Daily Roshni News

علم کی روشنی ضروری ہے ۔

علم کی روشنی ضروری ہے ۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )لائن آف کنٹرول کے بالکل پاس، آزاد کشمیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں *کیل* میں احمد رہتا تھا۔ ابا *حاجی کریم* پہاڑوں پر لکڑیاں کاٹ کر بیچتے تھے۔ گھر کچا، چھت ٹپکتی، اور رات کو گولوں کی آواز سے نیند ٹوٹ جاتی۔

*احمد کی ضد:*

8ویں جماعت میں جب سکول کی فیس کے لیے پیسے نہ ہوئے، تو ماسٹر جی نے کہا “بیٹا، تم پڑھائی چھوڑ دو۔”

احمد نے جواب دیا: “ماسٹر جی، میں پڑھوں گا۔ چاہے شمع جلا کر پڑھنا پڑے۔”

*جدوجہد کے سال:*

  1. *بجلی نہیں تھی* – موم بتی کی روشنی میں 12-12 گھنٹے پڑھتا

  2. *کتابیں نہیں تھیں* – آرمی کے ایک میجر صاحب سے پرانی CSS کی کتابیں مانگ کر لایا

  3. *انٹرنیٹ نہیں تھا* – 3 کلومیٹر پیدل جا کر بازار کے ایک کیفے سے نوٹس ڈاؤن لوڈ کرتا

  4. *گولہ باری* – جب شیلنگ ہوتی، تو بنکر میں بیٹھ کر MCQs یاد کرتا

*CSS 2025 کا رزلٹ:*

جب رزلٹ آیا تو *احمد نے پورے پاکستان میں پہلی پوزیشن* حاصل کی۔ *Pakistan Administrative Service* میں ٹاپ کیا۔

TV والے گاؤں پہنچے۔ رپورٹر نے پوچھا: “احمد، LOC پر رہ کر، غربت میں، یہ کیسے ممکن ہوا؟”

احمد نے ٹوٹی ہوئی چھت کی طرف اشارہ کیا: “سر، جب رات کو گولے گرتے تھے، تو میں ڈرتا نہیں تھا۔ سوچتا تھا کہ اگر میں آفیسر بن گیا، تو اپنے گاؤں کے لیے بنکر پکے بنواؤں گا۔ یہی میری موٹیویشن تھی۔”

*آج احمد کیا کر رہا ہے؟*

  1. *اپنی پہلی تنخواہ* سے گاؤں میں لائبریری بنوائی – نام رکھا “شمع لائبریری”

  2. *ہر مہینے 20 بچوں* کی فیس خود دیتا ہے

  3. *LOC کے 10 گاؤں* میں “CSS گائیڈنس کیمپ” لگاتا ہے

  4. *ابا کے لیے* پکا گھر بنوایا، لیکن حاجی کریم اب بھی کہتے ہیں: “پتر، لکڑیاں کاٹنا نہیں چھوڑوں گا۔ محنت کی عادت رہنی چاہیے۔”

*احمد کا پیغام:*

“غربت آپ کا مقام نہیں، آپ کی شروعات ہے۔ LOC پر پیدا ہونے والا بچہ بھی پاکستان چلا سکتا ہے۔ بس شمع جلائے

Loading