بسم اللہ الرحمن الرحیم
عشق زاد قسط 1
نازیہ کامران صاحبہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )”اللہ اکبر! اللہ اکبر!”چولستان کی فضا اذان کی آواز سے معطر ہوئی تھی۔۔۔ شاہ میر کی آنکھ کھل گئ۔ وہ ہمیشہ سے ہی اذان کی آواز پر اٹھنے کا عادی تھا ۔ وہ آنکھیں مسلتا بیڈ سے اترا اور کمرے سے ملحقہ ٹیرس پر آگیا ۔ حویلی کے وسیع صحن پر نظر پڑتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔۔ ماں جی حسب معمول اپنے تخت پر قرآن کی تلاوت میں مشغول تھیں ۔ اس نے ان کے پر نور چہرے کو آنکھوں میں جذب کیا ۔۔۔۔ اور اسی لمحے ماں جی نے اسے نظر اٹھا کر دیکھا تھا ان کے چہرے پر پیار بھری مسکراہٹ ابھری۔ اور وہ دوبارہ قرآن کی طرف متوجہ ہوگئیں۔۔۔ ویسے بھی وہ اسے نظر بھر کر نہیں دیکھتی تھیں ۔۔۔۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں ان کے بیٹے کو ان کی اپنی ہی نظر نہ لگ جائے ۔ شاہ میر نے ان سے نظریں ہٹا کر اطراف میں نظریں دوڑائیں۔۔۔ نوکر چاکر صحن دھونے میں مصروف تھے ۔۔۔ ایک طرف خادمائیں چادر پھیلاۓ ساگ کا ڈھیر کاٹنے میں مصروف تھیں ۔۔۔۔ اس کی نظریں صحن سے ہوتے ہوئے حویلی کے باہر ٹھہر گئیں ۔ اکرم گاڑیاں دھلوا رہا تھا۔۔۔۔۔ اچانک ماحول میں وہ مانوس سی سیٹی کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔ اس نے اکرم کو باقاعدہ اچھلتے دیکھا اور ہنس پڑا۔۔۔۔ حویلی کے بائیں طرف پھیلا وہ ڈیراور کا قلعہ اس ملگجے اندھیرے میں بھی روشن روشن سا لگتا تھا۔۔۔ یہ مانوس سی سیٹی ہر صبح اس طرف سے ہی سنائی دیتی تھی گو کہ حویلی سے قلعے تک کا فاصلہ اچھا خاصا تھا مگر اس سیٹی کی گونج دور دور تک سنی جاسکتی تھی اور کیونکہ وہاں کسی کی رہائش نہیں تھی اس لئے سب جانتے تھے کہ یہ انسانی آواز نہیں ہوسکتی وہ لوگ تو یہاں سالوں سے آباد تھے اس لیے انہیں کبھی گھبراہٹ محسوس نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ اس سے مانوس ہو چکے تھے مگر اکرم ہمیشہ ہی ڈر جاتا تھا ۔۔۔۔۔ وہ اس منظر سے محظوظ ہوتا پلٹ کر وضو بنانے کے لئے کمرے میں واپس آگیا۔ وضو کر کے نیچے اترا تو صحن دھل چکا تھا۔۔۔ ماں جی بھی تخت سے اتر کر نماز ادا کرنے چل دیں تھیں۔۔۔۔ ملازموں کو ہدایت تھی کہ فجر سے پہلے پہلے گھر کی صفائی ہو جانی چاہیے اور گھر کے ملازموں کو بھی نماز کی پابندی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔۔ نماز سے فارغ ہوکر وہ سب ناشتے کی تیاری میں مصروف ہو جاتی تھیں۔
وہ صحن سے گزرتا ہوا باہر نکل آیا۔۔۔۔ گیٹ سے باہر نکلا تو اکرم گاڑی سٹارٹ کئے تیار بیٹھا تھا۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ کے برابر والی سیٹ پر جا بیٹھا اور گاڑی مسجد کی طرف روانہ ہوگئی تھی ۔ جاتی سردیوں کی صبح تھی اور رات کو پڑی اوس نے ماحول کو خوابناک بنایا ہوا تھا ۔۔۔ وہ گاڑی کا شیشہ کھول کر مٹی کی تازہ خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا۔۔ چولستان کے مور بھی اپنے رب کی حمد و ثنا کر رہے تھے ۔۔۔۔ اکرم نے خاموشی سے اس پر نظر ڈالی اور مسجد کی قریب پہنچ کر گاڑی روک دی۔ یہ مسجد قلعہ ڈیراور کے سامنے بنی جھیل کے دوسرے کنارے پر واقع تھی۔۔۔۔ وہ دونوں نیچے اتر کر مسجد میں داخل ہوگئے تھے ۔ بابا جان اور باقی لوگوں کی گاڑیاں وہاں پہلے سے موجود تھیں۔۔ وہ شاید شاہ صاحب کا کوئی بیان سننے کے لیے پہلے سے آموجود ہوئے تھے ۔ مسجد کے اندر داخل ہوتے ہی اس کا اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا وہ سارے وہیں موجود تھے ۔ جماعت کھڑی ہو رہی تھی وہ پچھلی صف میں ہی کھڑا ہو گیا اور نماز ادا کرتے ہی وہ خاموشی سے بابا جان کے ساتھ جا بیٹھا انہوں نے ایک نظر اس پر ڈالی اور شاہ صاحب کے بیان کی طرف متوجہ ہوگئے ۔ آدھے گھنٹے کے بعد وہ سب مسجد سے باہر آئے تھے اور اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہوکر واپس حویلی کی طرف چل پڑے تھے وہ آٹھ لینڈ کروزرز ایک ساتھ حویلی کے گیٹ پر رکی تھیں۔
بابا جان، بڑے اور چھوٹے چچا جان، پھوپھا جان اور اسکے کزنز اتر کر حویلی میں داخل ہوگئے تھے۔۔۔ وہ گاڑی سے اتر کر اکرم کی طرف مڑا
“آجاؤ ساتھ ناشتہ کریں گے” وہ نرمی سے کہہ کر حویلی میں داخل ہوگیا اور اکرم سر ہلاتا گاڑی پارک کرنے لگا ۔ اکرم پچھلے پانچ سالوں سے ان کی حویلی میں ڈرائیور تھا۔۔۔ اکرم سے پہلے اس کے بابا بیس سال سے حویلی میں ڈرائیور رہ چکے تھے اور ان کی بیماری کے بعد ان کے بیٹے کو یہاں رکھ لیا گیا تھا مگر اکرم ڈرائیور کم اور شاہ میر کا دوست زیادہ تھا۔۔۔۔ ان کا زیادہ وقت ساتھ ہی گزرتا تھا پھر چاہے وہ شکار ہو یا کوئی سیر سپاٹا ۔۔۔۔۔ حویلی میں مخصوص چہل پہل شروع ہوچکی تھی ۔ شاہ میر اس طویل صحن سے ہوتا ہوا ڈائننگ روم میں داخل ہوگیا جہاں وہ 40 کرسیوں والی عظیم الشان ڈائننگ ٹیبل لگی تھی۔۔۔ گھر کی خواتین بھی وہیں موجود تھی ۔ حویلی میں کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی اور یہاں سب کو یکساں حقوق حاصل تھے ۔ یہاں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی اعلی تعلیم پر بھی زور دیا جاتا تھا۔۔۔ ہاں مگر ایک چیز جس پر ان کی سختی کی جاتی تھی وہ تھی دینی تعلیم اور نماز کی پابندی ۔ یہاں کے بچوں کو بچپن سے ہی علی الصبح بیدار کر دیا جاتا تھا ۔ اور گھر کے بڑے تو شاید فجر سے بھی پہلے اٹھ جاتے تھے وہ سب تہجد گزار تھے اور ایسا نہیں تھا کہ یہ دین صرف دکھاوے کا تھا ان کے گھر کے بڑوں نے دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کا بہترین راستہ اختیار کیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ چولستان کے وسط میں واقع یہ عظیم الشان حویلی دور سے ہی لوگوں کو دمکتی نظر آجاتی تھی ۔ آس پاس کی زمین اور زمینوں پر کام کرنے والے لوگوں سے مساوی سلوک اور یہاں کے لوگوں کی ان سے محبت مثالی تھی ۔ گھر میں موجود نوکروں سے برابری کا سلوک کیا جاتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ آس پاس کے گاؤں اس حویلی سے خاص انسیت اور محبت رکھتے تھے ۔ یہاں فجر کے بعد ہی ناشتہ لگا دیا جاتا تھا اور اس کے بعد ان سب کا دن شروع ہو جاتا تھا جس کو کالج یا یونیورسٹی کے لئے نکلنا ہوتا وہ نکل جاتا اور جس کو زمینوں پر جانا ہوتا وہ اسی وقت روانہ ہوجاتا۔ گھر کی خواتین دوپہر کے کھانے کی تیاری اور دوسری چیزوں میں مشغول ہوجاتی تھیں ۔ مگر آج کل ایک خاص وجہ حویلی کی رونق کا باعث بنی ہوئی تھی اور وہ تھی بڑے چچا کے بیٹے احمر کی شادی جو کے چھوٹی پھپو کی بیٹی اسما سے طے پائی تھی ۔ چھوٹے پھوپھا چونکہ ماموں زاد بھی تھے لہذا شادی کے بعد وہ بھی حویلی میں ہی مقیم ہوگئے تھے اور یوں ان کا یہ بھرا پورا کنبہ ایک ساتھ اس حویلی میں
رہ رہا تھا ۔۔۔۔۔ دادا جان کے کرسی پر بیٹھتے ہی ناشتے کا آغاز کردیا گیا تھا ۔ زمان احمد جو کہ شاہ میر کے بابا تھے اور سارے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اس لیے وہ دادا جان کے برابر والی کرسی پر براجمان ہوتے تھے اور ناشتے کی ٹیبل پر ہی دادا جان سے اہم معاملوں پر مشورہ لے لیا کرتے تھے۔ باقی سب ناشتے میں مشغول رہتے ۔ ناشتے سے فارغ ہوکر سب اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے گھر کی عورتیں کیوں کی شادی کی تیاریوں میں لگی تھیں اس لئے کافی رونق کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں آگیا ایک مہینے پہلے ہی اس کی یونیورسٹی ختم ہوئی تھی اور اب اس کا زیادہ تر وقت بابا کے ساتھ زمینوں پر یا شکار پر گزر رہا تھا مگر اس کا ارادہ اپنا بزنس شروع کرنے کا تھا ۔ وہ اپنا الیکٹرونکس کا شوروم شروع کرنا چاہتا تھا بابا کی طرف سے گرین سگنل مل گیا تھا مگر ابھی اسے ایک مہینہ اور انتظار کرنا تھا ۔ بابا چاہتے تھے کہ گھر کی شادی سے فارغ ہونے کے بعد ہی وہ پوری توجہ کے ساتھ اس کا بزنس سیٹ کرنے میں اس کی مدد کریں۔ لہذا اس نے بھی خاموشی سے حامی بھر لی تھی ویسے بھی کئی سالوں کے بعد حویلی کی یہ پہلی شادی تھی۔۔ سب بچوں کے جوان ہونے اور تعلیم ختم کرنے کا انتظار کیے جانے کے بعد ان کی باہمی رضامندی سے ان کے رشتے طے کیے گئے تھے اور یہ انہی طے کئے گئے رشتوں کی پہلی کڑی تھی جو اب رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ زمان احمد کی اکلوتی اولاد تھا۔ بڑے چچا کے دو بیٹے احمر اور اسفر، چھوٹے چچا کے تین بچے اسد، احد اور ثمر اور چوٹی پھپو کی دو بیٹیاں اسما اور افرا۔۔۔۔۔۔ یہ سب اسی حویلی کے مکین تھے مگر بڑی پھپھو ان کے ساتھ نہیں رہا کرتی تھیں۔۔۔۔۔ نہ ہی ان کے بارے میں کوئی زیادہ بات کرتا تھا ۔۔۔ ویسے بھی گھر کے بچوں کو کریدنے کی عادت نہیں تھی لہذا وہ سب اپنے آپ میں ہی مگن تھے۔۔۔۔۔۔
“آپ کو ماں جی بلا رہی ہیں” ملازم نے اندر آ کر اطلاع دی تو وہ اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آیا ۔
“اچھا تم چلو میں آتا ہوں” وہ یہ کہہ کر بیڈ سے اترا اور اپنے لمبے بالوں کو پونی کی شکل دیتا نیچے اتر آیا ۔۔۔ گھر کی خواتین ہال نما لاؤنج میں کپڑے پھیلائے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔۔
“شاہ میر ادھر آؤ اور مجھے بتاؤ کون سا رنگ مجھ پر زیادہ اچھا لگے گا؟” افرا اسے آواز دینے لگی
“مجھے نہیں سمجھ آتا یہ سب۔۔۔ اسد سے پوچھ لو” وہ ہنستے ہوئے بولا اور ہال کے دائیں طرف موجود کمروں کی طرف بڑھ گیا۔
تیسرے کمرے کے باہر پہنچ کر اس نے دروازہ بجایا اور اندر داخل ہوگیا
“اسلام علیکم ماں جی! آپ نے مجھے یاد کیا؟” دن میں وہ چاہے جتنی دفعہ بھی ان سے ملتا سلام ضرور کرتا تھا اس نے اپنا سر انکے آگے کردیا انہوں نے محبت سے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا ۔
اسی لمحے اکرم بھی کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔ “السلام علیکم ماں جی آپ نے مجھے یاد کیا؟” اس نے بھی وہی جملے دہرائے۔
“ہاں بیٹا تمہارے دادا جان نے یہ مٹھائی کی ٹوکرے دیئے ہیں۔۔ انہیں شاہ صاحب کے گھر پہنچا آؤ” وہ شاہ میر کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولیں۔ اور شاہ میر کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اس نے ایک نظر اکرم پر ڈالی جو کھڑے کھڑے ہی سفید پڑ چکا تھا ۔۔۔
“ماں جی کل مسجد میں پہنچا آئیں گے نا۔۔۔!!!” اکرم کے منہ سے گھٹی گھٹی آوازیں نکلیں ۔
“نہیں مسجد میں نہیں دینی ان کے گھر پہنچانی ہے اور تم جانتے ہو کہ دادا جان نے یہ کام کیوں کہا ہے۔۔۔ وہ مسجد سے اپنے گھر تک اسے کیسے لے کر جائیں گے؟ چلو شاباش اب ٹوکرے اٹھاؤ اور گاڑی تک لے کر جاؤ ۔ شاہ میر ہماری طرف سے انہیں سلام دینا اور اس شادی کیلئے خیر خیریت کی دعا بھی کروا لینا” انہوں نے اسے ہدایت دیں اور تسبیح اٹھالی۔
“مگر شاہ صاحب اتنی مٹھائی کھائیں گے تو نہیں؟” اکرم اب بھی بہانے تلاش کر رہا تھا
“ہمہمہم” انہوں نے تسبیح کے دانے گھماتے ہوئے مبہم سی آواز میں اسے ٹوکا ۔
اکرم جلدی سے ایک ٹوکرا اٹھا کر باہر نکل گیا ۔
وہ ماں جی کو اللہ حافظ کہہ کر باہر نکل آیا۔۔۔ ہال میں ابھی تک شور شرابا جاری تھا وہ ایک نظر ان پر ڈال کر باہر کی طرف بڑھ گیا ۔
ڈرائیونگ سیٹ کے برابر بیٹھتے ہوئے اس نے ایک نظر اکرم پر ڈالی۔ وہ ایک اور ٹوکرا لا کر پیچھے کی سیٹوں پر رکھ رہا تھا ۔۔۔
“تم یہاں کھڑے کھڑے کیا کر رہے ہو؟ آؤ میرے ساتھ۔۔ ٹوکرا اٹھاؤ” اس نے چچا جان کے ڈرائیور کو غصے سے کہا اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔ شاہ میر زیر لب مسکرایا وہ جانتا تھا کہ اکرم اس وقت جھنجلایا ہوا ہے ۔
سارے ٹوکرے رکھنے کے بعد وہ ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا اور اگنیشن میں چابی گھمائی۔
“تم رہنے دو میں اکیلے چلے جاتا ہوں” شاہ میر اس کی حالت کے پیشِ نظر بولا ۔
“آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کو وہاں اکیلے جانے دوں گا؟” وہ گاڑی سٹارٹ کر کے مین روڈ پر لے آیا تھا۔
“ارے میں کوئی جہاد پر نہیں جا رہا اور مجھے سمجھ نہیں آتی کہ تم اتنا ڈرتے کیوں ہو؟ بچپن سے ہم وہاں جارہے ہیں اور وہاں کبھی ایسا کچھ نہیں ہوا” وہ اسکی بات سن کر ہنسنے لگا تھا۔
“آپ تو نیک لوگ ہو اس لیے آپ کو تنگ نہیں کرتے مجھ جیسے ٹوٹی پھوٹی نمازوں والے اور عطااللہ کے فینز کو کسی بھی دن اٹھا کر پٹخ سکتے ہیں” وہ رونے والی انداز میں بولا اور شاہ میر کا قہقہہ گاڑی میں گونج گیا ۔
شاہ صاحب کا گھر قلعہ ڈیراور کے سامنے بنا ہوا تھا۔۔۔۔ جھیل کے ایک طرف مسجد تھی تو دوسری طرف یہ گھر تھا۔۔۔ دو کمروں اور طویل صحن پر محیط یہ گھر جو کہ بچوں کو قرآن پڑھانے کے لیے بھی مدرسہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ صبح سے شام تک یہاں قریبی گاؤں سے بچے سپارہ پڑھنے آیا کرتے تھے۔۔۔ اور کچھ لوگ ان کا بیان سننے کے لیے بھی بیٹھے رہتے تھے ۔۔۔۔ وہ سادات تھے اور پورے علاقے میں انہیں بےانتہا معتبر جانا جاتا تھا ۔۔۔۔ پیری، فقیری اور تعویزوں جیسے کاموں سے انہوں نے ہمیشہ معذرت ہی کی تھی۔۔۔ ہاں قرآن پڑھانے اور بیان دینے کے لیے وہ ہمیشہ موجود ہوتے تھے۔۔۔۔ خواتین کو ان کے حجرے میں آنے کی اجازت نہیں تھی ۔ مرد حضرات کبھی کبھی اپنے بچوں کو ان سے دم کروا کر لے جایا کرتے تھے ۔ ان کی زوجہ ان کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھی جس کی شادی ہوچکی تھی اور وہ دوسرے شہر میں مقیم تھی۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنے بچوں کے ساتھ چکر لگا جایا کرتی تھی۔
گاڑی ان کے گھر کے باہر رکی تھی۔ شاہ میر دروازہ کھول کر باہر آیا ۔ اندر سے بچوں کے قرآن پڑھنے کی آواز آ رہی تھی۔
وہ پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوگیا اس طویل سے صحن میں 50 سے 60 بچے موجود تھے جو اپنا سبق زوروشور سے یاد کر رہے تھے صحن میں بچھے تخت پر شاہ صاحب تسبیح پڑھنے میں مشغول تھے ۔
“اسلام علیکم شاہ صاحب!” شاہ میر نے ان کے قریب پہنچ کر انہیں سلام کیا ۔
“وعلیکم السلام! آج تو میرا بیٹا آیا ہے” وہ مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے
“جی کیسے ہیں آپ؟” گو کہ مسجد میں ان سے ملاقات ہو جاتی تھی لیکن وہ چاہ کر بھی ان سے تفصیلی گفتگو نہیں کر پاتا تھا نجانے یہ ان کی شخصیت کا رعب تھا یا ان کے چہرے پر موجود نور۔۔۔ جو وہ چاہ کر بھی بات کرنے سے جھجھکتا تھا ۔
“الحمدللہ” انہوں نے مسکرا کر کہا
اتنے میں اکرم اندر داخل ہوا اور بچوں سے بچتے بچاتے ٹوکرے ایک طرف رکھنے لگا۔۔ وہ ٹوکروں پر ایک نظر ڈال کر شاہ میر کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔
“دادا جان نے بھجوائے ہیں۔۔۔ گھر میں شادی ہے۔۔۔ آپ سے خیریت کی دعا کرنے کو بھی کہا ہے” وہ بولا
“زمان احمد نے مجھے بتایا تھا۔۔ اللہ کے سپرد! انشاء اللہ خیر خیریت سے یہ نیک کام پورا ہو ۔ میں ان کا تحفہ پہنچا دوں گا” وہ مسکراتے ہوئے بولے۔
“اوہ۔۔۔ یہ کہیں اور پہنچانے ہیں؟ آپ مجھے بتا دیں میں گاڑی میں رکھوا کر وہاں پہنچا دیتا ہوں۔۔۔ مجھے لگا تھا یہاں گھر پر دینے ہیں اس لئے میں سیدھا یہاں چلا آیا” شاہ میر کو لگا اسے ماں جی کی بات سننے میں غلطی ہوئی ہے۔
“تم صحیح جگہ لے کر آۓ ہو۔۔۔ لیکن یہ تحفے پہنچانے کے لئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔ جن کے ہیں وہ خود لے جائیں گے” وہ مسکراتے ہوئے بولے۔ اکرم ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا تھا ۔
شاہ میر کے لیے ان کی یہ باتیں نئی نہیں تھیں۔ وہ اکثر ہی ان کو اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے سن چکا تھا لہذا خاموشی سے بیٹھا رہا ۔
“چلو بچوں اب تم لوگ جاؤ۔۔۔” وہ سامنے موجود دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے بولے ۔
“پچھلے دروازے سے چلے جاؤ” اور وہ سب اپنے اپنے سپارے بند کر کے دوسرے دروازے سے ایک ایک کرکے باہر نکلنے لگے ۔
“وعلیکم اسلام ” شاہ صاحب اچانک ہی بولے اور اکرم باقاعدہ اچھل پڑا تھا ۔
“چچ چچ چلیں شاہ میر ؟؟؟؟” وہ کانپتے ہوۓ بولا۔
سارے بچے جا چکے تھے انہوں نے کسی کو بیٹھنے کا اشارہ کیا جبکہ وہاں کوئی موجود نہیں تھا وہ دوبارہ شاہ میر کی طرف متوجہ ہوئے۔
“آپ لوگ جائیں۔۔۔ میں دعاؤں میں یاد رکھوں گا” وہ مسکرائے
شاہ میر سر ہلاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔
“اس دروازے سے چلے جائیں” انہوں نے پچھلے دروازے کی طرف اشارہ کیا
اور شاہ میر اس طرف بڑھ گیا۔ اکرم اچھل اچھل کر چل رہا تھا جیسے اس نے زمین پر پاؤں رکھا تو اس کا پاؤں جل جائے گا۔۔۔ شاہ میر کے لیے ہنسی روکنا مشکل تھا ۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے تیزی سے چابی گھمائی اور سڑک پر گاڑی لے آیا
“ارے ارے آرام سے چلاؤ۔۔۔ کیا ہوگیا ہے تمہیں؟” شاہ میر اس کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے بولا ۔
“دیکھا نہیں تھا آپ نے؟ شاہ صاحب کس سے باتیں کر رہے تھے؟ وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ مجھے دیکھتے ہی یہ جان بوجھ کر مجھے ڈرانے کے لیے اس طرح کی چیزیں کرتے ہیں” وہ ابھی تک نارمل نہیں ہوا تھا
“ایسے نہیں کہتے۔۔ بری بات!! دادا جان کہتے ہیں کہ ان کے پاس جنات کے بچے قرآن پڑھنے آتے ہیں۔۔ ہوسکتا ہے وہی بچے ہوں” وہ مسکراتے ہوئے بولا
“سلام ہے دادا جان کو اور آپ لوگوں کو سب کچھ جانتے بوجھتے بھی بار بار آپ کو اس طرح بھیج دیتے ہیں۔۔ کسی دن کوئی جن چمٹ گیا تو پتہ چلے گا” وہ سر جھٹکتے ہوئے بولا ۔
“شاہ میر نے سیٹ کے پیچھے سے ہاتھ لا کر اس کا کان چھوا اور وہ باقاعدہ چیختے ہوئے اچھل پڑا تھا۔۔۔ گاڑی اپنا توازن کھو بیٹھی۔۔ شاہ میر نے جلدی سے اسٹیئرنگ تھام کر گاڑی قابو کی۔
“کیا کرتے ہو یار؟” وہ خود ہی اپنی شرارت پر شرمندہ ہوا تھا
“آپ کو پتہ بھی ہے کہ میں کتنا ڈرتا ہوں کیا ضرورت تھی یہ کرنے کی” وہ اپنے حواس بحال کرتے ہوئے بولا
“حد کرتے ہو ویسے” شاہ میر نے اسے گھورا “چلو اب جلدی چلو گھر” اکرم نے سر ہلاتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کردی۔
“ویسے سچ بتائیں آپ کو ڈر نہیں لگتا” اکرم نے گاڑی سنبھالتے ہی کئی مرتبہ پوچھا ہوا سوال دہرایا۔
“اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے انہوں نے ہمیں کبھی نقصان نہیں پہنچایا اور ہم نے انھیں کبھی دیکھا بھی نہیں۔۔۔۔ یہ باتیں تو ہم نے صرف دادا جان سے ہی سنی ہیں” وہ کندھے اچکا کر بولا
“یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ بات جھوٹ ہو۔۔ دن میں تو وہاں اتنے لوگ گھومنے جاتے ہیں” اکرم بولا
“ہو بھی سکتا ہے۔۔۔ ویسے بھی مغرب کے بعد اس طرف کوئی جاتا نہیں۔۔۔ دن میں تو ہم لوگ بھی کئی دفعہ گھوم کر آئے ہیں” وہ سڑک پر نظریں جماتے ہوئے بولا ۔
اکرم نے خاموشی سے سر ہلا دیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کسی برفیلی زمین پر بھاگ رہی تھی اس کے پاؤں بھاگتے بھاگتے شل ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔ جنگل کے سبھی درخت برف سے ڈھکے ہوئے تھے اسے لگا وہ کسی بھی لمحے جم سکتی ہے ۔۔۔۔۔ مگر اچانک اسے دور سے روشنی نظر آئی تھی۔ وہ تیزی سے اس روشنی کی طرف بڑھی تھی اور پھر جیسے زمین نہایت گرم ہو گئی تھی وہ ان برف زاروں سے نکل کر آگ کی زمین پر چل رہی تھی۔۔ اس کے چاروں طرف آگ ہی آگ تھی اس نے درد سے چلانا شروع کر دیا اور پھر اچانک کسی نے اس کے پیروں کے نیچے اپنے ہاتھ رکھ دیے تھے اس کے پیر محفوظ تھے لیکن اس کے پیروں کے نیچے موجود ہاتھ جل رہے تھے ۔۔۔ اور پھر اچانک اس کی آنکھ کھل گئی وہ تیزی سے اٹھ بیٹھی ۔۔۔
پچھلے تین دن سے وہ مسلسل یہ خواب دیکھ رہی تھی اس نے اپنا ماتھا چھوا۔۔۔۔۔ وہ آگ کی طرح گرم تھا اتنی شدید ٹھنڈ میں بھی اسے پسینہ آیا ہوا تھا اسے لگا جیسے وہ واقعی اس آگ کا حصہ رہی ہو۔۔۔ کچھ دیر اپنے حواس بحال کرنے کے بعد وہ بیڈ سے اتر آئی ۔۔۔ اس نے کھڑکی کھول کر باہر جھانکا ہر چیز برف سے ڈھکی تھی مگر نا جانے اس کے وجود سے اتنی آگ کیوں پھوٹ رہی تھی ۔۔۔
اس نے کھڑکی واپس بند کرلی اور جگ سے پانی بھر کر گلاس لبوں سے لگا لیا ۔
وہ چلتی ہوئی آئینے تک آئی ۔۔۔ اس کا سفید مرمریں چہرہ سرخ ہو رہا تھا جیسے کسی دہکتی آگ کے قریب رہا ہو ۔۔۔۔ وہ حیران ہوئی ۔۔۔
“تم اٹھ گئی ہو؟” اسی لمحے ماما نے کمرے میں جھانکا
“جی بس ابھی اٹھی ہوں” وہ پسینہ پونچھتے ہوئے بولی۔
“کیا ہوا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟ وہ اسے اس طرح کھڑے دیکھ کر اس کے قریب آگئیں۔
“جی میں ٹھیک ہوں” وہ مسکرائی۔
وہ چلتی ہوئی اس کے قریب آئیں اور اس کا ماتھا چھوا “تمہیں تو بخار ہو رہا ہے” وہ فکرمندی سے بولیں۔
“نہیں بخار نہیں ہے ابھی تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جائے گا” وہ اتنا ہی بول سکی۔
“کیسے ٹھیک ہو جائے گا ؟ چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں” وہ اب بھی فکرمند تھیں۔
“نہیں کچھ بھی نہیں ہوا ماما۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔۔ ابھی ٹھیک ہو جاؤ نگی” وہ زبردستی مسکراتے ہوئے بولی۔
“انہوں نے پیار سے اس کے چہرے کو دیکھا وہ کہیں سے بھی ان پر نہیں گئی تھی ۔۔۔ یہ گوری رنگت اور یہ خوبصورتی اسے اپنے ددھیال سے ورثے میں ملی تھی۔۔۔۔ نازک مخروطی انگلیاں اور سنہری بال وہ انہیں کبھی کبھی کوئی اپسرا لگتی اور وہ بلاوجہ ہی اس کی نظر اتارنے لگتیں۔
“اچھا چلو باہر آؤ میں ناشتہ لگا دیتی ہوں” ان کے لیے نظریں ہٹانا مشکل ہوا تھا ویسے بھی ماں کو اپنے بچے زیادہ ہی پیارے لگتے ہیں ۔
“جی میں آتی ہوں۔۔۔۔۔ عمیر نے ناشتہ کر لیا؟ ” اس نے چھوٹے بھائی کا نام لے کر پوچھا ۔
“ہاں وہ ناشتہ کر کے کالج کے لیے نکل گیا ہے” وہ مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئیں ۔
ان کے جانے کے بعد وہ تھوڑی دیر اس خواب کی جزئیات کو محسوس کرتی رہی اور پھر تیاری کرنے چلدی۔۔۔ ان دنوں اس کے فائنل ایگزام ہو رہے تھے ۔ اور یونیورسٹی کے بعد اس کے پاس کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا جسے وہ ابھی سے سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔۔ ماما نے اس کی شادی کی رٹ لگائی ہوئی تھی اور وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اس نے سوچ لیا تھا کہ ایگزامز کے بعد وہ مختلف بینکس میں اپلائی کرے گی ۔ اس نے فائنینس میں ایم بی اے کیا تھا اور وہ اپنی پڑھائی کو ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
وہ تیار ہوکر ناشتے کی ٹیبل پر پہنچی تو بابا وہاں موجود تھے اور اخبار پڑھ رہے تھے ۔
“السلام علیکم بابا” وہ کرسی کھینچتے ہوئے بولی ۔
“وعلیکم السلام۔۔ کیسی ہے میری مثنوی؟” انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
“بالکل ٹھیک بابا! یونیورسٹی ڈراپ کر دیجئے گا مجھے پلیز” وہ جلدی جلدی ناشتہ کرتے ہوئے بولی
انہوں نے سر ہلاتے ہوئے اخبار اپنی نظروں کے سامنے کر لیا۔
” ٹھیک طرح سے کھاؤ۔۔۔۔ کمزور ہوتی چلی جا رہی ہو” ماما اسکے جلدی جلدی کھانے پر ٹوک کر بولیں۔۔۔
“موٹی لڑکیاں کسی کو پسند نہیں آتیں” بابا ہنستے ہوئے بولے اور وہ تینوں اس بات پر ہنسنے لگے تھے ۔
“چلیں اب مجھے چھوڑ دیں۔۔۔۔ مجھے دیر ہو رہی ہے” وہ جلدی سے اپنا بیگ کاندھے پر ڈالتے ہوئے بولی اور بابا اس کے ساتھ ہی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔
مہہ جبین نے ان کے جانے کے بعد برتن سمیٹے اور کچن کی طرف چل دی تھیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حویلی میں داخل ہوتے ہی سیدھا ماں جی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
“السلام علیکم ماں جی” اس نے دور سے سلام کیا
“وعلیکم السلام” وہ شاید رو رہی تھیں۔ اسے ان کی آواز میں نمی لگی۔
“کیا ہوا ماں جی؟ آپ پریشان ہیں؟” وہ تیزی سے ان کے قریب آیا
“نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔ تم نے شاہ صاحب کو مٹھائی پہنچا دی؟” وہ اپنی آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے بولیں۔
“جی پہنچا دی۔۔۔۔ آپ مجھے بتائیں ہوا کیا ہے؟” وہ ان کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
“ارے نہیں بیٹا۔۔۔۔ ایسے ہی بس کبھی کبھی۔۔۔۔” وہ شاید اسے بتانا نہیں چاہتی تھیں۔
“کم از کم مجھ سے تو آپ نا چھپائیں” وہ ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا ۔
“بس آج بیٹھے بیٹھے مہہ جبیں یاد آ گئی” انہوں نے آنسو پونچھتے ہوئے بڑی پھوپھو کا نام لیا۔
وہ گہری سانس لے کر خاموش ہو گیا۔۔۔۔ جانتا تھا اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں بولیں گی ۔ اس نے ایک دو دفعہ کوشش کی تھی مگر وہ زیادہ نہیں جان پایا تھا ۔ مگر آج شاید وہ بتانے کی موڈ میں تھیں ۔
“تمہارے بابا جان اور چچا جان کوشش کر رہے ہیں کہ تمہارے دادا مان جائیں اور وہ شادی میں شرکت کر سکے۔۔ ۔ یہ گھر کی پہلی شادی ہے اور وہ اس گھر کی بڑی بیٹی ہے اس کا یہاں ہونا ضروری ہے ۔ آج رات یہ سب بات کریں گے تم دعا کرنا کہ انہیں کامیابی ہو” وہ شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔
“انشاللہ ۔ لیکن دادا کیوں نہیں مانیں گے کیا انہوں نے کوئی نافرمانی کی تھی؟” وہ نا چاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھا۔۔۔
“نہیں بیٹا۔۔۔۔ نافرمانی تو نہیں کہوں گی سب کو اپنی پسند سے شادی کرنے کا حق ہوتا ہے لیکن اس سے غلطی یہ ہوئی تھی کہ وہ کسی اور سے منسوب تھی اور تمہارے دادا کو ان کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑی تھی۔۔۔ انہوں نے اس کی شادی دھوم دھام سے ہی کی تھی لیکن اس کے بعد اس سے ملے نہیں اور شاید یہی سزا اس کے لیے کافی تھی۔۔۔۔ ہم چاہ رہے ہیں کہ گھر کی اس خوشی کے موقع پر کسی کے دل میں کوئی میل باقی نہ رہے اور ہم سب اس سے مل سکیں ” وہ بولیں۔
“وہ کہاں رہتی ہیں؟” ماں جی اب جبکہ وہ سب کچھ بتا ہی رہی تھی تو وہ یہ بھی جاننا چاہتا تھا۔
“سنا ہے گلگت میں رہتی ہیں ۔ ان کے شوہر کا وہاں پر کاروبار ہے۔۔۔ ان کے شوہر کا تعلق بھی وہیں سے تھا۔۔۔۔ شاید وہ وہیں جاکر بس گئی” وہ گہری سانس لے کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔۔
“ان کے کتنے بچے ہیں؟” وہ پوچھنے لگا
“میں نہیں جانتی۔۔۔ بس تم دعا کرو دادا جان مان جائیں۔۔۔تب ہم اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے” وہ مسکراتے ہو اس کی طرف مڑیں ۔
“تم اپنی بہنوں کی مدد کرو شادی کی تیاری میں۔۔۔۔ وہ اکیلے بازار آ جا رہی ہیں۔۔۔ کوشش کیا کرو کہ ان کے ساتھ جایا کرو” وہ ہدایت دیتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں ۔
اور وہ بھی سر ہلاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شاہ میر کے نکلتے ہی صحن کی طرف متوجہ ہوئے۔۔
“جی کیسے ہیں آپ لوگ؟ کیسے آنا ہوا” وہ شفقت سے مسکرائے
“یہ تو بہت اچھی خبر ہے ۔ ہماری طرف سے مبارکباد دیجئے گا ۔ اور اس کے آتے ہی اسے ہم سے ملنے ضرور بھیجیے گا” وہ دوسری طرف کی بات سننے کے بعد بولے ۔
“آپ لوگوں کے لیے یہ مٹھائی آئی ہے ۔۔۔۔۔ بڑی حویلی میں شادی کی تقریب ہے۔ امید ہے وہاں آنے والے مہمانوں کو کوئی ایذا نہیں پہنچے گی” انہوں نے مٹھائیوں کے ٹوکروں کی طرف اشارہ کیا۔
اور پھر جیسے کسی نے کچھ کہا ہو وہ مسکرائے اور سر ہلا دیا ۔
“میری چاشت کی نماز کا وقت ہونے والا ہے ۔ مجھے اجازت دیجئے” یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے حجرے میں داخل ہوگئے ۔
مٹھائی کے ٹوکرے ایک ایک کرکے وہاں سے غائب ہوتے گئے اور تھوڑی دیر بعد وہاں خاموشی چھا گئی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
![]()

