Daily Roshni News

طوفان تکعالمگیر سراب کا انجام: پہلی جنگ عظیم سے مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ طوفان تک ۔تحریر۔۔۔بلال شوکت آزاد

عالمگیر سراب کا انجام: پہلی جنگ عظیم سے مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ طوفان تک – صیہونیت، معاشی خودکشی اور سلطنتوں کا زوال! – بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد )تاریخ کے اوراق جب بھی الٹے جاتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ عالمی بساط پر بچھائی گئی کوئی بھی جنگ محض چند دنوں یا مہینوں کے اشتعال کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے دہائیوں، بلکہ بسا اوقات صدیوں کی ایک منظم فکری اور تزویراتی (Strategic) منصوبہ بندی کارفرما ہوتی ہے۔

آج ہم مشرقِ وسطیٰ میں جس ہولناک تصادم، بارود کی بو اور معیشتوں کے گرنے کا تماشا دیکھ رہے ہیں، اسے سمجھنے کے لیے ہمیں آج کی خبروں سے نکل کر اس تاریخ کے تاریک راہداریوں میں اترنا ہوگا جہاں سے اس عالمی تباہی کا بیج بویا گیا تھا۔

بیسویں صدی کے آغاز کو دیکھیے۔

پہلی جنگ عظیم (World War I) محض زمین کے ٹکڑوں کی لڑائی نہیں تھی، بلکہ یہ سلطنتِ عثمانیہ سمیت صدیوں پرانی روایتی سلطنتوں کو توڑ کر ایک نیا عالمی ڈھانچہ تشکیل دینے کا خونی آغاز تھا۔

اس جنگ کے راکھ سے نام نہاد “بورڈ آف پیس” یعنی لیگ آف نیشنز نے جنم لیا، جس کا اصل مقصد دنیا میں امن قائم کرنا نہیں، بلکہ فاتحین کے قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنا تھا۔ اور پھر دوسری جنگ عظیم (World War II) کے بعد جس “ورلڈ آرڈر” (World Order) کی بنیاد رکھی گئی، وہ دراصل اس طویل المدتی منصوبے کا تسلسل تھا جس کی ڈوریاں پسِ پردہ ان مالیاتی اور اشکنازی (Ashkenazi) اشرافیہ کے ہاتھ میں تھیں جنہوں نے یہ ودیت جیسے الہامی مذہب کو ہائی جیک کر کے اسے ایک سیاسی اور استعماری ہتھیار، یعنی صی ہونیت (Zion-ism)، میں تبدیل کر دیا تھا۔

صی ہونیت کا یہ نظریہ کسی جغرافیائی سرحد تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ ایک “نیو ورلڈ آرڈر” (New World Order) کا خاکہ تھا جسے نائن الیون کے بعد “دہشت گردی کے خلاف جنگ” (War on Terror) کا لبادہ پہنا کر مشرق وسطیٰ پر مسلط کر دیا گیا۔

لیکن قدرت کا قانون ہے کہ جب استعمار اپنے تکبر کی انتہا کو پہنچتا ہے، تو اس کی تباہی کا سامان اسی کی پیدا کردہ خلیجوں سے جنم لیتا ہے۔ آج وہ عالمی نظام، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس اور ٹیکنالوجیکل برتری کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا، اپنی طبعی موت مر رہا ہے۔

اگر ہم حالیہ پاک، افغان، امریکہ، اس رائی ل اور ایران تنازعات کے پس منظر میں زمینی حقائق کا خالصتاً عسکری اور معاشی تجزیہ کریں، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ امریکی فوج اور اس کی دفاعی مشینری 21ویں صدی کی جنگ لڑنے کے لیے سرے سے ڈیزائن ہی نہیں کی گئی۔ ان کا سارا نظام سرد جنگ (Cold War) کی نفسیات پر کھڑا ہے جہاں طاقت کا زبردست مظاہرہ، بھاری بھرکم طیارہ بردار جہاز اور اربوں ڈالر کے ہتھیار دشمن کو مرعوب کرنے کے لیے کافی سمجھے جاتے تھے۔ لیکن آج کا میدانِ جنگ یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔

ایک طرف امریکہ کا وہ دفاعی نظام ہے جو انتہائی مہنگی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، اور دوسری طرف ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ (War of Attrition) کا وہ ماڈل ہے جسے ایران اور اس کے حلیفوں نے پچھلے بیس سالوں میں کمال مہارت سے تیار کیا ہے۔

ذرا اس ہولناک عدم توازن کو سمجھیے:

امریکہ کے ملین ڈالر مالیت کے میزائل ان ڈرونز کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی قیمت بمشکل پچاس ہزار ڈالر ہے۔ معاشی جنگ کے اس اصول میں فاتح وہ نہیں ہوتا جس کے پاس ٹیکنالوجی زیادہ ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جو دشمن کو معاشی طور پر خون بہانے (Bleed) پر مجبور کر دے۔

ایرانیوں نے اس تصادم کے لیے محض عسکری نہیں بلکہ اپنی مذہبی فکر اور نظریۂ آخرت (Eschatology) کے تحت ایک طویل تیاری کی ہے، جس میں انہوں نے امریکی سامراج کی نفسیات کو بخوبی ڈی کوڈ کر لیا ہے۔

یہ جنگ اب محض اس رائی ل یا امریکہ کی بقا کی جنگ نہیں رہی، بلکہ یہ پوری عالمی معیشت، خلیج کے پیٹرو ڈالر (Petrodollar) اور مصنوعی ذہانت (AI) کے اس بلبلے کے خلاف ایک کھلی یلغار ہے جس پر موجودہ امریکی معیشت کا انحصار ہے۔

غور کریں، خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک امریکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ وہ تیل بیچ کر جو ڈالر کماتے ہیں، وہی ڈالر امریکی اسٹاک مارکیٹ اور آج کل اے آئی کے ڈیٹا سینٹرز میں لگایا جا رہا ہے۔ ایران کی حکمتِ عملی براہِ راست اس شہ رگ پر وار کرنے کی ہے۔

اگر ہم خطے کی حساسیت کو دیکھیں تو خلیجی ممالک کی 60 فیصد سے زائد پانی کی فراہمی سمندری پانی کو صاف کرنے والے ڈی سیلینیشن پلانٹس (Desalination Plants) پر منحصر ہے۔

یہ ممالک قدرتی پانی کے ذخائر سے محروم ہیں۔ تصور کریں کہ اگر ایک سستا سا ڈرون ریاض یا دبئی جیسے گنجان آباد شہروں کے پانی کے پلانٹس کو نشانہ بنا دے، تو محض دو ہفتوں کے اندر یہ ماڈرن اور چمکتے دمکتے شہر پانی کی بوند بوند کو ترس جائیں گے۔

اسی طرح، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کی دھمکی محض ایک سیاسی بیان نہیں ہے۔ خلیجی ممالک کی 90 فیصد خوراک اور دنیا بھر کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی تنگ آبی گزرگاہ سے ہوتا ہے۔

ایران اس وقت سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے لیے ایک وجودی خطرہ بن چکا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے امریکہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ محض فضا سے بمباری کرنے کے بجائے اپنی زمینی افواج (Boots on the ground) مشرقِ وسطیٰ میں اتارے۔

تاریخ گواہ ہے کہ محض فضائی حملوں سے کبھی کسی ملک میں حکومت تبدیل (Regime Change) نہیں ہوتی، اس کے لیے پیدل فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن اگر امریکہ ایران میں زمینی فوج بھیجتا ہے، تو یہ اس کے لیے ویتنام اور افغانستان سے بھی بڑی دلدل ثابت ہوگا۔ امریکی عوام، جو پہلے ہی افراطِ زر اور اندرونی مسائل سے نالاں ہیں، کسی نئی جنگ کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟

کون سی طاقتیں ہیں جو اس خطے کو شعوری طور پر تباہی کے دہانے پر دھکیل رہی ہیں؟

اس کے پیچھے تین بنیادی اور ٹھوس وجوہات کارفرما ہیں، جنہیں سمجھے بغیر ہم اس عالمی بساط کو نہیں سمجھ سکتے۔

پہلی وجہ طاقت کا تکبر (Hubris) ہے۔ جب کوئی سلطنت اپنے عروج پر پہنچ کر یہ سمجھنے لگتی ہے کہ وہ ناقابلِ شکست ہے، تو وہ ایسی احمقانہ اور جلد باز غلطیاں کرتی ہے جو اس کے زوال کا سبب بنتی ہیں۔

دوسری وجہ خالصتاً اندرونی اور ذاتی سیاسی مفادات ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کے لیے جنگ ہمیشہ ایک منافع بخش کاروبار رہی ہے۔ امریکی انتخابات کے تناظر میں، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سیاسی ہمدردیاں سمیٹنے اور ہنگامی اختیارات حاصل کرنے کا ایک بہترین ٹول ہے۔ پسِ پردہ ہونے والی کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، جیسے کہ خلیجی ممالک کی جانب سے مخصوص امریکی سیاسی خاندانوں کے فنڈز میں کی جانے والی اندھی انویسٹمنٹ، اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگی پالیسیاں قومی مفاد سے زیادہ ذاتی تجوریوں کو بھرنے کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔

لیکن ان سب سے خطرناک اور گہری تیسری وجہ وہ نظریہِ آخرت اور خفیہ طاقتوں کا گٹھ جوڑ ہے جسے عام انسان سازشی نظریہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔

عالمی سطح پر منظرِ عام پر آنے والے مختلف اسکینڈلز (جیسے ایپسٹین فائلز) اور تزویراتی لیکس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس ورلڈ آرڈر کو چلانے والی اشرافیہ محض سرمائے کی پجاری نہیں، بلکہ وہ مخصوص خفیہ سوسائٹیوں (جیسے فری میسنز، الومیناتی، اور سباطین فرینکسٹ) کے باطنی اور تاریک فلسفوں پر عمل پیرا ہے۔

ان کے نزدیک مشرقِ وسطیٰ میں ایک ہولناک تباہی اور افراتفری (Chaos) پیدا کرنا اس “مسیحائی عہد” (Messianic Era) کے آغاز کے لیے ناگزیر ہے جس کا خواب صی ہونیت نے صدیوں پہلے دیکھا تھا۔

آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں، یہ امریکی ناقابلِ شکست ہونے کے تاثر کے خاتمے کا آغاز ہے۔

یہ محض ایک جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ پیٹرو ڈالر کی بالادستی اور امریکی ریزرو کرنسی کے اس جادو کے ٹوٹنے کی علامت ہے جس نے دنیا کو غلام بنا رکھا تھا۔

دنیا اب ایک کثیر قطبی نظام (Multipolar World) کی طرف تیزی سے لڑھک رہی ہے، جہاں پرانی سلطنتیں اپنے ہی تکبر اور قرضوں کے بوجھ تلے دفن ہو رہی ہیں، اور ایک نیا نظام خون اور آگ کے اس سمندر سے جنم لینے کے لیے بے قرار ہے۔

یہ تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں کمزوروں کے لیے کوئی معافی نہیں، اور اگر ہم نے اب بھی ان عالمی حقائق کا ادراک نہ کیا، تو تاریخ ہمیں بھی ان مٹی کے ڈھیروں میں شمار کرے گی جن کا آج کوئی نام لیوا نہیں۔

نوٹ: تحریر میں کچھ نکات پروفیسر جیانگ شوئے چھِن (Jiang Xueqin) کے تجزیئے سے ماخوز ہیں۔

(پروفیسر جیانگ شوئے چھِن (Jiang Xueqin) – چینی نژاد کینیڈین ماہرِ تعلیم، مصنف اور جیوپولیٹیکل تجزیہ کار؛ یوٹیوب چینل Predictive History کے بانی و میزبان۔ ییل کالج سے انگریزی ادب میں بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں)

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

Loading