Daily Roshni News

عقیدہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اسلام میں عقیدہ کی بنیاد مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے کلام (قرآن) اور اس کے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات (احادیث) پر ہے۔ عقیدہ کا مطلب ہے “وہ پختہ یقین جو انسان کے دل میں گرہ کی طرح بندھ جائے اور جس میں ذرا بھی شک کی گنجائش نہ ہو۔”

​آئیے قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس کا مفہوم سمجھتے ہیں:

​1. قرآن مجید کی روشنی میں عقیدہ

​قرآن مجید میں عقیدے کو “ایمان” کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عقیدے کے بنیادی ارکان کا ذکر سورۃ البقرۃ میں یوں فرمایا ہے:

​”اصل نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، اللہ کی کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔”

(سورۃ البقرۃ: 177)

​اسی طرح، عقیدہ توحید کی بنیاد اس آیت میں ہے:

​”کہہ دیجیے کہ وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور اس کے برابر کا کوئی نہیں ہے۔”

(سورۃ الاخلاص: 1-4)

​2. احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں عقیدہ

​نبی کریم ﷺ نے عقیدے کے ارکان کو “ایمان” کی تعریف میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔ مشہورِ زمانہ “حدیثِ جبرائیل” میں جب جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ سے ایمان کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

​”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یومِ آخرت پر اور تقدیر کے اچھا یا برا ہونے پر ایمان لاؤ۔”

(صحیح مسلم: 8)

​ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے عقیدے کی اہمیت کو یوں بیان فرمایا:

​”جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ جانتا ہو (یعنی پختہ یقین رکھتا ہو) کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔”

(صحیح مسلم: 26)

​خلاصہ اور اہم نکات

​عقیدہ ایک “گرہ” ہے: یہ وہ نظریات ہیں جن پر دل مطمئن ہو اور جو انسان کے اعمال کی بنیاد بنتے ہیں۔

​غیر متزلزل یقین: عقیدہ صرف زبان سے اقرار کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کی گہرائیوں میں اترا ہوا ایک ایسا یقین ہے جو شک کو قبول نہیں کرتا۔

​کتاب و سنت کی پابندی: جو عقیدہ قرآن و حدیث کی نصِ صریح (واضح حکم) کے خلاف ہو، وہ باطل ہے۔ عقیدے میں اپنی عقل یا قیاس آرائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

​یاد رکھیں: اسلام میں عقیدہ ہی وہ درخت ہے جس پر اعمال کے پھل لگتے ہیں۔ اگر جڑ (عقیدہ) صحیح ہوگی، تب ہی اعمال اللہ کے ہاں قبول ہوں گے۔

Loading