Daily Roshni News

عقیدۂ ختمِ نبوت قرآن و احادیث کی روشنی میں

عقیدۂ ختمِ نبوت قرآن و احادیث کی روشنی میں

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اسلام کے بنیادی عقائد میں عقیدۂ ختمِ نبوت کو نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ مسلمان کا ایمان اس یقین پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نبوت کا یہ سلسلہ مکمل فرما دیا۔ آپ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی آمد نہیں ہوگی۔

یہ عقیدہ کسی ایک دور یا کسی ایک شخصیت کی بیان کردہ بات نہیں بلکہ قرآنِ مجید اور احادیثِ رسول ﷺ سے واضح طور پر ثابت ہے۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب میں ارشاد فرماتا ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا

ترجمہ:

“محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔”

(سورۃ الاحزاب، 33:40)

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے لیے خاتم النبیین کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یہی وہ قرآنی بنیاد ہے جس پر عقیدۂ ختمِ نبوت قائم ہے۔

لفظ خاتم کا مفہوم اختتام اور تکمیل سے متعلق ہے، لہٰذا خاتم النبیین کا مطلب ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی  وضاحت

خود رسول اکرم ﷺ نے اپنی نبوت کے اختتام کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک خوبصورت عمارت بنائی، مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی۔ لوگ اس عمارت کو دیکھ کر تعجب کرتے اور کہتے کہ یہ اینٹ بھی رکھ دی جاتی تو عمارت مکمل ہوجاتی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔

(صحیح بخاری، کتاب المناقب؛ صحیح مسلم، کتاب الفضائل)

یہ حدیث نہایت واضح انداز میں بتاتی ہے کہ نبوت کی عمارت رسول اللہ ﷺ پر مکمل ہوئی۔

“میرے بعد کوئی نبی نہیں”

عقیدۂ ختمِ نبوت کے بارے میں سب سے واضح احادیث میں سے ایک حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَىٰ إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

ترجمہ:

“تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”

(صحیح بخاری، کتاب المغازی؛ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ)

یہ الفاظ “لَا نَبِيَّ بَعْدِي” عقیدۂ ختمِ نبوت کی انتہائی واضح وضاحت ہیں۔

جھوٹے دعوائے نبوت سے آگاہی

رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو مستقبل میں ظاہر ہونے والے جھوٹے دعوے داروں سے بھی خبردار فرمایا۔

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں بہت سے جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

(سنن ابی داؤد، کتاب الفتن؛ جامع ترمذی، کتاب الفتن)

یہ ارشاد امت کے لیے ایک واضح رہنمائی ہے کہ نبوت کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ پر مکمل ہو چکا ہے۔

قرآن و حدیث کا باہمی ربط

قرآنِ کریم نے حضرت محمد ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک سے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

“میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”

یوں قرآن اور حدیث دونوں ایک ہی حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔ قرآن بنیادی عقیدہ بیان کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ اس کی تشریح فرماتے ہیں۔

اسی لیے عقیدۂ ختمِ نبوت کو سمجھنے کے لیے قرآنِ کریم کے ساتھ سنتِ رسول ﷺ کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

یہ عقیدہ ہمارے لیے کیوں اہم ہے؟

عقیدۂ ختمِ نبوت صرف ایک نظری مسئلہ نہیں بلکہ مسلمان کی دینی شناخت سے وابستہ بنیادی عقیدہ ہے۔ اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کے لیے نبوت کا دروازہ کھلا نہیں ہے۔

آپ ﷺ کے بعد ہدایت کے لیے قرآنِ کریم موجود ہے اور آپ ﷺ کی سنت ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔

اسی لیے ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو محض جذبات سے نہیں بلکہ قرآن، حدیث اور مستند اسلامی علم کی روشنی میں سمجھے۔

آج کی نسل اور ہماری ذمہ داری

آج معلومات کا زمانہ ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف نظریات چند لمحوں میں نوجوانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو سوالات سے ڈرانے کے بجائے انہیں درست علم فراہم کریں۔

بچوں اور نوجوانوں کو قرآنِ کریم کی آیات کا مفہوم، احادیثِ رسول ﷺ کے مستند حوالہ جات اور سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کروایا جائے۔

انہیں بتایا جائے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ قرآن و سنت سے ثابت شدہ عقیدہ ہے۔

محبتِ رسول ﷺ اور عملی زندگی

ختمِ نبوت پر ایمان کا ایک تقاضا محبتِ رسول ﷺ بھی ہے، اور محبت کا تقاضا اطاعت ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ

ترجمہ:

“کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔”

(سورۃ آلِ عمران، 3:31)

لہٰذا حضور اکرم ﷺ سے محبت صرف الفاظ تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ سچائی، امانت، عدل، رحم، حسنِ اخلاق اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی بھی سنتِ نبوی ﷺ سے وابستگی کا حصہ ہیں۔

اختتامیہ

قرآنِ کریم کی آیتِ خاتم النبیین اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان “لا نبی بعدی” عقیدۂ ختمِ نبوت کی بنیادی اور واضح تعلیمات ہیں۔

ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس عقیدے کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھے، اپنی نسل تک مستند علم پہنچائے اور محبتِ رسول ﷺ کو اپنے کردار کا حصہ بنائے۔

آج ہمیں شور سے زیادہ شعور، جذبات سے زیادہ علم اور محض دعوے سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔

ہم اپنے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں تو ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیمات کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔

عقیدۂ ختمِ نبوت ایمان کی حفاظت ہے، اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ اس ایمان کا عملی حسن۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کو سمجھنے، عقیدۂ ختمِ نبوت پر ثابت قدم رہنے اور سیرتِ رسول اکرم ﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

✍️ حسن علی

Loading