Daily Roshni News

ظالم  بادشاہ کا انجام

ظالم  بادشاہ کا انجام

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انترنیشنل )بہت پرانے زمانے کی بات ہے کہ ملک ایران پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام جمشید تھا۔ اس کی حکومت انسانوں، چرند و پرند اور تمام مخلوقات پر تھی۔ چھ سو برس تک اس نے بڑی انصاف اور خوشحالی کے ساتھ حکومت کی۔

لیکن چھ سو برس حکومت کرنے کے بعد اس نے ایک دن دربار میں ڈینگ ماری کہ اس کی شان و شوکت اس کی اپنی عقل و حکمت کی وجہ سے ہے۔ اس نے دیوتاؤں کو کریڈٹ دینے سے انکار کر دیا۔ دیوتا یہ سن کر ناراض ہو گئے اور اس کی سلطنت میں جابجا بغاوتیں شروع ہو گئیں۔

اسی دوران ایک ظالم بادشاہ پیدا ہوا جس کا نام ضحاک تھا۔ ضحاک کا باپ مرداس نامی ایک رعیت پرور بادشاہ تھا، جو بہت نیک اور انصاف پسند تھا۔ لیکن ضحاک شریر اور مفسد تھا۔ شیطان نے ضحاک کو بہکایا اور اسے اپنا باپ مار کر بادشاہ بننے کا مشورہ دیا۔

شیطان نے ایک باغ میں ایک گہرا گڑھا کھودا جہاں شاہ مرداس صبح اندھیرے میں سیر کرنے جاتا تھا۔ مرداس اس گڑھے میں گر کر مر گیا اور ضحاک بادشاہ بن گیا۔

ضحاک بادشاہ بنتے ہی انتہائی ظلم و ستم شروع کر دیا۔ اس نے لوگوں پر بے پناہ ٹیکس لگائے، ان کی جائیدادیں چھینیں، اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا تھا، اسے قتل کر دیا جاتا تھا۔ لوگ اس کے ظلم سے تنگ آ چکے تھے، لیکن کوئی اس کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔

ضحاک نے شیطان کو اپنا مشیر بنا لیا تھا۔ شیطان نے اسے بتایا کہ اس کے دونوں کندھوں پر دو سانپ پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ سانپ مسلسل اسے کاٹتے رہتے تھے۔ ضحاک نے شیطان سے پوچھا کہ اس کا علاج کیا ہے۔ شیطان نے کہا کہ اس کا واحد علاج یہ ہے کہ روزانہ دو انسانوں کے دماغ ان سانپوں کو کھلائے جائیں۔

چنانچہ ضحاک نے حکم جاری کر دیا کہ روزانہ دو جوان اس کے لیے قربان کیے جائیں۔ لوگ اس ظلم سے بے حال ہو گئے۔ ہر روز دو بے گناہ جوان مارے جاتے تھے۔

اس ظلم و ستم کے خلاف ایک شخص نے آواز اٹھائی۔ اس کا نام کاوہ تھا، جو ایک لوہار تھا۔ کاوہ نے اپنے بیٹوں کو اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں قربان ہوتے دیکھا تھا۔ اس کے دل میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔

ایک دن کاوہ نے اپنی لوہے کی دکان سے ایک بڑا نیزہ اٹھایا اور اپنے غصے کو قابو کرتے ہوئے شہر کی طرف بڑھا۔ راستے میں بہت سے لوگ اس کے ساتھ شامل ہوتے گئے۔ جو لوگ ضحاک کے ظلم سے تنگ آ چکے تھے، وہ سب کاوہ کے ساتھ ہو گئے۔

کاوہ نے شہر کے مرکز میں پہنچ کر اعلان کیا، “اے لوگو! یہ ظالم بادشاہ ہمیں تباہ کر رہا ہے۔ ہمیں اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اللہ ظالموں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا۔”

لوگوں نے کاوہ کا ساتھ دیا۔ انہوں نے مل کر ضحاک کے محل کا محاصرہ کر لیا۔ ضحاک نے جب یہ دیکھا تو وہ بھاگ کر ایک غار میں چھپ گیا۔ کاوہ اور اس کے ساتھیوں نے اسے ڈھونڈ نکالا اور اسے قید کر لیا۔

کاوہ نے عدل و انصاف کی حکومت قائم کی۔ اس نے تمام ظالموں کو سزا دی اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے۔ ایران کے لوگوں نے کاوہ کو اپنا ہیرو بنا لیا اور اس کی قیادت میں امن و خوشحالی کا دور شروع ہوا۔

یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کا خاتمہ ضرور ہوتا ہے۔ حق اور صداقت کی جیت ہوتی ہے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔

اخلاقی سبق: ظلم کی جڑیں اگرچہ گہری ہوں، لیکن ان کا خاتمہ ضرور ہوتا ہے۔ حق و صداقت ہمیشہ غالب رہتی ہے، اور مظلوم جب اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو ظالم کا کوئی بول بالا نہیں ہوتا۔

حوالہ:

یہ کہانی ویب سائٹ “humsub.com.pk” پر “ظالم بادشاہ ضحاک اور کاوہ لوہار کی کہانی” کے عنوان سے موجود ہے ۔ یہ فارسی اساطیر کی ایک مشہور کہانی ہے جو ایران کی قومی شناخت کا حصہ ہے۔

Loading