Daily Roshni News

عزیز میاں قوال_۔

عزیز میاں قوال_۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مقامی روایت کے مطابق عزیز میاں قوال بابا طوطاں والی سرکارؒ کے مرید تھے، اپنے پیر سے بے حد عقیدت رکھتے تھے، اور انہوں نے اپنی زندگی میں خواہش ظاہر کی تھی کہ وفات کے بعد انہیں اپنے مرشد کے قدموں میں دفن کیا جائے۔ یہی وجہ بیان کی جاتی ہے کہ آج ان کی قبر بابا طوطاں والی سرکارؒ کے مزار کے احاطے میں موجود ہے، جہاں عقیدت مند دونوں ہستیوں کے لیے فاتحہ پڑھتے ہیں۔ اس تعلق کے بارے میں مقامی سطح پر وسیع شہرت ہے، تاہم اس کی تفصیلی تاریخی دستاویزات محدود ہیں۔

عزیز میاں قوال صرف ایک فنکار نہیں تھے بلکہ اپنے منفرد انداز، وجد آفریں کلام اور صوفیانہ پیغام کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی قوالیوں میں عشقِ رسول ﷺ، اولیائے کرام سے محبت اور معرفتِ الٰہی کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے، اور ان کی یہی روحانی وابستگی انہیں اپنے مرشد بابا طوطاں والی سرکارؒ سے جوڑتی ہے۔

اگر آپ کبھی اس مزار پر جائیں تو ایک طرف روحانی سکون محسوس ہوتا ہے اور دوسری طرف یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں پاکستان کے عظیم ترین قوالوں میں سے ایک اپنے مرشد کے پہلو میں آسودۂ خاک ہیں۔

ملتان کی یہی تو خوبصورتی ہے کہ یہاں تاریخ، روحانیت، محبت اور فن ایک ہی مقام پر مل جاتے ہیں…

Loading