عارفانہ کلام
تسبیح
میرا دل کرتا ہے ہر دم تیرے، خیال کی تسبیح
میری نس نس میں ہوتی ہے تیرے، جمال کی تسبیح
نہ تسبیح میں کوئی دانہ ہے
نہ ہاتھوں سے گھمانا۔ ہے
دَما دَم ہوتی رہتی ہے، یہ ہے، کمال کی تسبیح
یہ ہے اِخلاص کی تسبیح
ذِکرِ اَنفَاس۔ کی تسبیح
ہوتی ہے دل کے حُجرے میں سدا اِک، تال کی تسبیح
۔مٹی کا بت بنایا ہے
خود کو ا س میں چھپا یا ہے
شکل آ دم میں کی، بے شکل نے، اشکال کی تسبیح
رُخِ انوار کی تسبیح
زُلفِ خَم٘دَار کی تسبیح
نرگسی آنکھوں کے ڈوروں کے،رنگ لال کی تسبیح
تیرے پیکر کی یہ لوچیں
یہ گوشے، زاویئے، قوسیں
ہے کتنی خوبصورت تیرے خدو خال کی تسبیح
وفائے یار کی تسبیح
جفائے یار کی تسبیح
کبھی خوشحال کی، تسبیح، کبھی، ملال کی تسبیح
چال کیا ہے ستاروں کی
غمِ فُرقت کے ماروں کی
نکالو میری قسمت کی بھی، کبھی فال کی تسبیح
چھوڑ دو خود نمائی کو
غیر کی،۔ آ شنائی کو
کرو تم دل کی تسبیح ،چھوڑو قِی٘ل و قَال کی تسبیح
لوگوں کو گھیر لیتی ہے
پھر نظر، پھیر لیتی ہے
نظر بازوں کی نظروں کے سُنہرے، جال کی تسبیح
نہ ساقی ہے نہ مئے خانہ
نہ ساغر ہے نہ پیمانہ
چڑھی ہے نظروں کو، نظروں کے، انتقال کی تسبیح
کہاں اب میری ہستی ہے
ہر طرف اس کی بستی ہے
ہوتی ہے میری سانسوں میں، اس کی، دھمال کی تسبیح
نظر بھی خود ہے، ناظر بھی
پوشیدہ بھی ہے، ظاہر۔ بھی
کبھی ہے ہِجر کی تسبیح، کبھی، وِصال کی تسبیح
نماز عشق کی تسبیح
اعجاز عشق کی تسبیح
عم عقبی سے یہ پناہ کی ہے، ڈھال کی تسبیح
یہ تسبیح تو شا ہانی ہے
چمک اس کی نورانی ہے
یہ ہے الماس کی تسبیح، یاقوت و لعل کی تسبیح
تو شیشہ میں تیرا عکس
تو ہے دل میں محو رقص
میرے سینے میں ہوتی ہے تیرے، اقوال کی تسبیح
اپنی خاموشیاں توڑو
اب یہ رُو پُوشِیاں چھوڑو
خبر کچھ لیجئے گا،یاروں کے، احوال کی تسبیح
نہ تم اتنا بھی ا تراو
نہ حد سے آ گے تم جاؤ
نہ جانے کس گھڑی پھر ہو شروع، زوال کی تسبیح
محبت اپنا شیوہ ہے
یہ سب سے،میٹھا میوہ ہے
محبت میں نہیں چلتی، یہ زر و مال، کی تسبیح
مٹے ہستی ہے، پھر ، ملتا
کٹے سَر، تو ہے، سِر ، ملتا
یہ خونی تسبیح ہے، کر بلا کے، قَتَّال کی تسبیح
عشق منصور کا۔ نعرہ
عشق سرمد کا نَقَّارہ
یہ تسبیح نُوکِ نیزہ پہ، علی کے، لال کی تسبیح
اندھیرا بھی اجالا ہے
روشنی کا۔ حوالہ ہے
اس کے محور سے بنتی ہے یہ ماہ و سال کی تسبیح
عشق کا راز گہرا ہے
یہ اندھا، گونگا، بہرا ہے
ہے چلتی چال الٹی، عشق کی، چال کی تسبیح
تیرے ذِکر و تَفَکُّر سے
تیرے حُسنِ تصور سے
سدا رہتی ہے میری قَلب و جاں، نِہاَل کی تسبیح
اندھیرا رُوشنائی ہے
اس میں جلوہ آ رائی ہے
اس میں خود کرتا ہے رب، اپنے ہی، جلال کی تسبیح
بتاؤں کیا وہ کیسا ہے
جیسا بھی سوچو ویسا ہے
نہ کوئی مِثل اس کی نہ کوئی، مثال کی تسبیح
ذرہ ذرہ کرے ثنا
اس کی ہر پتے میں صدا
ذکر کرتا ہے ہر ہر پھول ہر ہر، ڈال کی تسبیح
ہواؤں میں، فضاؤں میں
خلاؤں، کہکشاؤں۔ میں
ہوتی ہے چار سو اس رب ذُوالجلال کی تسبیح
ہے دل میں طور کا جلوہ
خدا کے نور ، کا۔ جلوہ
یہ تسبیح تو ہے، دیدِ مُوسی کے، سوال کی تسبیح
درود اک سرود ہے
دل کے اندر موجود ہے
رب ہے کرتا، نبی کی، اور ان کی، آ ل کی تسبیح
یہ تسبیح دل میں ہوتی ہے
یہ تسبیح نور کا موتی ہے
یہ تسبیح تو ہے، قُطب و صُوفی و ابدال کی تسبیح
تو خود جنت ہے دوزخ ہے
تو خود،پردہ ہے، برزخ ہے
یہ تسبیح ہے، تیرے اپنے ہی، اعمال کی تسبیح
یہ تسبیح حق ادا کر دے
یہ بندے کو خدا کر دے
یہ کیف و مستی کی تسبیح، یہ وجد و حال کی تسبیح
مقدر کی نہ قسمت کی
بات ساری ہے نسبت کی
کرتی ہے آ دمی کو نسبت، مالا مال کی تسبیح
نظر ان کی، سلامت ہے
پینے میں، کیا ملامت ہے
نظامی کرتا ہے اس شاہ ء خوشخصال کی تسبیح
ناصر نظامی
گولڈ میڈلسٹ
ا یمسٹرڈم ہالینڈ
![]()

