ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیو ز انٹرنیشنل )قدیم یونان کے شہر ایتھنز میں ایک ایسا شخص گزرا ہے جس کے ہاتھوں میں جادو تھا۔ اس کا نام تھا ڈیڈیلس۔ وہ لکڑی، پتھر اور دھات کا ایسا ماہر تھا کہ لوگ کہتے تھے: “دیوتاؤں نے اسے خاص تحفہ دیا ہے۔” وہ پہلا شخص تھا جس نے چیزوں کو گوند سے جوڑنا سیکھا۔ اس نے مجسمے بنائے جو خود چلتے پھرتے تھے، اس نے ایسی مشینیں بنائیں جو پانی اٹھا لے جاتی تھیں، اس نے تعمیر کے ایسے راز دریافت کیے جو آج بھی معماروں کو حیران کر دیتے ہیں۔
ایتھنز کے لوگ اسے “عظیم کاری گر” کہتے تھے۔ بادشاہ اسے اپنے محل بلاتا، شہزادے اس سے فن سیکھتے، اور عام لوگ اس کے کام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ ڈیڈیلس کو اپنی مہارت پر بہت فخر تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس جیسا کوئی نہیں۔
ڈیڈیلس کی ایک بہن تھی جس کا نام تھا پولی کاسٹی۔ اس کا ایک بیٹا تھا پرڈکس۔ جب پرڈکس جوان ہوا تو اس کی ماں نے اسے ڈیڈیلس کے پاس بھیج دیا تاکہ وہ اس سے فن سیکھے۔
ڈیڈیلس نے بھتیجے کو اپنے ساتھ کام کرنے کے لیے رکھ لیا۔ پہلے دن اس نے پرڈکس سے کہا: “دیکھ، یہ ہتھوڑا ہے، یہ چھینی ہے، یہ آرہ ہے۔ پہلے یہ سیکھ، پھر آگے بڑھ۔”
پرڈکس نے سر جھکا کر کہا: “جی چچا، میں سیکھوں گا۔”
لیکن ڈیڈیلس نے دیکھا کہ یہ لڑکا عام نہیں ہے۔ وہ جس چیز کو ایک بار دیکھ لیتا، اسے فوراً سمجھ جاتا۔ وہ جس کام کو ایک بار کر کے دکھاتا، پرڈکس اسے بہتر بنا دیتا۔
ایک دن ڈیڈیلس نے پرڈکس کو جنگل میں چھینی اور ہتھوڑا لے کر جانے کا کہا۔ پرڈکس جنگل گیا۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ ایک مچھلی کی ریڑھ کی ہڈی سڑک پر پڑی ہے لمبی، سخت، کناروں پر دانتے ہوئے۔ اس نے اسے اٹھایا، لکڑی کے ایک ٹکڑے پر رگڑا — لکڑی کٹنے لگی۔ وہ دوڑتا ہوا ڈیڈیلس کے پاس آیا۔
“چچا! دیکھو، میں نے ایک چیز بنائی ہے۔ اس سے لکڑی آسانی سے کٹ جاتی ہے۔”
ڈیڈیلس نے اس آلے کو دیکھا۔ اس نے پہچان لیا — یہ آری تھی۔ اس نے خود کبھی ایسی چیز نہیں دیکھی تھی۔ اس کے دل میں پہلی بار جلن ہوئی۔
اس نے خشک لہجے میں کہا: “اچھا ہے۔ اب کام پر لگ جاؤ۔”
پرڈکس نے آری بنا کر اپنی مہارت کا لوہا منوا لیا تھا۔ لیکن وہ یہیں نہیں رکا۔
ایک دن وہ سمندر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ پرندے درختوں کے تنوں میں سوراخ کر رہے ہیں — اپنی چونچ سے۔ اس نے سوچا: “اگر میں ایک ایسی چیز بنا لوں جو لکڑی میں سوراخ کر سکے، تو کتنا اچھا ہو گا۔”
اس نے ایک پتلی لوہے کی چھڑی کو تراش کر اس کا سرا تیز کیا، اور اسے لکڑی کے ہتھے میں جڑ دیا۔ یہ تھی چھینی (چھینی)۔ اس سے لوگ آسانی سے لکڑی میں سوراخ کرنے لگے۔
پھر اس نے کمہار کا پہیہ ایجاد کیا۔ اس سے پہلے لوگ مٹی کے برتن ہاتھ سے بناتے تھے — ایک برتن بننے میں گھنٹوں لگ جاتے تھے۔ پرڈکس نے ایک چکّر بنایا جسے پاؤں سے گھمایا جا سکتا تھا۔ اس پر مٹی رکھ کر، پاؤں سے چکّر گھماتے ہوئے، ہاتھوں سے برتن کو شکل دی جاتی تھی۔ اب ایک برتن منٹوں میں بن جاتا تھا۔
پرڈکس کی شہرت پورے ایتھنز میں پھیل گئی۔ لوگ کہنے لگے: “ڈیڈیلس کا بھتیجا اس سے بھی بڑا کاری گر ہے۔”
جب ڈیڈیلس نے یہ سنا تو اس کا دل جلنے لگا۔ وہ رات کو سو نہ سکا، دن کو کھانا نہ کھا سکا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے صرف ایک خیال آتا تھا — “یہ لڑکا مجھ سے آگے نکل جائے گا۔ لوگ مجھے بھول جائیں گے۔ صرف اس کا نام ہو گا۔”
اس نے اپنے دل میں کہا: “میں نے ساری عمر محنت کی، میں نے فن کے راز دریافت کیے، میں نے بادشاہوں کے محل بنائے اور اب یہ بچہ میرا نام مٹا دے گا؟”
حسد نے اسے اندھا کر دیا۔
ایک دن وہ پرڈکس کو لے کر ایتھنز کی اونچی پہاڑی ایکروپولیس پر گیا۔ وہاں سے نیچے گہری کھائی تھی۔ اس نے پرڈکس کو کنارے پر کھڑا کیا اور کہا: “دیکھ، وہاں نیچے کیا چمک رہا ہے؟”
جب پرڈکس نے جھک کر دیکھا تو ڈیڈیلس نے اسے دھکا دے دیا۔
پرڈکس گر رہا تھا۔ اس نے چلایا: “چچا! کیوں؟”
لیکن ڈیڈیلس نے منہ پھیر لیا۔
پرڈکس نیچے گر رہا تھا کہ دیوی ایتھینا (عقل اور فن کی دیوی) نے اسے دیکھ لیا۔ وہ اس کی بے گناہی جانتی تھی، اس کی مہارت جانتی تھی، اس کی محنت جانتی تھی۔ اس نے اس پر رحم کھایا۔
اس نے پرڈکس کو ایک پرندے میں بدل دیا بٹیر (Partridge)۔ پرڈکس اڑ گیا۔ وہ گہری کھائی سے اوپر آیا، اور آسمان میں اڑنے لگا۔
لیکن اسے ڈر تھا — اونچائی سے ڈر تھا۔ وہ کبھی اونچا نہیں اڑتا تھا، زمین کے قریب ہی رہتا تھا۔ اور وہ ہمیشہ درختوں کی شاخوں پر بیٹھتا، اپنے گھونسلے زمین کے قریب بناتا۔
کہتے ہیں کہ آج بھی بٹیر اونچا نہیں اڑتا اسے وہ دھکا یاد ہے۔
ایتھنز کے لوگوں کو پرڈکس کی گمشدگی کا پتہ چلا۔ انہوں نے ڈیڈیلس سے پوچھ گچھ کی۔ ڈیڈیلس نے جھوٹ بولا، لیکن دیوی ایتھینا نے لوگوں کو سچ بتا دیا۔
لوگ غصے میں آ گئے۔ انہوں نے کہا: “تم ایک عظیم کاری گر ہو، لیکن تمہارا دل بہت چھوٹا ہے۔ تم نے اپنے بھتیجے کو قتل کیا کیونکہ تمہیں ڈر تھا کہ وہ تم سے بڑا بن جائے گا۔ یہ بزدلی ہے، بہادری نہیں۔”
ڈیڈیلس کو ایتھنز سے ملک بدر کر دیا گیا۔ اسے ہمیشہ کے لیے نکال دیا گیا۔ وہ اپنا گھر، اپنا شہر، اپنی شہرت — سب کچھ کھو بیٹھا۔
وہ ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ہوا اور سمندر میں نکل گیا۔ وہ جزیرے کریٹ پر پہنچا۔ وہاں بادشاہ مائنوس نے اسے پناہ دی۔ لیکن ڈیڈیلس کا دل کبھی سکون میں نہ آیا۔ اسے رات کو پرڈکس کی آواز سنائی دیتی — وہ آواز جو گرتے وقت نکلی تھی: “چچا! کیوں؟”
کریٹ کے بادشاہ مائنوس نے ڈیڈیلس سے ایک بھول بھلیاں (Labrynth) بنوائی، ایک ایسی بھول بھلیاں کہ جس میں سے کوئی نکل نہ سکے۔ اس کے اندر آدھا انسان آدھا بیل مائنو ٹار رہتا تھا۔
لیکن جب ڈیڈیلس کو پتہ چلا کہ بادشاہ اسے قید رکھنا چاہتا ہے تو اس نے اپنے بیٹے آئیکارس کے لیے پنکھ بنائے موم اور پرندوں کے پروں سے۔ وہ دونوں اڑ کر وہاں سے نکل گئے۔ لیکن آئیکارس بہت اونچا اڑ گیا، سورج کی گرمی سے موم پگھل گیا، اور وہ سمندر میں گر کر مر گیا۔
ڈیڈیلس نے اپنا بیٹا کھویا۔ وہ تنہا رہ گیا۔
کہتے ہیں کہ وہ بہت بوڑھا ہو کر اپنی موت مرا۔ جب وہ مرنے لگا تو اس کی آخری آواز تھی: “میں نے اپنا سب کچھ کھو دیا شہرت، گھر، بھتیجا، بیٹا۔ سب کچھ۔”
اخلاقی سبق
یہ کہانی ہمیں چار بڑے سبق دیتی ہے:
-
حسد خود کو تباہ کر دیتا ہے — ڈیڈیلس نے پرڈکس سے حسد کیا۔ اس نے اسے قتل کر دیا، اور اس کے بدلے اس نے سب کچھ کھو دیا — اپنا گھر، اپنا شہر، اپنی عزت۔
-
مہارت بانٹنے سے بڑھتی ہے، کم نہیں ہوتی — ڈیڈیلس نے سوچا کہ اگر پرڈکس بڑا کاری گر بن گیا تو اس کی شہرت کم ہو جائے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شاگرد استاد سے بڑھ جاتا ہے تو استاد کی شہرت بڑھتی ہے، کم نہیں ہوتی۔
-
انسان کی اصلی خوبی اس کے دل میں ہوتی ہے، ہاتھوں میں نہیں — ڈیڈیلس کے ہاتھ تو جادو تھے، لیکن اس کا دل چھوٹا تھا۔ پرڈکس کے ہاتھ بھی جادو تھے، اور اس کا دل بھی بڑا تھا۔ اسی لیے دیوی نے اسے بچایا۔
-
ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے — ڈیڈیلس نے ظلم کیا تو اسے سزا ملی۔ وہ تنہا مرا، بے نام، بے گھر۔
حوالہ
یہ کہانی یونانی اساطیر (Greek Mythology) کا حصہ ہے۔ اسے “Daedalus and Perdix” (یا “Daedalus and Talos”) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کہانی پہلی بار رومی مصنف اووید (Ovid) کی کتاب “Metamorphoses” (تبدیلیاں) میں ملی، جسے 8 عیسوی کے لگ بھگ لکھا گیا۔
یہ کہانی صدیوں سے فنکاروں، موجدوں اور شاگردوں کو حسد اور غرور کے خلاف خبردار کرنے کے لیے سنائی جاتی رہی ہے۔
![]()

