صدائے جرس
تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ صدائے جرس۔۔۔ تحریر۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ)دن، ہفتہ ماہ وسال پر محیط جس زمانی وقفے کو زندگی کا نام دیا جاتا ہے اس کا تعلق دراصل مادی مظاہر سے ہے۔
جب یہ مادی وسائل مفقود ہو جاتے ہیں اور ہنستا بولتا، چلتا پھرتا گوشت پوست کا پتلا ساکت و بے حس ہو جاتا ہے اور زندگی کے آثار ختم ہو جاتے ہیں تو ہم اسے مردہ قرار دے دیتے ہیں حالانکہ اس مردہ جسم میں ہر عضو موجود ہے جو مرنے سے پہلے جسم میں موجود تھا۔ دل، دماغ، پھیپھڑے، گردے، خون ہونے کے باوجود جسم میں حرکت باقی نہیں رہتی۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ ماننا پڑے گا کہ جسم میں ضرور کوئی تبدیلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے جسم کے تقاضے ختم ہو گئے ہیں۔ انسان موت زیست میں رد و بدل ہو رہا ہے۔ زیست کو سمجھنے کیلئے ہمارے پاس وہ اعمال و افکار اور حرکات و سکنات ہیں جو ہم زندگی بھر کرتے رہتے ہیں۔ حرکت جسمانی وجود کے ساتھ ہوتی ہے اور ایک ایسی حالت بھی طاری ہوتی ہے کہ جسمانی وجود معطل ہو جاتا ہے لیکن حرکات و سکنات اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ قائم رہتی ہیں۔
انسانی زندگی کا دارو مدار محض اور محض اطلاع یا خیال کے اوپر ہے ۔ ہم جب زندگی میں کام کرنے والے تقاضوں کا تجزیہ کرتے ہیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ در اصل زندگی میں کام آنے والا ہر جذ بہ ایک خبر یا اطلاع ہے۔ زندگی کا کوئی رخ ہو، صحت مندی کا رخ ہو، بیماری کا ہو، پریشانی کا ہو، خوشی کا ہو، احساس کمتری یا احساس برتری کا رخ ہو۔ یہ تمام اعمال، تاثرات، جذبات وغیر ہ خیالات کے تابع ہیں۔ کوئی بھی اطلاع یا کسی بھی شے کا علم ہمیں لازمانیت سے موصول ہوتا ہے۔ یہ لازمانیت نت نئی اطلاعیں زمانیت (وقت) کے اندر ارسال کرتی رہتی ہے۔ لازمانیت موجودات یا کائنات کی ہیں Base ہے۔ اگر ہم لازمانیت کو ایک نقطہ سے تشبیہ دیں تو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ نقطہ میں کائنات کا یکجائی پروگرام نقش ہے۔ لہروں کے ذریعہ اس نقطہ سے جب کائنات کا یکجائی پروگرام نشر ہوتا ہے تو انسان کے حافظہ سے ٹکر اتنا اور بکھرتا ہے بکھرتے ہی ہر اور مختلف شکلوں اور صورتوں میں نستی بولتی چلتی پھرتی گاتی بجاتی، تصویر بن جاتی ہے۔
انسانی زندگی کا دار و مدار اطلاع پر ہیے ۔ اطلاعات کا سلسلہ موت کے بعد جاری رہتا ہے۔ مرنے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ آدمی کا وجود تحلیل ہو گیا یا آدمی بنیادی طور پر ختم ہو گیا۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسانی جسم کا رشتہ روح سے منقطع ہو گیا۔ مرنے کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ آدمی ختم ہو گیا ہے، حالانکہ انتقال ہونے کا مطلب ختم ہونا نہیں بلکہ ایک عالم سے دوسرے عالم میں معتقل ہو جاتا ہے۔ یعنی آدمی گوشت پوست کے جسم کو چھوڑ کر دوسرے عالم میں منتقل ہو گیا۔ کسی صاحب علم ہستی کا قول ہے کہ موت روشنی کو ختم کرنا نہیں ہے ، یہ صرف چراغ کو بجھانا ہے کیونکہ صبح ہو گئی ہے”۔ انسان کی زندگی مادی جسم کے فنا ہونے کے بعد ختم نہیں ہوتی۔ آدمی جب مر جاتا ہے تو دراصل وہ غیب کی اس دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں اس کے اوپر سے زماں اور مکاں کی پابندیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ انسانی روح موت کے بعد مادی جسم کو خیر باد کہہ کر روشنی کا بنا ہو اجسم اختیار کر لیتی ہے اور روشنی کے جسم کے ذریعے اس کی حرکات جاری رہتی ہیں۔ اس کی مثال خواب کی حالت ہے ۔ خواب میں مادی حواس رو روشنی کی دنیا میں کام کرنے والے جو اس سے مغلوب ہو جاتے ہیں لیکن ختم نہیں ہوتے۔ اس وقت ہماری کیفیات موت سے مشابہت رکھتی ہیں۔ لیکن جب مادی جسم کے حواس پر روشنی کے جسم کے حواس کا اس طرح غلبہ ہو جائے کہ مادی زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ حواس کا روشنی کے حواس پر دوبارہ غالب آنا ممکن نہ ہو تو مادی جسم تعطل کا شکار ہو کربیکار ہو جاتا ہے اسی کا نام موت ہے۔
زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ
ہر انسان دراصل مرنے کے لیے جی رہا ہے۔
یعنی اس کا سفر موت کی طرف ہے اور اس کی آخری منزل موت ہے۔
اور اس جہاں میں جو کچھ بھی جمع کر رہا ہےوہ در اصل چھوڑ جانے کیلئے۔
اب ہم یوں کہیں گے کہ آدمی اس عارضی زندگی کو چھوڑ کر ایسے عالم میں چلا گیا ہے جہاں اسے دنیا سے زیادہ طویل عرصے تک رہنا ہے۔ مرنے کے بعد بھی آدمی ان جذبات و احساسات میں زندگی گزارتا ہے جن جذبات و احساسات میں اس دنیا میں زندگی گزار چکا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ یہ گوشت پوست کا جسم مٹی بن جاتا ہے اور روح اس گوشت پوست کے جسم کو چھوڑ کر عالم اعراف میں ایک اور نیا جسم بنا لیتی ہے۔ تجر باقی دنیا یہ ہے کہ انسان کہیں سے آتا ہے یعنی وہ پہلے سے کہیں موجود تھا جب وہاں کی موجودگی ختم ہوئی تو اس دنیا میں پیدا ہو گیا یعنی اس دنیا میں آنے سے پہلے اس پر موت وارد ہوئی، پہلے موت واردہوئی پھر پیدا ہوا۔ اس دنیا سے جانے کے بعد دوسری دنیا میں پیدا ہوا۔ اس کا منطقی استدلال یہ ہوا کہ اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی ہم کہیں پید ا ہوئے تھے یعنی موت سے زندگی پیدا ہوئی اور زندگی سے موت پیدا ہوئی، اس کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ موت زندگی میں داخل ہوئی اور زندگی موت میں داخل ہو گئی۔ زندگی سے موت کا پیدا ہونا اور موت سے زندگی کا پیدا ہوتا یا زندگی کا موت میں داخل ہو جانا اور موت کا زندگی میں داخل ہو جانے کا پروسیس پہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی ایسی ہستی ہے جو اس پر امیس کو جاری رکھے ہوئے ہے اور بغیر کسی تبدیلی اور تعطل کے جاری رکھے ہوئے ہے۔
حضرت محمد رسول اللہ کی لالی کا ارشاد ہے:
موتو قبل ان تموتو ” مر جاؤ مرنے سے پہلے”۔ (مشکوۃ) مرجاؤ مرنے سے پہلے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس زندگی میں رہتے ہوئے مرنے کے بعد کی زندگی سے واقفیت حاصل کر لو۔ انسان کو جب روح کا علم حاصل ہو جاتا ہے تو اس کے اوپر سے موت کا خوف نکل جاتا ہے …. اور وہ اس دنیا کے بعد دوسری دنیا میں جانے کی اس لئے تمنا کرتا ہے کہ دوسری دنیا اس دنیا سے بدرجہ بہتر ہے۔ مشاہداتی آنکھ دیکھتی ہے کہ موت سے خوب صورت کوئی زندگی نہیں ہے … جب کوئی بندہ مادی زندگی میں مرنے کے بعد کی زندگی سے آشنا ہو جاتا ہے تو غیب کی دنیا اس کے مشاہدے میں آجاتی ہے، فکر انسانی میں ایسی روشنی موجود ہے جو کسی ظاہر کے باطن کا کسی حضور کے غیب کا مشاہدہ کر سکتی ہے۔
سید نا حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے: اتقوا فراستۃ المومن فانہ بینظر بنور اللہ
مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ (جامع ترمذی) با الفاظ دیگر انسانی ذہن پر یہ بات منکشف ہو جاتی ہے کہ حیات کی ابتداء کہاں سے ہوئی ہے اور انتہا کہاں تک ہے ۔ جب ہم ابتداء اور انتہا پر نظر کرتے ہیں تو منکشف ہوتا ہے کہ ہر ابتداء، انتہا تک پہنچنے کے لئے قائم ہے
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ مارچ 2025 ء