواب ہوتی تو جیب سے رقم نکال دیتے۔

ان کی وفات کے بعد متعدد خاندانوں نے بتایا کہ وہ خاموشی سے ان کی کفالت کرتے تھے۔

جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو میونسپل کمیٹی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے والوں میں وہ پیش پیش تھے۔
پہلے یومِ آزادی کے موقع پر انہوں نے مٹھائی تقسیم کی گئی۔

قیامِ پاکستان کے بعد سینکڑوں مہاجرین کے لیے خوردونوش کا بندوبست کیا۔
14 اگست 1947 کے مشکل حالات میں زخمیوں اور بیماروں کی خدمت میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے بلدیاتی سیاست میں حصہ لیا اور طویل عرصہ وائس چیئرمین اور چیئرمین منتخب ہوتے رہے۔

ان کی خدمات میں شامل ہیں:
• جامع مسجد عیدگاہ ڈنگہ کی بنیاد میں کردار
• لوگوں کو کم قیمت پر گھر بنانے کے لیے اراضی اور دکانیں فراہم کرنا
• کسی سوالی کو خالی نہ لوٹانا

ڈنگہ میں پاکستان بننے سے قبل اندرون بازار ہوتا تھا۔

راجہ بازار کی بنیاد ڈاکٹر صاحب نے رکھی۔
ان کی متعدد دکانیں اور راجہ بازار میں کوٹھی تھی جس کے دونوں طرف درجنوں دکانیں تھیں۔

یہی بازار آج بھی ان کے نام سے منسوب ہے —
یہ کسی سرکاری اعلان کا نتیجہ نہیں، بلکہ عوامی اعتراف ہے۔

ان کی تین بیویاں تھیں۔
دس بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔

ڈاکٹر صاحب کے بیٹوں کے نام:
راجہ محمد اسلم، راجہ محمد مسلم خان، راجہ محمد سلیم، راجہ جمال، راجہ امان اللہ، راجہ محمد اقبال، راجہ سکندر حیات، راجہ فاروق حیدر، راجہ خادم حسین، راجہ خالد پرویز (سابق کونسلر)۔

اس وقت حیات بیٹوں میں:
راجہ امان اللہ خان (حال مقیم کینیڈا)،
راجہ فاروق حیدر (ہالینڈ)،
راجہ خالد پرویز (ڈنگہ) شامل ہیں۔

1962 میں ڈنگہ میں بڑا سیلاب آیا۔
وہ غلہ منڈی میں ضلعی انتظامیہ کو نقصان دکھا رہے تھے کہ گلی سڑی اجناس کی بدبو سے ان کا بلڈ پریشر ہائی ہوگیا۔
وہ اپنے دواخانے آ کر گر پڑے۔

طویل علالت کے بعد 20 اکتوبر 1967 کو اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔

اس وقت بلدیہ ڈنگہ کے چیئرمین چوہدری محمد اسلم تھے۔
انہوں نے مقامی اسکول بند کروائے ۔
جمعہ کی نماز کے بعد کشمیریوں والے قبرستان میں تدفین ہوئی۔
جنازہ اٹھانے سے پہلے راجہ بازار میں لوگوں کا ہجوم تھا۔

یہ کسی اعلان کا نتیجہ نہیں تھا —
یہ محبت کا خاموش اعتراف تھا۔

وہ نہایت خدا خوف، رحمدل اور غریب پرور شخصیت تھے۔
انہوں نے ساری زندگی سادگی اور درویشی میں گزاری۔
رسالت مآب ﷺ اور آپ کی آلِ پاک سے گہری محبت و مودت رکھتے تھے۔

ڈنگہ نامہ کا پیغام

ڈاکٹر راجہ اللہ دتہ خان مرحوم ہمیں یہ سکھا گئے کہ
اصل عظمت عہدوں میں نہیں،
اصل عظمت دولت میں نہیں،
اصل عظمت خدمت، خلوص اور انسان دوستی میں ہے۔

وہ پیشے سے ڈاکٹر تھے،
کردار سے درویش تھے،
سیاست میں خدمت گزار تھے،
اور دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔

آخری بات — ایک سوال نئی نسل سے

آج جب ہم ترقی، سیاست اور اثر و رسوخ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے —
کیا ہم اپنے شہر کو کچھ واپس بھی دے رہے ہیں؟

ڈاکٹر راجہ اللہ دتہ خان مرحوم نے نہ سوشل میڈیا دیکھا، نہ تشہیر کی سیاست کی۔
انہوں نے بس خاموشی سے خدمت کی، اور وقت نے خود ان کے نام کو زندہ رکھا۔

آج راجہ بازار صرف اینٹوں اور دکانوں کا نام نہیں —
یہ ایک کردار کی یادگار ہے۔

آج کشمیریوں والے قبرستان میں ایک قبر صرف مٹی نہیں —
وہ ڈنگہ کی تاریخ کا ایک باب ہے۔

اور آج اگر کوئی نوجوان یہ تحریر پڑھ رہا ہے تو اس کے لیے پیغام واضح ہے:

شہر نام سے نہیں بنتے — کردار سے بنتے ہیں۔
عہدوں سے نہیں بنتے — خدمت سے بنتے ہیں۔

ڈنگہ کو اگر پھر سے عظمت دینی ہے
تو ہمیں بھی ایک ڈاکٹر راجہ اللہ دتہ خان بننا ہوگا —
اپنے حصے کا چراغ جلانا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

— ڈنگہ نامہ ✍️جہب

Loading