Daily Roshni News

علمِ لدنی وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ بندے کے دل میں ڈالتا ہے

علمِ لدنی وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ بندے کے دل میں ڈالتا ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ علمِ لدنی وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ بندے کے دل میں ڈالتا ہے، جب وہ اخلاص، تقویٰ اور اتباعِ رسول ﷺ اختیار کرتا ہے۔

امام غزالیؒ نے بیان کیا کہ علم کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو تعلیم و تعلم سے حاصل ہوتا ہے، اور دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ دل پر الہام اور نور کی صورت میں عطا فرماتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عطا شریعت کے خلاف نہیں ہو سکتی۔

شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے مطابق دل کی پاکیزگی، ذکرِ الٰہی اور نفس کی اصلاح کے بعد اللہ تعالیٰ بندے کے دل پر حکمت کے دروازے کھول دیتا ہے، لیکن ہر کشف اور الہام کو قرآن و سنت کے معیار پر پرکھنا ضروری ہے۔

مولانا جلال الدین رومیؒ نے فرمایا کہ جب دل خواہشات اور تکبر سے پاک ہو جائے تو وہ اللہ کے انوار کا آئینہ بن جاتا ہے، اور حقیقی معرفت دل میں اترتی ہے۔

صوفیائے کرام اس آیت سے یہ سبق لیتے ہیں کہ:

علمِ لدنی اللہ کی خاص عطا ہے۔

اس کا حصول اخلاص، تقویٰ، ذکر اور اتباعِ رسول ﷺ سے وابستہ ہے۔

کوئی بھی کشف، الہام یا روحانی تجربہ قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو سکتا؛ اگر ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں۔

یوں حضرت خضرؑ کا واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو اپنی حکمت سے ایسا علم عطا فرماتا ہے جو عام ظاہری علم سے مختلف ہوتا ہے، مگر وہ ہمیشہ اللہ کی مشیت اور شریعت کے دائرے میں ہوتا ہے

حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ علمِ لدنی وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ بندے کے دل میں ڈالتا ہے، جب وہ اخلاص، تقویٰ اور اتباعِ رسول ﷺ اختیار کرتا ہے۔

Loading