Daily Roshni News

صلاح الدین ایوبی کے بارے میں آج بھی مختلف آراء ملتی ہیں۔  

صلاح الدین ایوبی کے بارے میں آج بھی مختلف آراء ملتی ہیں۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )صلاح الدین ایوبی کے بارے میں آج بھی مختلف آراء ملتی ہیں۔ کوئی انہیں عظیم فاتح کہتا ہے، کوئی سیاسی فیصلوں پر گفتگو کرتا ہے، اور کچھ لوگ تنقید بھی کرتے ہیں۔ میں یہاں نہ کسی کی تنقید کا جواب دے رہا ہوں اور نہ ہی بحث چھیڑ رہا ہوں۔ میں صرف ایک ایسا واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جس پر تاریخ کے بہت سے غیر مسلم مؤرخین بھی خاموشی سے سر ہلاتے ہیں۔

یہ صلیبی جنگوں کا دور تھا۔ گرد و غبار سے بھرا میدان، تھکے ہوئے لشکر، اور بیت المقدس کی سرزمین جس پر دونوں طرف کی نظریں جمی ہوئی تھیں۔ انہی دنوں خبر آئی کہ انگلینڈ کا بادشاہ Richard the Lionheart شدید بیمار ہو گیا ہے۔ وہی رچرڈ جو صلاح الدین کا سب سے بڑا فوجی حریف تھا۔ وہی جس کے ساتھ تلواریں ٹکرا رہی تھیں۔

یہ لمحہ کسی بھی سپہ سالار کے لیے فیصلہ کن ہو سکتا تھا۔ دشمن کمزور تھا۔ جنگ کا توازن بدل سکتا تھا۔ مگر روایت یہ بتاتی ہے کہ صلاح الدین نے اپنے ذاتی طبیب کو بھیجا۔ تازہ پھل اور ٹھنڈا مشروب بھجوایا۔ ایک پیغام بھیجا جو لفظوں میں نہیں تھا، مگر عمل میں واضح تھا کہ جنگ اپنی جگہ ہے اور انسانیت اپنی جگہ۔

بعض عوامی روایات میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ خود طبیب کا روپ دھار کر گئے تھے، مگر معتبر تاریخی ماخذ اس کی واضح تصدیق نہیں کرتے۔ زیادہ مستند روایت یہی بیان کرتی ہے کہ انہوں نے اپنا معتمد طبیب بھیجا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دشمن کے لیے اپنا ذاتی طبیب بھیج دینا بھی کوئی معمولی بات نہیں تھی۔

سوچیے وہ منظر کیسا ہوگا۔ ایک خیمے میں بیمار بادشاہ لیٹا ہے، اور دوسرے خیمے سے دوا آ رہی ہے۔ دشمن کی طرف سے۔ یہ وہ وقت تھا جب طاقت بدلے میں ظاہر ہو سکتی تھی، مگر یہاں طاقت برداشت میں ظاہر ہوئی۔

یہ رویہ کسی ایک فرد کی ذاتی نرمی نہیں تھا۔ یہ دراصل ان تعلیمات کا عکس تھا جو ہمیں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عطا کیں۔ ہمارا دین اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ عدل، رحم اور حسن سلوک دشمن کے ساتھ بھی چھوڑا نہیں جاتا۔ جنگ اپنی جگہ ہو سکتی ہے، مگر اخلاق اور انسانیت کی حدیں قائم رہتی ہیں۔

صلاح الدین مسلمانوں کے قائد تھے، اور ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ اختلاف ہر دور میں ہوتا ہے، تاریخ پر بحث بھی ہوتی ہے، مگر یہ بات اکثر مخالف مؤرخین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے کردار میں وقار اور شرافت نمایاں تھی۔ انہوں نے جنگ لڑی، مگر ذاتی انتقام کو اپنی پہچان نہیں بنایا۔

شاید اسی لیے صدیوں بعد بھی ان کا ذکر صرف ایک فاتح کے طور پر نہیں بلکہ ایک بااخلاق سپہ سالار کے طور پر کیا جاتا ہے۔ کچھ نام طاقت سے زندہ رہتے ہیں، اور کچھ کردار سے۔ صلاح الدین کا نام ان چند لوگوں میں شامل ہے جن کے بارے میں دشمن بھی یہ مان لیتے ہیں کہ انہوں نے میدان میں تلوار کے ساتھ ساتھ ظرف بھی رکھا تھا۔

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ضرور بتائیے گا۔

پوسٹ اچھی لگے تو لائک اور شیئر ضرور کیجئے۔

دعا کا طالب

محمد عظیم حیات

لندن

#funpaaray #interesting #Amazing #unbelievable #history #Wow

Loading