صدائے جرس
اللہ کے فرستادہ پیغمبر محمد ﷺ کی تعلیمات
تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ صدائے جرس۔۔۔ تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ)تاریخ کے مطالعے سے یہ خبر متواتر ملتی ہے کہ دنیا تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی، لڑنا جھگڑنا لوگوں کا عام مشغلہ تھا۔ عورتوں کا وقار دبیز پردوں میں چھپا دیا گیا تھا۔ مردوں کے مقابلے میں عورتیں خصوصی طور پر مشکلات میں گرفتار تھیں۔ عرب میں بعض سنگدل قبائل لڑکیوں کو زندہ پیوند خاک کر دیتے تھے۔ لڑکی کی پیدائش کو برائی تصور کیا جاتا تھا۔ آپس میں لڑنا جھگڑنا، قتل وغارت گری، خون ریزی، سفاکی، درندگی، جاه طلبی، خاندانی بے جاوقار اور کبر نخوت امتیاز سمجھا جاتا تھا۔
اس فساد زدہ دور میں رہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ایسا ایک بندہ رحمت اللعالمین زمین پر بھیجا جو بھٹکی ہوئی نوع انسانی کے لیے مینارہ نور بنا۔ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ نے دنیا کی تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ معاشرت ،معیشت، جنگ، امن غرض زندگی کے ہر شعبے میں رسول اللہﷺ نے خود عملی تفسیر پیش کی ہے۔ پوری انسانیت کے لیے ایک دستور زندگی اور اجتماعی نظام عطا فرمایا۔ یہ جامع دستور کامل دین اور مکمل نظام جو ہر خطہ زمین اور ہر زمانے کیلئے کارآمد اور قابل عمل ہے حقیقت یہ ہے کہ اسے اختیار کئے بغیر انسانیت کی ترقی و خوشحالی ممکن نہیں۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت طیبہ کو اہل ایمان کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی روشنی اور نور ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی شخصیت جامع کمالات ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارکہ انسان کی دینوی، انفرادی و اجتماعی زندگی نیز زمانہ حال مستقبل سب کے لیے جامع اور مکمل ضابطہ حیات اورکامل نمونہ ہے۔
انسان ہر لمحہ ایک نئے احساس سے متاثر ہوتا ہے۔ کسی بات پر خوش ہوتا ہے …. اور کسی بات پر غمگین ہو جاتا ہے۔ ان سب حالتوں میں انسانی جذبات مختلف ہوتے ہیں۔ سیرت طیبہ زندگی کے ہر پہلو میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام لوگوں کو ذکر الہی کی نصیحت کرتے تھے اور خود حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی دن رات میں کوئی لمحہ ایسانہ تھا جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا دل اور زبان اللہ تعالیٰ کی یاد سے خالی
ہو ۔ اٹھتے بیٹھے ، چلتے پھرتے ، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے ، پہنتے اوڑھتے ہر حال میں اور ہر وقت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا اللہ تعالیٰ سے ربط قائم تھا۔ لوگوں کو پانچ وقت کی نماز کا حکم تھا مگر خو د حضور علیہ الصلوۃ والسلام آٹھ وقت کی نماز قائم کرتے تھے ۔ مسلمانوں پر سال میں تیس دن کے روزے فرض ہیں، مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی ہفتہ اور کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہیں جاتا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس جو بھی نقد و جنس اور مال و اسباب آتا تھا وہ سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیتے تھے۔ رسول اللہ نے دین حق کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش کیا کہ انسانوں پر یہ واضح ہو گیا کہ دین مبین ایک قابل عمل نظام زندگی ہے جس پر ہر فرد عمل کر سکتا ہے۔ رحمت اللعالمین حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں زندگی کے دوسرے شعبہ جات کو سنوارا وہیں
آپ نے اخلاق و عمل کی بلندی اور پاکیزگی پر کافی توجہ دی۔ رسول اللہ کی پوری زندگی اخلاق و صداقت کا نمونہ ہے۔ اسلام کی اشاعت میں آپ کی صداقت اور آپ کے اخلاق و اعمال کو بڑا دخل ہے۔ اسلام امن کا داعی، صداقت کا علمبر دار اور انسانیت کا پیامبر ہے۔ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ تمام افرادِ کائنات اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے غیر مسلم اقوام اور اقلیتوں کے لئے مراعات ، آزادی اور مذہبی رواداری پر مبنی ہدایات اس دور میں فرمائیں جب دنیا میں رواداری کا فقدان تھا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مفتوحہ قوموں اور غیر مسلم اقلیتوں کو مذہبی رواداری اور مذہبی آزادی کی ضمانت فراہم کی۔ ان کے جان و مال، عزت و آبرو اور ان کے حقوق کا جس قدر تحفظ کیا گیا تار یخ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ تاریخ انسان میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام رواداری کے سب سے بڑے علمبر دار ہیں ۔ قومی اور عالمی سطح پر امن کے قیام اور رواداری کے فروغ کیلئے رحمتہ اللعالمین حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت وحیات نمونہ عمل ہے۔۔ موجودہ دور میں ملکی سطح پر بالخصوص نسلی، علاقائی، گروہی، لسانی، مذہبی و مسلکی اختلافات ، تفرقے کے خاتمہ اور مکمل طور پر امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ… حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اسوہ حسنہ پر عمل کیا جائے کہ یہی انسانیت کے لئے نمونہ عمل اور ابدی نجات ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ دسمبر 2017
![]()

