صلاح الدین ایوبی زندگی بھر کبھی بیت اللہ نہ جا سکے! حکمرانوں کیلئے ایک سبق .
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آج اگر کوئی حکمران حج کر لے، عمرہ کر لے، خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو جائے، غلافِ کعبہ کو چوم لے، نمازیں ادا کرے اور پھر اس کی تصاویر پوری دنیا میں پھیلا دی جائیں تو اس کے لیے مذہبی عقیدت اور پاکیزگی کے قصیدے پڑھنے شروع ہو جاتے ہیں۔
لیکن تاریخ ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے۔
اسلامی دنیا کے عظیم فاتح، سلطان صلاح الدین ایوبی، جنہوں نے بیت المقدس کو صلیبیوں کے قبضے سے آزاد کروایا، جو مسلمانوں کے لیے اپنی زندگی بھر لڑتے رہے، جن کی دیانت، بہادری، عدل اور کردار کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں، وہ خود کبھی بیت اللہ کی زیارت نہ کر سکے۔
جی ہاں! ایک ایسا حکمران جس کا نام سنتے ہی بیت المقدس کی آزادی یاد آتی ہے، جس نے برسوں جہاد کیا، جس نے مسلمانوں کی عزت اور مقدس مقامات کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی، وہ حج کی سعادت حاصل نہ کر سکے۔
مگر کیا اس وجہ سے کسی کے دل میں صلاح الدین ایوبی کی اسلام سے محبت پر شک پیدا ہوتا ہے؟
ہرگز نہیں!
کیونکہ اسلام سے محبت کا ثبوت صرف مقدس مقامات پر تصویریں بنوانا نہیں ہوتا۔
حکمران کا حج، عمرہ یا خانہ کعبہ کے اندر حاضری دینا یقیناً ایک عظیم سعادت ہو سکتی ہے، لیکن یہ کسی حکمران کی پارسائی، دیانت اور اسلام سے حقیقی محبت کا خودکار سرٹیفکیٹ نہیں۔
مقدس مقامات پر حاضری سے پہلے اس حکمران پر یہ شرائط عائد ہونی چاہیے
کیا اس کے ملک میں عدل موجود ہے؟
کیا غریب کو انصاف ملتا ہے؟
کیا اس کے خزانے عوام کی امانت ہیں؟
کیا اس کے دور میں بھوک اور ظلم بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟
کیا اس کے فیصلے اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہیں؟
کیا وہ کمزور کے حق میں طاقتور کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے؟
کیا اس کے ہاتھ سے اس کی اپنی قوم محفوظ ہے؟
کیونکہ بیت اللہ کے دروازے سے گزر جانا آسان ہے، مگر اللہ کے بندوں کے حقوق کا خیال رکھنا مشکل ہے۔
کعبہ کے اندر چند لمحے گزار لینا ممکن ہے، مگر ایک یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھنا، ایک بھوکے کے گھر چولہا جلانا، ایک مظلوم کو طاقتور کے ظلم سے بچانا اور قوم کی امانت میں خیانت نہ کرنا اصل امتحان ہے۔
آج ہمارے حکمرانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ بیت اللہ کی زیارت عظیم سعادت ہے، مگر اللہ کے بندوں کے ساتھ انصاف کرنا حکمرانی کی اصل عبادت ہے۔
صلاح الدین ایوبی شاید بیت اللہ تک نہ پہنچ سکے، وہ تمام عمر مسلمانوں کی عظمت بحال کرنے کیلئے جہاد کرتے رہے .انہوں نے اپنی زندگی اسلام کے عظیم مقاصد کے لیے وقف کر دی۔
اس لیے کسی حکمران کی نیکی کا فیصلہ صرف اس بات سے نہ کریں کہ وہ کتنی مرتبہ حج یا عمرہ کر چکا ہے، کتنی مرتبہ بیت اللہ کے اندر گیا ہے یا کتنی مذہبی تصاویر بنوا چکا ہے۔
اس کے کردار کو دیکھیں۔
اس کے فیصلوں کو دیکھیں۔
اس کی حکومت میں انصاف کو دیکھیں۔
اس کے دور میں غریب کی حالت کو دیکھیں۔
کیونکہ ممکن ہے ایک انسان بیت اللہ تک پہنچ جائے، مگر بیت اللہ کے رب کی مخلوق کے حقوق پامال کرتا رہے۔
اور ممکن ہے کوئی شخص بیت اللہ کی زیارت نہ کر سکے، مگر اس کی پوری زندگی اللہ کے دین، عدل، انسانیت اور مظلوموں کی خدمت میں گزر جائے۔
صلاح الدین ایوبی کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے:
صرف مقدس جگہوں پر حاضری انسان کو عظیم نہیں بناتی، بلکہ مقدس اصولوں پر عمل انسان کو عظیم بناتا ہے۔
حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ قوموں کی قیادت تصویروں سے نہیں، کردار سے ثابت ہوتی ہے۔
کعبہ کے اندر جانا سعادت ہے، مگر قوم کے اندر انصاف پیدا کرنا اس سعادت کا اصل اثر ہے۔
اور شاید اسی لیے تاریخ آج بھی ہمیں صلاح الدین ایوبی کا نام عزت سے یاد دلاتی ہے… کیونکہ وہ صرف مقدس مقامات کی محبت کا دعویٰ نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کی پوری زندگی اس محبت کی گواہی تھی۔
الله پاک سلطان صلاح الدین ایوبی کے درجات بلند فرمائے …آمین
#SalahuddinAyyubi #SultanSalahuddin #IslamicHistory #BaitulMaqdis #MuslimHeroes
![]()

