بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پہلی دو اقساط میں ہم نے علمِ لدنی کی تعریف اور اس کے مادی علوم سے فرق کو سمجھا۔ اب ہم اس وادی میں قدم رکھ رہے ہیں جہاں اس علم کا سب سے بڑا، سب سے حیرت انگیز اور تاریخی معرکہ برپا ہوا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شریعت کے عظیم تاجدار اور کلیم اللہ، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حقیقتِ باطن کے امین حضرت خضر علیہ السلام کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے ہیں۔
قرآنِ کریم کا یہ واقعہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ ظاہر اور باطن، عقل اور عشق، اور علمِ کسبی و علمِ لدنی کے ٹکراؤ کی وہ لازوال داستان ہے جس کی تہیں آج بھی اہلِ دل پر کھلتی ہیں تو روح وجد میں آ جاتی ہے۔
علمِ لدنی
اسرارِ غیب کا سفر
قسط ۳
حضرت خضر اور حضرت موسیٰؑ ظاہر اور باطن کا ٹکراؤ
کائنات کے ایک ساحل پر دو سمندر آپس میں مل رہے تھے (مجمع البحرین)۔
ایک طرف سے شریعت، نبوت اور ظاہری احکامات کے چمکتے ہوئے آفتاب، حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تھے، اور دوسری طرف باطن، اسرار اور غیبی حکمتوں کے پُررحمت سائے، حضرت خضر علیہ السلام جلوہ گر تھے۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے علم سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا، تو علمِ لدنی کے امین نے پہلا ہی جملہ وہ کہا جو اس پورے علم کا نچوڑ ہے۔
قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا
“انہوں نے کہا: (اے موسیٰ!) آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے۔”
(سورہ الکہف: آیت 67)
سبحان اللہ! علمِ لدنی کا سب سے پہلا ضابطہ یہی ہے: صبر اور تسلیم۔ کیونکہ یہ علم عقل کے ترازو میں پورا نہیں اترتا۔ جب خدا کے اسرار حرکت کرتے ہیں، تو بظاہر وہ عام انسانی عقل کو ظلم، نقصان یا بے وقوفی نظر آتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے الٰہی رحمت کا سمندر موجزن ہوتا ہے۔
تین حیرت انگیز واقعات اور ان کے باطنی اسرار
اس تاریخی سفر میں تین ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے شریعتِ موسویؑ کے ظاہری قوانین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، لیکن جب ان کے پیچھے چھپا ہوا علمِ لدنی آشکار ہوا، تو عقل دنگ رہ گئی۔
۱۔ کشتی کا توڑا جانا (ظاہری نقصان، باطنی حفاظت)
ایک غریب اور مسکین لوگوں کی کشتی تھی جس میں دونوں سوار ہوئے۔ حضرت خضرؑ نے بغیر کسی وجہ کے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ کر اسے عیب دار کر دیا۔ حضرت موسیٰؑ کی شریعت اور عقل پکار اٹھی۔
“کیا آپ نے اسے اس لیے توڑ دیا کہ اس کے سوار ڈوب جائیں؟ یہ تو آپ نے بڑا عجیب کام کیا!”
ظاہری نظر
یہ ظلم ہے، نقصان ہے، بے وقوفی ہے۔
باطنی نظر
آگے ایک ظالم بادشاہ کھڑا تھا جو ہر صحیح اور تندرست کشتی کو زبردستی چھین رہا تھا۔ کشتی کا تختہ توڑ کر اسے عیب دار بنانا بظاہر نقصان تھا، لیکن درحقیقت اس غریب خاندان کی روزی روٹی کو بادشاہ کے ظلم سے بچانے کا واحد الٰہی طریقہ تھا۔
۲۔ لڑکے کا قتل (ظاہری موت، باطنی رحمت)
راستے میں ایک معصوم بچہ کھیل رہا تھا، حضرت خضرؑ نے اسے قتل کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دل تڑپ اٹھا، انہوں نے فرمایا:
“کیا آپ نے ایک پاکیزہ جان کو بغیر کسی قصاص کے قتل کر دیا؟ یہ تو آپ نے نہایت ناپسندیدہ حرکت کی ہے!”
ظاہری نظر
یہ سنگدلی ہے، بے گناہ کا خون ہے۔
باطنی نظر
وہ بچہ بڑا ہو کر سرکش اور کافر بننے والا تھا اور اپنے نیک، صالح ماں باپ کو اپنی گمراہی سے ہلاک کرنے والا تھا۔ اللہ نے اس کی زندگی کا سودا اس کے ایمان سے کر لیا۔ اس بچے کو موت دے کر اس کے والدین کے ایمان کو بھی بچایا گیا، اور اس بچے کو بھی آخرت کے عذاب سے بچا کر والدین کو ایک صالح بیٹی عطا کی گئی۔
۳۔ گرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کرنا (ظاہری بے مروتی، باطنی صلہ رحمی)
ایک بستی کے لوگ اتنے بخیل تھے کہ انہوں نے ان دونوں عظیم ہستیوں کو مسافر جان کر کھانا تک نہ دیا۔ اسی بستی میں ایک دیوار گرنے والی تھی۔ حضرت خضرؑ نے بغیر کوئی اجرت لیے، اپنے ہاتھوں سے اس دیوار کو سیدھا کر کے کھڑا کر دیا۔ حضرت موسیٰؑ نے تعجب سے کہا:
“اگر آپ چاہتے تو اس کام کی مزدوری لے سکتے تھے (تاکہ ہم کھانا کھا لیتے)”۔
ظاہری نظر
احسان فراموشوں کے ساتھ نیکی کرنا اور اپنے حق سے دستبردار ہونا بے وقوفی ہے۔
باطنی نظر
اس دیوار کے نیچے دو یتیم بچوں کا خزانہ دفن تھا، اور ان کا باپ ایک صالح انسان تھا۔ اگر دیوار گر جاتی تو بستی کے لالچی لوگ وہ خزانہ نکال لیتے۔ اللہ کو اپنے ایک صالح بندے کی وفات کے بعد بھی اس کی اولاد کا اتنا خیال تھا کہ اپنے دو مقرب بندوں کو بھیج کر ان کے خزانوں کی حفاظت فرمائی۔
صوفیانہ اسرار اور دلوں کو تڑپا دینے والا نکتہ
سلطان العارفین مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ اس واقعے کے صوفیانہ اسرار کھولتے ہوئے مثنوی شریف میں فرماتے ہیں کہ عام انسان کائنات کو ایک بکھرے ہوئے پزل کی طرح دیکھتا ہے، اسے صرف ایک ٹکڑا نظر آتا ہے اس لیے وہ اعتراض کرتا ہے۔ لیکن صاحبِ علمِ لدنی پوری تصویر کو بیک وقت دیکھ رہا ہوتا ہے۔
مولانا رومیؑ فرماتے ہیں:
خضر چوں کشتی شکست اندر بحار
صد درستی بود در شکستِ یار
(جب حضرت خضرؑ نے سمندر میں کشتی کو توڑا، تو یار (اللہ) کے اس توڑنے کے عمل میں سینکڑوں درستیاں اور حکمتیں چھپی ہوئی تھیں)۔
وہ مزید فرماتے ہیں کہ جب کوئی کامل بندہ خدا کے حکم سے کوئی قدم اٹھاتا ہے، تو اس کا ہاتھ بندے کا نہیں بلکہ خدا کا ہاتھ بن جاتا ہے۔
دستِ خضر نیست جز دستِ خدا
بفشرد آں خضر پر ہائے ہما
(حضرت خضرؑ کا ہاتھ درحقیقت خدا ہی کا ہاتھ تھا، تبھی تو انہوں نے (باطنی مصلحت کے تحت) ہما پرندے کے پر بھی نوچ ڈالے)۔
اے بندگانِ خدا! جو اس تحریر کو پڑھ رہے ہیں، ذرا اپنے دل کے ہاتھوں کو تھام کر سوچیے۔
ہماری زندگیوں میں کتنی ہی کشتیاں ایسی ہیں جو بظاہر ٹوٹ جاتی ہیں؟
کبھی ہمارا کوئی پیارا کاروبار ڈوب جاتا ہے۔
کبھی نوکری چلی جاتی ہے۔
کبھی کوئی خواب ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔
کبھی ہماری مرضی کے خلاف کوئی حادثہ رونما ہو جاتا ہے۔
ہم روتے ہیں، تڑپتے ہیں، اور شکوہ کرتے ہیں کہ “یااللہ! میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟” لیکن ہم نہیں جانتے کہ اس کشتی کے ٹوٹنے کے پیچھے علمِ لدنی کا کون سا راز چھپا ہوا تھا۔ آگے کتنا بڑا ظالم بادشاہ (کوئی بڑی مصیبت یا گمراہی) کھڑا تھا، جس سے بچانے کے لیے ہمارے رحیم رب نے ہماری کشتی کا ایک تختہ خود اپنے ہاتھوں سے اکھاڑ دیا!
علمِ لدنی انسان کو راضی برضا رہنا سکھاتا ہے۔ یہ عقل کے شور کو ختم کر کے روح میں ایک ایسا سکون پیدا کر دیتا ہے کہ بندہ پکار اٹھتا ہے:
“مولا! ظاہر میں جو بھی ہو، مجھے یقین ہے کہ تیرے باطنی فیصلے میں میری ہی بھلائی چھپی ہے۔”
جب انسان اس مقامِ تسلیم پر پہنچتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اپنے اسرار کا امین بنا دیتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دل، جو گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، اس عظیم الٰہی علم کا سورس (مرکز) کیسے بنتا ہے؟ دل کی زمین کو کیسے تیار کیا جاتا ہے؟
#Khaak_e_rawan
![]()

