عمرانیاتی زوال، عالمی بساط کی الٹ پلٹ اور تاریخ کا بے رحم انتقام: ایک فکری و سیاسی تجزیہ!
تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد)انسانی تاریخ، تہذیبوں کے ارتقاء اور عالمی طاقت کے توازن کا اگر ہم خالصتاً عمرانی، سیاسی اور فلسفیانہ سطح پر بے رحم مطالعہ کریں، تو ایک انتہائی ہولناک اور مسحور کن حقیقت ہمارے سامنے پوری برہنگی کے ساتھ آشکار ہوتی ہے۔
تاریخ ہمیشہ ایک سیدھی لکیر (Linear) میں سفر نہیں کرتی، بلکہ یہ صدیوں تک ایک سست روی سے چلنے کے بعد اچانک ایک ایسے زمان و مکان کے بھنور (Spacetime Vortex) میں داخل ہو جاتی ہے جہاں دہائیوں کا سفر محض چند سالوں، مہینوں یا ہفتوں میں طے ہو جاتا ہے۔
روس کے مشہور انقلاب پسند ولادیمیر لینن نے ایک بار کہا تھا کہ
“تاریخ میں ایسی دہائیاں گزر جاتی ہیں جن میں کچھ نہیں ہوتا، اور پھر ایسے ہفتے آتے ہیں جن میں دہائیاں گزر جاتی ہیں”۔
آج جب ہم اپنی اس جدید، نام نہاد روشن خیال اور ٹیکنالوجی کے نشے میں دھت دنیا پر نظر دوڑاتے ہیں، تو ہمیں شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہم عین اسی تاریخی بھنور کے عین مرکز میں کھڑے ہیں۔
دنیا جس تیزی، جس ہیبت اور جس ناقابلِ فہم رفتاری کے ساتھ انتشار، کیاس (Chaos) اور تباہی کی جانب گامزن ہے، اس نے عالمی سطح پر ماہرینِ سیاست، عمرانیات (Sociologists) اور بین الاقوامی تعلقات کے تھنک ٹینکس کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
وہ دانشور جو کل تک کیپیٹلزم، لبرل ڈیموکریسی اور گلوبلائزیشن کو انسانی تاریخ کی حتمی منزل قرار دے رہے تھے، آج حیران اور پریشان ہیں کہ پچھلے محض تین سے چار سالوں میں آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ مغرب کے مستحکم قلعوں سے لے کر مشرق کے ابھرتے ہوئے بازاروں تک، ہر طرف ایک ایسی فکری، سیاسی اور معاشی افراتفری پھیل گئی ہے جس کا کوئی سرا ان کے جدید ترین سیاسی ماڈلز اور الگورتھمز کی سمجھ میں نہیں آ رہا۔
اس حیرت اور پریشانی کی اصل وجہ وہ فکری مغالطہ (Cognitive Fallacy) ہے جس کا شکار جدید دنیا کا وہ دانشور طبقہ ہوا جس نے تاریخ کو مادی ترقی کی عینک سے پڑھا اور انسانی نفسیات کے ان تاریک ترین پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا جو ہمیشہ تہذیبوں کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔
اس کائناتی اور عالمی انتشار کی جڑوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے اس نفسیاتی اور سیاسی سراب (Mirage) کا پوسٹ مارٹم کرنا ہوگا جسے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد “نیو ورلڈ آرڈر” (New World Order) کے نام سے دنیا پر مسلط کیا گیا تھا۔
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا، تو مغربی مفکرین، بالخصوص فرانسس فوکویاما (Francis Fukuyama) نے “اینڈ آف ہسٹری” (The End of History) کا وہ متکبرانہ اور احمقانہ نظریہ پیش کیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ انسانیت نے اپنے نظریاتی ارتقاء کی آخری منزل یعنی مغربی لبرل جمہوریت کو پا لیا ہے، اور اب تاریخ میں کوئی بڑا نظریاتی تصادم نہیں ہوگا۔
یہ وہ دور تھا جب پوری دنیا کو یہ یقین دلا دیا گیا کہ اب جنگیں نہیں ہوں گی، تجارتی معاہدے (Trade Agreements) میزائلوں کی جگہ لے لیں گے، اور میکڈونلڈز اور مائیکروسافٹ کی کیبلز پوری دنیا کو ایک ایسے پرامن گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیں گی جہاں ہر انسان صرف ایک ‘کنزیومر مشین’ (Consumer Machine) بن کر پرسکون زندگی گزارے گا۔
لیکن علمِ عمرانیات کے بانی، عظیم مسلم مفکر علامہ عبدالرحمٰن ابن خلدون اپنے شہرہ آفاق ‘مقدمہ’ میں تہذیبوں کے عروج و زوال کا جو آفاقی اصول (نظریہِ عصبیت) بیان کرتے ہیں، وہ اس جدید لبرل فریب کو جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے۔
ابن خلدون کے مطابق
“جب کوئی تہذیب اپنے مادی عروج کی انتہاؤں کو چھو لیتی ہے، اس میں تعیشات اور انفرادیت (Individualism) حد سے بڑھ جاتی ہے، تو اس کی اندرونی سماجی بنت (Social Cohesion) کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہے، اور وہ اپنے ہی وزن سے گرنے لگتی ہے۔”
پچھلے تین چار سالوں میں جو کچھ بھی ہوا ہے، وہ دراصل اسی نام نہاد مستحکم لبرل ورلڈ آرڈر کی موت کا باضابطہ اعلان ہے۔
ماہرینِ سیاست جس بات پر حیران ہیں، وہ کوئی اچانک نازل ہونے والا عذاب نہیں ہے، بلکہ یہ ان پالیسیوں، ناانصافیوں اور ریاستی جبر کا وہ منطقی انجام ہے جو پچھلی سات دہائیوں سے اس دنیا کے معاشی اور سیاسی نظام میں ایک کینسر کی طرح پرورش پا رہا تھا۔
اس کیاس اور تباہی کے آغاز کا اگر ہم ایک سائنسی اور سیاسی نقطہِ آغاز (Trigger Point) تلاش کریں، تو وہ بلاشبہ کووڈ-19 کی وہ عالمی وبا تھی جس نے جدید انسانی تاریخ کے سب سے بڑے تکبر کو خاک میں ملا دیا۔
اس ایک غیر مرئی بائیولوجیکل وائرس نے محض چند ہفتوں میں گلوبلائزیشن کے اس عظیم الشان ڈھانچے کی قلعی کھول دی جس پر مغرب کو اتنا ناز تھا۔
سرحدیں بند ہو گئیں، سپلائی چینز (Supply Chains) ٹوٹ گئیں، اور وہ ممالک جو کل تک انسانیت اور گلوبل ولیج کے گن گاتے تھے، وہ ویکسین اور ماسک کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے جہازوں کو ہائی جیک کرنے لگے۔
اس وبا نے دنیا کو معاشی طور پر تو تباہ کیا ہی، لیکن اس نے اس سے بھی بڑا نقصان انسانی نفسیات اور ریاستوں کے مابین اعتماد کو پہنچایا۔
ریاستوں کو یہ سمجھ آ گئی کہ بحران کے وقت کوئی بین الاقوامی قانون یا اقوامِ متحدہ کام نہیں آتی، بلکہ صرف اپنی قومی طاقت اور وسائل ہی بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔
اس نفسیاتی عدم تحفظ (Insecurity) نے دنیا کو دوبارہ ایک ایسی اندھی قوم پرستی (Hyper-Nationalism) کی طرف دھکیل دیا جس کا نتیجہ ہم آج مغرب اور مشرق دونوں میں دیکھ رہے ہیں۔
وبا کے بعد جو معاشی بحران آیا، جس نے مہنگائی کے طوفان کو جنم دیا، اس نے عوام اور حکمران اشرافیہ (Elite) کے درمیان موجود اس خلیج کو اتنا چوڑا کر دیا کہ دنیا بھر میں ریاستی اداروں سے عوام کا اعتبار اٹھ گیا۔
جب عوام کا اعتبار اداروں سے اٹھتا ہے، تو معاشروں میں پولرائزیشن (Polarization) پیدا ہوتی ہے، اور یہی پولرائزیشن آج مغرب کے دل، یعنی امریکہ اور یورپ کو اندر سے دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔
مغربی ماہرین کی پریشانی کا سب سے بڑا محور یہ ہے کہ یہ انتشار صرف تیسری دنیا کے غریب ممالک کا مقدر نہیں رہا، بلکہ یہ کیاس اب مغرب سے مشرق کی طرف سفر کر رہا ہے، اور مغرب خود اس کا سب سے بڑا شکار بن چکا ہے۔
ہم امریکہ کی مثال لیتے ہیں، جو اس نام نہاد ورلڈ آرڈر کا چوکیدار ہے۔
آج کی امریکی سیاست اور اس کا سماجی ڈھانچہ ایک ایسی شدید تقسیم (Cognitive Dissonance) کا شکار ہے جس کی مثال ان کی تاریخ کی خانہ جنگی (Civil War) کے بعد کبھی نہیں ملتی۔
ایک طرف وہ انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست ہیں جو گلوبلائزیشن کو مسترد کر رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ انتہائی بائیں بازو کے فیمنسٹس اور لبرلز ہیں جنہوں نے صنفی اور ثقافتی جنگوں (Culture Wars) کے نام پر معاشرے کی خاندانی اکائیوں کو تباہ کر دیا ہے۔
وہاں اب بحث معیشت یا خارجہ پالیسی پر نہیں ہوتی، بلکہ اس بات پر ہوتی ہے کہ انسان کی بنیادی تعریف کیا ہے۔
جب کسی سپر پاور کا اندرونی فکری اور اخلاقی کمپاس اس قدر تباہ ہو جائے، تو اس کی خارجہ پالیسی میں بھی وہی پاگل پن اور انتشار نظر آتا ہے، جس کا خمیازہ آج پوری دنیا بھگت رہی ہے۔
یورپ، جو کل تک امن اور معاشی ترقی کا استعارہ تھا، آج توانائی کے بحران، دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کے عروج، اور یوکرین کی اس خونریز جنگ کی لپیٹ میں ہے جس نے سرد جنگ کے بعد پہلی بار یورپ کے براعظم پر تیسری عالمی جنگ کے سائے منڈلا دیے ہیں۔
ماہرینِ بین الاقوامی تعلقات جس ‘تھیوسیڈائڈز ٹریپ’ (Thucydides Trap) کی بات کرتے ہیں، یعنی جب ایک ابھرتی ہوئی طاقت (جیسے چین) ایک قائم شدہ طاقت (جیسے امریکہ) کو چیلنج کرتی ہے تو جنگ ناگزیر ہو جاتی ہے، وہ آج ہمارے سامنے ایک بھیانک حقیقت بن کر کھڑا ہے۔
یوکرین کی جنگ محض روس اور یوکرین کا علاقائی تنازعہ نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کے اس نئے ملٹی پولر (Multipolar) آرڈر کی وہ پہلی خونی قسط ہے جس میں مشرق اور مغرب کی لکیریں دوبارہ کھینچی جا رہی ہیں۔
اور اس سے بھی زیادہ حیران کن اور ہولناک پیش رفت، جس نے مغرب کے اس پورے اخلاقی بیانیے کا بے رحم پوسٹ مارٹم کر دیا ہے، وہ مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص غزہ میں برپا ہونے والی وہ حالیہ قیامت ہے جس نے نام نہاد بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹرز، اور اقوامِ متحدہ کے جنیوا کنونشنز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔
پچھلے چند سالوں سے مشرقِ وسطیٰ کو ‘ابراہیم اکارڈز’ (Abraham Accords) اور معاشی انضمام کے نام پر ایک مصنوعی امن کا ٹیکہ لگایا جا رہا تھا، تاکہ مسئلہ فلسطین کو تاریخ کے قبرستان میں ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے۔
لیکن جب مظلوم کی چیخیں اور دہائیوں کا جبر ایک خاص حد سے گزرتا ہے، تو تاریخ کے اپنے الہامی اور عمرانی قوانین حرکت میں آتے ہیں۔
وہ مزاحمت جو مغرب کے خیال میں مر چکی تھی، اس نے ایک ایسا طوفان کھڑا کیا جس نے اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے سیکیورٹی متھ (Security Myth) کو پاش پاش کر دیا۔
لیکن اس کے جواب میں مغرب، بالخصوص امریکہ اور یورپ نے جس ننگی، وحشیانہ اور بے شرم فاشزم کا مظاہرہ کیا اور جس طرح ایک کھلی نسل کشی (Genocide) کی سفارتی، عسکری اور معاشی پشت پناہی کی، اس نے دنیا بھر کے ان کروڑوں باشعور انسانوں اور ماہرین کی آنکھوں سے پٹی کھول دی جو اب تک مغرب کے ‘ہیومن رائٹس’ کے سراب پر یقین رکھتے تھے۔
گلوبل ساؤتھ (Global South)، جس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ شامل ہیں، اب یہ جان چکا ہے کہ مغرب کے بنائے ہوئے ادارے صرف مغرب کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہیں، اور اگر کوئی ان کے مفاد کے خلاف کھڑا ہو جائے تو وہ اسے خاک و خون میں نہلانے سے ذرہ برابر بھی نہیں ہچکچاتے۔
اس واقعے نے دنیا میں اس ‘نارمیٹو پاور’ (Normative Power) یعنی اخلاقی بالادستی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے جس کی بنیاد پر امریکہ دنیا پر حکومت کرتا تھا۔
آج مشرق اور مغرب کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا ہو چکی ہے جسے پاٹنا اب کسی سفارتکاری کے بس کی بات نہیں۔
اس عالمی سیاسی اور معاشی انتشار کے ساتھ ساتھ، ایک اور انتہائی خاموش لیکن سب سے زیادہ خطرناک عنصر جس نے اس کیاس کو مہمیز دی ہے، وہ ٹیکنالوجی اور بالخصوص ‘آرٹیفیشل انٹیلیجنس’ (Artificial Intelligence) اور سوشل میڈیا کا وہ بے لگام ارتقاء ہے جس نے انسانی شعور کو مفلوج کر دیا ہے۔
عمرانیات کے ماہرین حیران ہیں کہ انسان جس قدر آج ایک دوسرے سے جڑا ہوا (Hyper-connected) ہے، وہ تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود انسان جس قدر آج تنہا، نفسیاتی امراض کا شکار اور ایک دوسرے سے متنفر ہے، اس کی بھی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔
ماڈرن ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بنائے ہوئے الگورتھمز (Algorithms) نے معاشروں کو ایسے ‘ایکو چیمبرز’ (Echo Chambers) میں قید کر دیا ہے جہاں ہر انسان صرف وہی سننا اور دیکھنا پسند کرتا ہے جو اس کے اپنے نظریات سے مطابقت رکھتا ہو۔
سچ اور جھوٹ کے درمیان کی لکیر مٹ چکی ہے، جسے فلاسفہ ‘پوسٹ ٹرتھ ایرا’ (Post-Truth Era) کہتے ہیں۔
جب حقائق کی جگہ جذبات اور پروپیگنڈا لے لے، اور ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی کی مدد سے حقیقت کو مسخ کرنا چند سیکنڈ کا کھیل بن جائے، تو معاشروں کے اندر وہ اعتماد جو ریاستی اور سماجی ڈھانچے کو جوڑے رکھتا ہے، وہ مکمل طور پر تباہ ہو جاتا ہے۔
آج کا انسان ایک ایسے ‘ڈیجیٹل ریوڑ’ (Digital Herd) کا حصہ بن چکا ہے جس کی اپنی کوئی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رہی۔
یہی وجہ ہے کہ جب کوئی عالمی بحران سر اٹھاتا ہے، تو دنیا کسی معقول اور منطقی حل کی طرف جانے کے بجائے فوراً انتہائی دائیں یا انتہائی بائیں بازو کی انتہا پسندی کی طرف بھاگتی ہے۔
سیاستدانوں نے جان لیا ہے کہ اب الیکشن معاشی پالیسیوں پر نہیں بلکہ عوام کے خوف (Fear) اور ان کی نفرتوں کو بیچ کر جیتے جاتے ہیں۔
اس نفسیاتی ہائی جیکنگ نے جمہوریت کے اس پورے فلسفے کو ایک کھوکھلا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے، اور یہی وہ خوفناک تبدیلی ہے جو پچھلے تین چار سالوں میں اس قدر تیزی سے وقوع پذیر ہوئی ہے کہ ماہرینِ عمرانیات اپنے روایتی ماڈلز کو اس نئے پاگل پن پر لاگو کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔
دنیا کا یہ موجودہ منظر نامہ محض کوئی وقتی ابال یا عارضی بحران نہیں ہے، بلکہ یہ اس کائناتی، تاریخی اور ارضیاتی سائیکل کا وہ ناگزیر حصہ ہے جسے ہم ‘سسٹم ری سیٹ’ (Systemic Reset) کہتے ہیں۔
جب بھی تاریخ میں کسی ایک طاقت کا غلبہ اپنی انتہاؤں کو چھو کر زوال پذیر ہوتا ہے، تو وہ زوال کبھی بھی پرامن نہیں ہوتا۔
رومی سلطنت کا زوال ہو، عباسی خلافت کا خاتمہ ہو، یا برطانوی سامراج کا ڈوبتا ہوا سورج، ان تمام ادوار میں دنیا نے اسی طرح کے خوفناک انتشار، جنگوں اور سماجی ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کیا تھا۔
آج امریکہ اور اس کے حواریوں کی قائم کردہ لبرل ایمپائر اپنے آخری سانس لے رہی ہے۔
مشرق میں چین کی خاموش مگر مستحکم معاشی یلغار، روس کی بغاوت، برکس (BRICS) جیسے نئے بلاکس کا ابھرنا، اور ڈی-ڈالرائزیشن (De-dollarization) کی وہ تحریک جس نے امریکی کرنسی کی بالادستی کو چیلنج کر دیا ہے، یہ سب اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ عالمی بساط الٹ چکی ہے۔
لیکن ایک مرتی ہوئی سلطنت کبھی آسانی سے ہار نہیں مانتی؛ وہ اپنے زوال کے خوف میں مبتلا ہو کر دنیا بھر میں مزید آگ لگاتی ہے تاکہ کوئی دوسرا اس کی جگہ نہ لے سکے۔
مغرب سے مشرق تک پھیلی ہوئی یہ افراتفری دراصل اسی گرتی ہوئی دیوار کے ملبے کی گرد ہے جس نے پوری دنیا کے منظر نامے کو دھندلا کر دیا ہے۔
ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہم جس دور میں زندہ ہیں، یہ کوئی عام سیاسی دور نہیں ہے، بلکہ یہ تاریخ کے ان چند مخصوص ادوار میں سے ایک ہے جہاں پرانے ضابطے مر چکے ہیں اور نئے ضابطے ابھی پیدا نہیں ہوئے۔
اطالوی مارکسسٹ مفکر انتونیو گرامشی (Antonio Gramsci) کا وہ شہرہ آفاق قول آج کی اس صورتحال پر صد فیصد صادق آتا ہے کہ
“The crisis consists precisely in the fact that the old is dying and the new cannot be born; in this interregnum a great variety of morbid symptoms appear”
(بحران دراصل اس حقیقت پر مشتمل ہے کہ پرانا نظام مر رہا ہے اور نیا نظام پیدا نہیں ہو پا رہا؛ اور اس درمیانی عرصے میں بے شمار بھیانک اور بیمار علامات ظاہر ہوتی ہیں)۔
یہ افراطِ زر، یہ جنگیں، یہ وبائیں، اور یہ سیاسی فاشزم دراصل اسی درمیانی عرصے کی وہ بھیانک علامات ہیں جن پر ماہرینِ سیاست حیران ہیں۔
لیکن، بحیثیت ایک باشعور انسان اور بالخصوص ان آفاقی الہامی اصولوں کو ماننے والے طالبِ علم کے جنہیں قرآنِ مجید نے تاریخ کے قوانین کی صورت میں بیان کیا ہے، ہمیں اس انتشار سے نہ تو مایوس ہونا چاہیے اور نہ ہی حیران۔
تاریخ کا پہیہ جب بھی گھومتا ہے، وہ اپنے ساتھ ان فرسودہ اور ظالمانہ نظاموں کو کچل کر رکھ دیتا ہے جنہوں نے انسانیت کی روح کو یرغمال بنایا ہوتا ہے۔
یہ کیاس، یہ تباہی اور یہ انتشار دراصل اس عظیم الشان کائناتی سرجری کا حصہ ہے جس کے بعد ہی دنیا کے اس جابرانہ عالمی نظام کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
ہمارے لیے سوچنے کا مقام صرف یہ ہے کہ ہم اس گرتی ہوئی عالمی عمارت کے ملبے تلے دب کر مرنے والی قوم بننا چاہتے ہیں، یا اس کیاس کے اندر سے ابھرنے والے ان نئے امکانات، اس نئے شعور اور اس نئی فکری بیداری کا حصہ بننا چاہتے ہیں جو آنے والے کل کی تاریخ لکھے گی؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہمارے انفرادی اور اجتماعی شعور کی بیداری میں پوشیدہ ہے۔
#سنجیدہ_بات
#آزادیات
#بلال #شوکت #آزاد
![]()

