عالمی یوم خواتین مبارک ہو
نوجوان خاتون سے
حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا
خود اپنے حسن کو پردہ بنا لیتی تو اچھا تھا
تیری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہے
تو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا
تیری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میں
اسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھا
یہ تیرا زرد رخ یہ خشک لب یہ وہم یہ وحشت
تو اپنے سر سے یہ بادل ہٹا لیتی تو اچھا تھا
دل مجروح کو مجروح تر کرنے سے کیا حاصل
تو آنسو پونچھ کر اب مسکرا لیتی تو اچھا تھا
تیرے زیر نگیں گھر ہو محل ہو قصر ہو کچھ ہو
میں یہ کہتا ہوں تو عرض و سما لیتی یو اچھا تھا
اگر خلوت میں تو نے سر اٹھایا بھی تو کیا حاصل
بھری محفل میں آ کر سر جھکا لیتی تو اچھا تھا
تیرے ماتھے کا ٹیکہ مرد کی قسمت کا تارا ہے
اگر تو ساز بیداری اٹھا لیتی تو اچھا تھا
عیاں ہیں دشمنوں کے خنجروں پر خون کے دھبے
انہیں تو رنگ عارض سے ملا لیتی تو اچھا تھا
تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
اسرار الحق مجاز
![]()

