چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرمیڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بڑی بدقسمتی ہے جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، کوئی ہےجو نہیں چاہتا کہ مسائل کا حل نکلے، ایسےتالیاں نہیں بجتیں ایسےمذاکرات نہیں ہوتے۔ سپریم کورٹ آرڈرواضح تھا کوئی ابہام تھا تو نظرثانی کی جاسکتی تھی۔
رہنما تحریک انصاف کے مطابق سپریم کورٹ آرڈر کے مطابق بانی کو اسپتال منتقل اور وہاں رکھنا لازم تھا، سپریم کورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی ہوئی ہے، توہین عدالت الگ چیز ہے،کوشش کی کہ سیاسی مسائل کا سیاسی حل ہو۔
دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹرگوہر نے کہا کہ اگرکوئی کریمنل بھی ہے اسکا حق ہے،فیملی سے ملے، میرا حق نہیں بنتا کہ میں مزید آپ کے ساتھ اس ایوان میں بیٹھوں، میں اپنے ووٹر کو فیس نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جنوری میں حکومت نے یہ بیان دیا کہ ہاں شفٹ کیا ہے انکی آنکھ کا مسئلہ ہے، ہم پچیس مرتبہ ہائی کورٹ 17مرتبہ سپریم کورٹ گئے، اتنی بار سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ جانے کے باوجود ہمیں انصاف نہیں ملا، کوئی ہمارے لیے مشکل پیدا کر رہا ہےکہ ہم آپکے ساتھ پارلیمنٹ میں نہ رہیں۔
دوسری جانب ایک پیغام میں وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں قیدی کو 20 اور21 اگست کی درمیانی شب اسپتال لایا گیا، ماہرامراضِ چشم، امراض قلب اورفزیشن سمیت مستند ڈاکٹرز کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق ڈاکٹرز نے قیدی کو طبی طور پر صحت مند قرار دیا، طبی معائنے کےتمام مراحل کےدوران ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان موجود رہیں، تمام عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں 21 اگست کی صبح تقریبا5 بجےاڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔
عطاتارڑ نے کہا کہ بانی کا طبی معائنہ پمز اسپتال میں کرایا گیا،جس میں شفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے، پی ٹی آئی کارکنوں کیجانب سے شفا اسپتال کے راستے اور باہر سیکیورٹی صورتحال پیداکی گئی، اسی صورتحال کےپیش نظربانی پی ٹی آئی کو پمزاسپتال لے جایا گیا۔
![]()
