عملِ استرخاء
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )لطیفۂ نفسی کی روشنی میں عمل استرخاء کا پہلا قدم سماعت کا حرکت میں آ جانا ہے۔ یہ قدم انسان یا کسی ذی روح کے اندر کے خیالات کو آواز بنا کر صاحب شہود کی سماعت تک پہنچا دیتا ہے۔ تفہیم کے سبق میں اس شہود کو تقویت پہنچانے کے لئے کئی مادی چیزیں بھی استعمال کی جاتی ہیں جن میں سے ایک سیاہ مرچ کا سفوف ہے۔ اس سفوف کو پانی کے ایک دو قطروں کے ذریعے روئی کے چھوٹے سے پھوئے پر لپیٹ کر کانوں کے سوراخوں میں رکھ لیتے ہیں۔ مراقبہ کے وقت بھی اور استرخاء کے وقت بھی۔
عمل استرخاء کا دوسرا قدم یہ ہے کہ لطیفۂ نفسی کی روشنیاں شامہ اور لامسہ کو ترتیب دے سکتی ہیں اور صاحب شہود کسی چیز کو خواہ اس کا فاصلہ لاکھوں برس کی روشنی کے سالوں کا ہو، سونگھ سکتا ہے اور چھو سکتا ہے۔ روشنی کی رفتار فی سیکنڈ دو لاکھ میل سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ لطیفۂ نفسی کی روشنیاں بڑھانے میں کئی طرح کی فکریں خاص طور سے کام میں لائی جاتی ہیں۔ شغل اور فکر کی دو ایک مثالیں دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
نمبر۱:الف انوار جن کے تذکرے پر یہ تمام باب مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے، ایسی صفت جس کا تجزیہ ہم ذات انسانی میں کر سکتے ہیں۔ یہی صفت انسان کا لاشعور ہے۔ عمومی طرزوں میں لاشعور اعمال کی ایسی بنیادوں کو قرار دیا جاتا ہے جن کا علم عقل انسانی کو نہیں ہوتا۔ اگر ہم کسی ایسی بنیاد کی طرف پورے غور و فکر سے مائل ہو جائیں جس کو ہم یا تو نہیں سمجھتےہیں یا سمجھتے ہیں تو اس کی معنویت اور مفہوم ہمارے ذہن میں صرف لا کی ہوتی ہے یعنی ہم اس کو صرف نفی تصور کرتے ہیں۔
ہر ابتداء کا قانون لوح محفوظ کی عبارتوں میں ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم جب ابتداء کی معنویت سے بحث کرتے ہیں یا اپنے ذہنی مفہوم میں کسی چیز کی ابتداء کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس وقت ہمارے تصور کی گہرائیوں میں صرف لا کا مفہوم ہوتا ہے یعنی ہم ابتداء کے پہلے مرحلے میں صرف نفی سے متعارف ہوتے ہیں حالانکہ عقل کی عام قدروں نے اس معانی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ لیکن لوح محفوظ کا قانون ہمیں اس حقیقت کو پوری طرح سمجھنے اور تجزیہ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس لا کا تجزیہ کئے بغیر ہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
ہر وہ حقیقت جس سے ہم کسی طرح، چاہے توہماتی طور پر یا خیالاتی طرزوں پر یا تصوراتی طرز پر روشناس ہیں ایک ہستی رکھتی ہے، خواہ وہ ہستی لا(نفی) یا اثبات ہو۔ جب ہم لوح محفوظ کے قانون کی طرزوں کو سمجھ چکے ہوں تو کسی حقیقت کو خواہ وہ نفی ہو یا اثبات ہو ایک ہی تصور کی روشنی میں دیکھیں گے۔ جب ہم اثبات کو ہے کہتے ہیں یعنی اس کو ایک ہستی سمجھتے ہیں تو نفی کو نہیں ہے کہتے ہیں یعنی اس کو بھی ایسی ہستی قرار دیتے ہیں جس کے ہونے کا علم ہمیں حاصل نہیں۔ گویا ہم لاعلمی کا نام نفی رکھتے ہیں اور علم کا نام اثبات۔ جس کا نام ہم اثبات یا علم رکھتے ہیں وہ بغیر اس کے کہ ہم لاعلمی سے واقفیت رکھتے ہوں ہماری شناخت میں نہیں آ سکتا۔ بالفاظ دیگر پہلے ہم نے لاعلمی کو پہچانا، پھر علم کو۔
علم لا اور علم اِلّا
جب ہمیں ایک چیز کی معرفت حاصل ہو گئی، خواہ وہ لاعلمی ہی کی معرفت ہو، بہرصورت معرفت ہے اور ہر معرفت لوح محفوظ کے قانون میں ایک حقیقت ہوا کرتی ہے۔ پھر بغیر اس کے چارہ نہیں کہ ہم لاعلمی کی معرفت کا نام بھی علم ہی رکھیں۔ اہل تصوف لا علمی کی معرفت کو علم لا اور علم کی معرفت کو علم اِلّا کہتے ہیں۔ یہ دونوں معرفتیں الف انوار کی دو تجلیاں ہیں۔۔۔۔۔۔ایک تجّلی لا اور دوسری تجّلی اِلّا۔
جب کوئی فرد اپنے ذہن میں ان دونوں حقیقتوں کو محفوظ کر لے تو اس کے لئے شہود کے اجزاء کو سمجھنا آسان ہے۔ چنانچہ ہر شہود کے یہی دو اجزاء ہیں جن میں سے پہلا جزو یعنی علم لا کو لاشعور کہتے ہیں۔ جب کوئی طالب روحانیت لاشعور یعنی علم لا سے متعارف ہونا چاہتا ہے تو اسے خارجی دنیا کے تمام تواہمات، تصورات اور خیالات کو بھول جانا پڑتا ہے۔ اس کو اپنی ذات یعنی اپنے ذہن کی داخلی گہرائیوں میں فکر کرنی چاہئے۔ یہ فکر ایک ایسی حرکت ہے جس کو ہم کسی فکر کی شکل اور صورت میں محدود نہیں کر سکتے۔ ہم اس فکر کو فکرِ لا کہتے ہیں۔ یعنی ہمارے ذہن میں تھوڑی دیر کے لئے یا زیادہ دیر کے لئے ایسی حالت وارد ہو جائے جس میں ہر زاویہ لا علمی کا ہو۔ اس فکر لا کو ہم عمل استرخاء کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ عمل استرخاء کے تواتر سے ذہن کے اندرونی دائرے ہر فکر سے خالی ہو جاتے ہیں۔ گویا اس وقت ذہن فکرِ لا میں مستغرق ہو جاتا ہے اور اس استغراق میں لاشعور کا شہود حاصل ہو جاتا ہے۔
لا کے انوار الم کے انوار کا جزو ہیں۔ الم کے انوار کو سمجھنے کے لئے لا کے انوار کا تعین اور ان کی تحلیل ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ لا کے انوار اللہ تعالیٰ کی ایسی صفات ہیں جو وحدانیت کا تعارف کراتی ہیں۔ کئی مرتبہ لوگ یہ سوال کر بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے پہلے کیا تھا؟ ایک صوفی کے یہاں جب سالک کا ذہن پوری طرح تربیت پا جاتا ہے اور لا کے انوار کی صفت سے واقف ہو جاتا ہے تو پھر اس کے ذہن سے اس سوال کا خانہ حذف ہو جاتا ہے کیونکہ صوفی اللہ تعالیٰ کی صفت لا سے واقف ہونے کے بعد اس خیال کو بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی موجودگی سے پہلے بھی کسی موجودگی کا امکان ہے۔ لا کے انوار سے واقف ہونے کے بعد سالک کا ذہن پوری طرح وحدانیت کے تصور کو سمجھ لیتا ہے۔ یہی وہ نقطۂ اول ہے جس سے ایک صوفی یا سالک اللہ تعالیٰ کی معرفت میں پہلا قدم رکھتا ہے۔ اس قدم کے حدود اور دائرے میں پہلے پہل اسے اپنی ذات سے روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے۔ یعنی وہ تلاش کرنے کے باوجود خود کو کہیں نہیں پاتا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا صحیح احساس اور معرفت کا صحیح مفہوم اس کے احساس میں کروٹیں بدلنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کو فنائیت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کو بعض لوگ فناء الٰہیت بھی کہتے ہیں۔ جب تک کسی سالک کے ذہن میں لا کے انوار کی پوری وسعتیں پیدا نہ ہوجائیں وہ اس وقت تک لا کے مفہوم یا معرفت سے روشناس نہیں ہو سکتا۔ کوئی سالک ابتدا میں لا کے انوار کو اپنے ادراک کی گہرائیوں میں محسوس کرتا ہے۔ یہ احساس شعور کی حدوں سے بہت دور اور بعید تر رہتا ہے۔ اس ہی لئے اس احساس کو شعور سے بالاتر یا لاشعور کہہ سکتے ہیں لیکن فکر کی پرواز اس کو چھو لیتی ہے۔ وہ حالت جو عام طور سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا استغراق پیدا کرتی ہے۔ سالک کے ذہن میں اس فکر کو تخلیق کرتی ہے اور تربیت دیتی ہے۔ تفہیم کے اسباق میں پہلا سبق جو جاگنے کا عمل ہے، اس استغراق کے حصول میں بڑی حد تک معاون ہوتا ہے جب اس سبق کے ذریعے صوفی کا ذہن استغراق کے نقش و نگار کی ابتدا کر چکتا ہے اور اس کے اندر قدرے قوتِ القاء پیدا ہو جاتی ہے تو اس فکر کی بنیادیں پڑ جاتی ہیں۔ پھر استرخاء کے ذریعے اس فکر میں حرکت، آب و تاب اور توانائی آنے لگتی ہے۔ جب یہ توانائی نشوونما پا چکتی ہے، اس وقت لا کے انوار ورود میں نگاہ باطن کے سامنے آنے لگتے ہیں اور پھر ان انوار کا ورود اس فکر کو اور زیادہ لطیف بنا دیتا ہے۔ جس سے لاشہود نفسی کی بنا قائم ہو جاتی ہے۔ اس ہی لاشہود کے ذہن میں خضر علیہ السلام، اولیائے تکوین اور ملائکہ پر نظر پڑنے لگتی ہے اور ان سے گفتگو کا اتفاق ہونے لگتا ہے۔ اس ہی لاشہود نفسی کی ایک صلاحیت خضر علیہ السلام، اولیائے تکوین اور ملائکہ کے اشارات و کنایات کا ترجمہ سالک کی زبان میں اس کی سماعت تک پہنچاتی ہے۔ رفتہ رفتہ سوال و جواب کی نوبت آ جاتی ہے اور ملائکہ کے ذریعے غیبی انتظامات کے کتنے ہی انکشافات ہونے لگتے ہیں۔
لا کے مراقبے میں آنکھوں کے زیادہ سے زیادہ بند رکھنے کا اہتمام ضروری ہے۔ مناسب ہے کہ کوئی روئیں دار رومال یا کپڑا آنکھوں کے اوپر بطور بندش استعمال کیا جائے۔ بہتر ہو گا کہ کپڑا تولیہ کی طرح روئیں دار ہو یا اس قسم کا تولیہ ہی استعمال کیا جائے۔ جس کا رؤاں لمبا اور نرم ہو۔ لیکن رؤاں باریک نہ ہونا چاہئے۔ بندش میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ آنکھوں کے پپوٹے تولیہ یا کپڑے کے روئیں کی گرفت میں آ جائیں۔ یہ گرفت ڈھیلی نہیں ہونی چاہئے۔ اور نہ اتنی سخت کہ آنکھیں درد محسوس کرنے لگیں۔ منشاء یہ ہے کہ آنکھوں کے پپوٹے تھوڑا سا دباؤ محسوس کرتے رہیں۔ مناسب دباؤ سے آنکھوں کے ڈیلوں کی حرکت بڑی حد تک معطل ہو جاتی ہے۔ اس تعطل کی حالت میں جب نگاہ سے کام لینے کی کوشش کی جاتی ہے تو آنکھ کی باطنی قوتیں جن کو ہم روحانی آنکھ کی بینائی کہہ سکتے ہیں، حرکت میں آ جاتی ہیں۔
لا کا مراقبہ
مراقبہ کی حالت میں باطنی نگاہ سے کام لینا ہی مقصود ہوتا ہے۔ یہ مقصد اس ہی طرح پورا ہو سکتا ہے کہ آنکھ کے ڈیلوں کو زیادہ سے زیادہ معطل رکھا جائے۔ آنکھ کے ڈیلوں کے تعطل میں جس قدر اضافہ ہو گا اس ہی قدر باطنی نگاہ کی حرکت بڑھتی جائے گی۔ دراصل یہی حرکت روح کی روشنی میں دیکھنے کا میلان پیدا کرتی ہے۔ آنکھ کے ڈیلوں میں تعطل ہو جانے سے لطیفۂ نفسی میں اشتعال ہونے لگتا ہے۔ اور یہ اشتعال باطنی نگاہ کی حرکت کے ساتھ تیز تر ہوتا جاتا ہے جو شہود میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
مثال: انسان کے جسم کی ساخت پر غور کرنے سے اس کی حرکتوں کے نتائج اور قانون کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ بیداری میں آنکھوں کے ڈیلوں پر جلدی غلاف متحرک رہتا ہے۔ جب یہ غلاف حرکت کرتا ہے تو ڈیلوں پر ہلکی ضرب لگاتا ہے اور آنکھ کو ایک لمحہ کے لئے روشنیوں اور مناظرے سے منقطع کر دیتا ہے۔ غلاف کی اس حرکت کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ خارجی چیزیں جس قدر ہیں آنکھ ان سے بالتدریج مطلع ہوتی ہے اور جس جس طرح مطلع ہوتی جاتی ہے ذہن کو بھی اطلاع پہنچاتی رہتی ہے۔ اصول یہ بنا کہ مادی اشیاء کا احساس ہلکی ضرب کے بعد روشنیوں سے انقطاع چاہتا ہے۔ اس اثناء میں وہ ذہن کو بتا دیتا ہے کہ میں نے کیا دیکھا ہے جن چیزوں کو ہم مادی خدوخال میں محسوس کرتے ہیں۔ ان چیزوں کے احساس کو بیدار کرنے کے لئے آنکھوں کے مادی ڈیلے اورغلاف کی مادی حرکات ضروری ہیں۔ اگر ہم ان ہی چیزوں کی معنوی شکل وصورت کا احساس بیدار کرنا چاہیں تو اس عمل کے خلاف اہتمام کرنا پڑے گا۔ اس صورت میں آنکھ کو بند کر کے آنکھ کے ڈیلوں کو معطل اور غیر متحرک کر دینا ضروری ہے۔ مادی اشیاء کا احساس مادی آنکھ میں نگاہ کے ذریعے واقع ہوتا ہے۔ اور جس نگاہ کے ذریعے مادی احساس کا یہ عمل وقوع میں آتا ہے وہی نگاہ کسی چیز کی معنوی شکل وصورت دیکھنے میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ یا یوں کہیئے کہ نگاہ مادی حرکات میں اور روحانی حرکات میں ایک مشترک آلہ ہے۔ دیکھنے کا کام بہر صورت نگاہ ہی انجام دیتی ہے۔ جب ہم آنکھوں کے مادی وسائل کو معطل کر دیں گے اور نگاہ کو متوجہ رکھیں گے تو لوح محفوظ کے قانون کی رو سے قوت القاء اپنا کام انجام دینے پر مجبور ہے۔ پھر نگاہ کسی چیز کی معنوی شکل و صورت کو لازمی دیکھے گی۔ اس لئے کہ جب تک نگاہ دیکھنے کا کام انجام نہ دے دے، قوت القاء کے فرائض پورے نہیں ہوتے۔ اس طرح جب ہم کسی معنوی شکل وصورت کو دیکھنا چاہیں، دیکھ سکتے ہیں۔ اہل تصوف نے اس ہی قسم کے دیکھنے کی مشق کا نام مراقبہ رکھا ہے۔ یہاں ایک اور ضمنی قانون بھی زیر بحث آتا ہے۔ جس طرح لوح محفوظ کے قانون کی رو سے مادی اور روحانی دونوں مشاہدات میں نگاہ کا کام مشترک ہے، اس ہی طرح مادی اور روحانی دونوں صورتوں میں ارادے کا کام بھی مشترک ہے۔ جب ہم آنکھیں کھول کر کسی چیز کو دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلی حرکت ارادہ کرنا ہے یعنی پہلے قوت ارادی میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ اس حرکت سے نگاہ اس قابل ہو جاتی ہے کہ خارجی اطلاعات کو محسوس کر سکے۔ اس ہی طرح جب تک قوت ارادی میں حرکت نہ ہو گی معنوی شکل وصورت کی اطلاعات فراہم نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی شخص عادتاً نگاہ کو معنوی شکل وصورت کے دیکھنے میں استعمال کرنا چاہے تو اسے پہلے پہل ارادے کی حرکت کو معمول بنانا پڑے گا۔ یعنی جب مراقبہ کرنے والا آنکھیں بند کرتا ہے تو سب سے پہلے ارادے میں تعطل واقع ہوتا ہے۔ اس تعطل کو حرکت میں تبدیل کرنے کی عادت ڈالنا ضروری ہے۔ یہ بات مسلسل مشق سے حاصل ہو سکتی ہے۔ جب آنکھ بند کرنے کے باوجود ارادہ میں اضمحلال پیدا نہ ہو اور ارادہ کی حرکت متوسط قوت سے جاری رہے تو نگاہ کو معنوی شکل و صورت دیکھنے میں تساہل نہ ہو گا اور مخفی حرکات کی اطلاعات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جب ہر قسم کی مشق مکمل ہو چکے گی تو اسے آنکھ کھول کر دیکھنے میں یا آنکھ بند کر کے دیکھنے میں کوئی فرق محسوس نہ ہو گا۔
لوح محفوظ کے قانون کی رو سے قوت القاء جس طرح مادی اثرات پیدا کرنے کی پابند رہے، اس ہی طرح معنوی خدوخال کے تخلیق کرنے کی بھی ذمہ دار ہے۔ جتنا کام کسی شخص کی قوت القاء مادی قدروں میں کرتی ہے۔ اتنا ہی کام روحانی قدروں میں بھی انجام دیتی ہے۔ دو آدمیوں کے کام کی مقدار کا فرق ان کی قوت القاء کی مقدار کے فرق کی وجہ سے ہوا کرتا ہے۔
قوت القاء
قوت القاء کی تفصیل یہ ہے کہ صوفی جس کا نام ہوئیت رکھتے ہیں اس کو تفصیلی طور پر ذہن نشین کر لیا جائے۔ دراصل ہوئیت لا کی تجلیات کا مرکز ہے۔ اس مرکزیت کا تحقق قوت القاء کی بنا قائم کرتا ہے۔ اس کی شرح یہ ہے کہ ذات کی تجلیات جب تنزل کر کے واجب کی انطباعیت میں منتقل ہوتی ہیں تو موجودات کے بارے میں علم الٰہی کا عرف تخلیق پا جاتا ہے۔ یہ پہلا تنزل ہے۔ اس چیز کا تذکرہ ہم نے پہلے علم القلم کے نام سے بھی کیا ہے۔ یہ تجلیات ایسے اسرار ہیں جو مشیت ایزدی کا پورا احاطہ کر لیتے ہیں۔ جب مشیت ایزدی ایک مرتبہ اور تنزل کرتی ہے تو یہی اسرار لوح محفوظ کے اجمال کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان ہی شکلوں کا نام مذہب تقدیر مبرم رکھتا ہے۔ دراصل یہ عرف کی عبارتیں ہیں۔ عرف سے مراد وہ معنویت ہے جو حکم الٰہی کی بساط بنتی ہے۔ یہ عرف اجمال کی نوعیت ہے۔ اس میں کوئی تفصیل نہیں پائی جاتی۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ابھی تک دورِ ازلیہ کا اجراء پایا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جہاں تک افادہ بالفعل یا فعلیت کی شاخیں یعنی اختراعات و ایجادات کا سلسلہ جاری ہے، دور ازلیہ شمار ہو گا۔ قیامت تک اور قیامت کے بعد ابد الآباد تک جو جو نئے اعمال پیش آتے رہیں گے۔ خواہ اس میں جنت و دوزخ کے قرون اُولیٰ، قرون وسطیٰ اور قرون اخریٰ ہی کیوں نہ ہوں، دور ازلیہ کے حدود میں ہی سمجھے جائیں گے۔ ابد تک ممکنات کا ہر مظاہرہ ازل ہی کے احاطے میں مقید ہے۔ اس ہی لئے جو بھی تنزل علم القلم کے اسرار کا پیش آ رہا ہے یا پیش آئے گا وہ اس ہی اجمال کی تفصیل ہو گی جو لوح محفوظ کی کلیات کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں لوح محفوظ کا مالک ہوں جس حکم کو چاہوں برقرار رکھوں اور جس حکم کو چاہوں منسوخ کر دوں۔
لِکُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ oیَمْحُواللّٰہُ مَاَ یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَعِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰبِo (سورۂ رعد۔ آیت- 38-39)
ترجمہ: ہر وعدہ ہے لکھا ہوا۔ مٹاتا ہے اللہ جو چاہے اور رکھتا ہے اور اس کے پاس ہے اصل کتاب۔
یہ فرمان اس ہی اجمال کے بارے میں ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب چاہیں اور جس طرح چاہیں اسرار کے مفہوم اور رجحانات بدل سکتے ہیں۔
یہاں ذرا شرح اور بسط کے ساتھ مذکورہ بالا آیت پر غور کرنے سے دور ازلیہ کی وسعتوں کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی کسی مصلحت کو تخلیقی اختراعات اور ایجادات کے اجمال میں بدلنا پسند فرماتے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے منافی نہیں ہے۔ دوسرے تنزل کے بعد اجمال کی تفصیل احکامات کے پورے خدوخال پیش کرتی ہے۔ یہاں تک مکانیت اور زمانیت کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ البتہ جُو یعنی تیسرے تنزل کے بعد جب کوئی شئے عالم تخلیط کی حدود میں داخل ہو کر عنصریت کے لباس کو قبول کرتی ہے۔ اس وقت مکانیت کی بنیادیں پڑتی ہیں۔ یہ القاء کی آخری منزل ہے۔ اس منزل میں جو حالتیں اور صورتیں گزرتی ہیں ان کو افادہ بالفعل کہتے ہیں۔ اس کی مثال سینما سے دی جا سکتی ہے۔ جب آپریٹر مشین کو حرکت دیتا ہے تو فلمی رِیل کا عکس کئی لینسوں (LENSES) کے ذریعے خلاء سے گزر کر پردہ پر پڑتا ہے۔ اگرچہ خلاء میں ہر وہ تصویر جو پردہ پر نظر آ رہی ہے، اپنے تمام خدوخال اور پوری حرکات کے ساتھ موجود ہے لیکن آنکھ اسے دیکھ نہیں سکتی۔ زیادہ سے زیادہ وہ شعاع نظر آتی ہے جس شعاع کے اندر تصویریں موجود ہیں۔ جب یہ تصویریں پردہ سے ٹکراتی ہیں اس وقت ان کی فعلیت پوری طرح دیکھنے والی آنکھ کے احاطے میں سما جاتی ہے۔ اس مظاہرہ کا نام ہی افادہ بالفعل ہے۔ اس مظاہرہ کی حدود میں ہی ہر مکانیت اور ہر زمانیت کی تخلیق ہوتی ہے۔ جب تک کوئی چیز صرف اللہ تعالیٰ کے علم کے حدود میں تھی اس وقت تک اس نے واجب کا لینس (LENSES) عبور نہیں کیا تھا یعنی اس میں حکم کے خدوخال موجود نہیں تھے لیکن واجب کے لینس سے گزرنے کے بعد جب اس چیز کے وجود نے کلیات یا لوح محفوظ کی حدود میں قدم رکھا۔ اس وقت حکم کے خدوخال مرتب ہو گئے۔ پھر اس لینس سے گزرنے کے بعد جُو میں جس کو عالم تمثال بھی کہتے ہیں تمثلات یعنی تصویریں جو حکم کے مضمون اور مفہوم کی وضاحت کرتی ہیں وجود میں آ گئیں۔ اب یہ تصویریں جُو کے لینس سے گزر کر ایک کامل تمثل کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ اس عالم کو عالم تخلیط یا عالم تمثل بھی کہتے ہیں۔ لیکن ابھی عنصریت ان میں شامل نہیں ہوئی یعنی ان تصویروں نے جسم یا جسد خاکی کا لباس نہیں پہنا۔ جب تک ان تصویروں کی عنصریت سے واسطہ نہ پڑے، یہ احساس سے روشناس نہیں ہوتیں۔
القاء کی ابتدا پہلے لینس کے عبوری دور سے ہوتی ہے جب تک موجودات کی تمام فعلیتیں اللہ تعالیٰ کے علم میں رہیں، القاء کی پہلی منزل میں تھیں اور جب لوح محفوظ کے لینس سے گزریں تو احکامات الٰہیہ میں خدوخال اور آثار پیدا ہو گئے۔ یہ القاء کی دوسری منزل ہے۔ جب احکام اور مفہوم کی فعلیتیں جُو کے لینس سے گزر کر شکل وصورت اختیار کر لیتی ہیں تو یہ القاء کی تیسری منزل ہوتی ہے۔ اس منزل سے عبور حاصل کرنے کے بعد تمام تصاویر عالم ناسوت کے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہیں۔ یہاں ان کو مکانیت اور زمانیت اور احساس سے سابقہ پڑتا ہے۔ یہ القاء کی چوتھی منزل ہے۔
سالک مجذوب، مجذوب سالک
القاء دو علم پر مشتمل ہے۔ تصوف میں ایک کا نام حضوری اور دوسرے کا نام علم حصولی ہے۔
جب کوئی امر عالم تحقیق یعنی واجب، کلیات یا جُو کے مرحلوں میں ہوتا ہے اس وقت اس کا نام علم حضوری ہے۔ علم حضوری قرب فرائض اور قرب نوافل دونوں صورتوں میں سالک یا مجذوب کی منزل ہے۔ اکثر اہل تصوف کو سالک اور مجذوب کے معنی میں دھوکا ہوتا ہے۔ سالک کسی ایسے شخص کو سمجھا جاتا ہے جو ظاہری اعمال یا ظاہری لباس سے مزین ہو۔ یہ غلط ہے۔ کسی شخص کا واجبات اور مستحبات ادا کر لینا جن میں فرائض اور سنتیں بھی شامل ہیں۔ سالک ہونے کے لئے بالکل ناکافی ہے۔ صاحب سلوک ہونے کے لئے باطنی کیفیات کو بصورت افتاد طبعی طورپر موجود ہونا یا بصورت اکتساب لطائف کا رنگ محبت اور توحید افعالی کا رنگ قبول کرنا شرط اول ہے۔ اگر کسی شخص کے لطائف میں حرکت نہیں ہے اور وہ توحید افعالی سے رنگین نہیں ہوئے ہیں تو اس کا نام سالک نہیں رکھا جا سکتا۔ کوئی شخص یہ سوال کر سکتا ہے کہ یہ رنگینی اور کیفیت کسی کے اپنے اختیار کی بات نہیں ہے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ چیز اختیاری نہیں۔ اس لئے جو لوگ سلوک کو اختیاری چیز سمجھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ البتہ سلوک کی راہوں میں کوشش امر اختیاری ہے۔ بادئ النظر میں اپنی کوشش کا نام سلوک رکھا جاتا ہے۔ لوگ اس شخص کو سالک کہتے ہیں جو اس راہ میں کوشاں ہو۔ فی الواقع سالک وہی ہے جس کے لطائف رنگین ہو چکے ہیں۔ اگر کسی کے لطائف رنگین نہیں ہوئے ہیں۔ اس کا نام سالک رکھنا صرف اشارہ ہے۔ لوگ منزل رسیدہ کو شیخ اور صاحب ولایت کہتے ہیں۔ حالانکہ منزل رسیدہ وہ ہے جس کے لطائف رنگین ہو چکے ہیں اور جس کے لطائف رنگین ہو چکے ہیں وہ صرف سالک کہلانے کا مستحق ہے۔ ایسا شخص شیخ یا صاحب ولایت کہلانے کا حق ہرگز نہیں رکھتا۔ شیخ یا صاحب ولایت اس شخص کو کہتے ہیں جو توحید افعال سے ترقی کر کے توحید صفاتی کی منزل تک پہنچ چکا ہو۔
لفظ مجذوب کے استعمال میں اور اس کی معنویت اور تفہیم میں بھی اس ہی قسم کی شدید غلطیاں واقع ہوتی ہیں۔ لوگ پاگل اور بدحواس کو مجذوب کہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں کسی پاگل یا دیوانہ کا نام ہی غیر مکلف اور مجذوب ہے۔ یہ ایسی غلطی ہے جس کا ازالہ القاء کے تذکرے میں کر دینا نہایت ضروری ہے۔ عام طور سے لوگ مجذوب سالک یا سالک مجذوب کے بارے میں بحث و تمحیص کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مجذوب سالک سے افضل اور اُولیٰ ہے لیکن وہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ مجذوب سالک کون ہے اور سالک مجذوب کون ہے۔ یہاں اس کی شرح بھی ضروری ہے۔
مجذوب صرف اس شخص کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کھینچ لیا ہو۔ مجذوب کو جذب کی صفت قرب فرائض یا قرب وجود کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اس صفت کے حصول میں قرب نوافل کو ہرگز کوئی دخل نہیں۔
جذب کسی ایسے شخص کی ذات میں واقع ہوتا ہے جو توحید افعالی یعنی لطائف کی رنگینی سے جست کر کے یک بیک توحید ذاتی کی حد میں داخل ہو جائے اسے توحید صفاتی کی منزلیں طے کرنے اور توحید صفاتی سے روشناس ہونے کا موقع نہیں ملتا۔
جس شخص کی روح میں فطری طور پر انسلاخ واقع ہوتا ہے اس کو لطائف کی رنگین کرنے کی جدوجہد میں کوئی خاص کام نہیں کرنا پڑتا یعنی کسی خاص واقعہ یا حادثہ کے تحت جو محض ذہنی فکر کی حدود میں رونما ہوا ہے، اس کے باطن میں توحید افعالی منکشف ہو جاتی ہے۔ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کسی علامت کے ذریعے یا کوئی نشانی دیکھ کر یہ سمجھ جاتا ہے کہ پس پردہ نور غیب میں ایک تحقق موجود ہے اور اس تحقق کے اشارے پر عالم مخفی کی دنیا کام کر رہی ہے اور اس عالم مخفی کے اعمال و حرکات و سکنات کا سایہ یہ کائنات ہے۔ قرآن پاک میں جہاں اس کا تذکرہ ہے کہ اللہ اسے اُچک لیتا ہے وہ اس ہی کی طرف اشارہ ہے۔
ذات باری تعالیٰ سے نوع انسانی یا نوع اجنہ کا ربط دو طرح پر ہے۔ ایک طرح جذب کہلاتی ہے اور دوسری طرح علم۔ صحابۂ کرامؓ کے دور میں اور قرون اُولیٰ میں جن لوگوں کو مرتبۂ احسان حاصل تھا، ان کے لطائف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت سے رنگین تھے۔ انہیں ان دونوں قسم کے ربط کا زیادہ علم نہیں تھا۔ ان کی توجہ زیادہ تر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق غور و فکر میں صرف ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے روحانی قدروں کے جائزے زیادہ نہیں لئے کیونکہ ان کی روحانی تشنگی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقوال پر توجہ صرف کرنے سے رفع ہو جاتی تھی۔ ان کو احادیث میں بہت زیادہ شغف تھا۔ اس انہماک کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ان لوگوں کے ذہن میں احادیث کی صحیح ادبیت، ٹھیک ٹھیک مفہوم اور پوری گہرائیاں موجود تھیں۔ احادیث پڑھنے کے بعد اور احادیث سننے کے بعد وہ احادیث کے انوار سے پورا استفادہ کرتے تھے۔ اس طرح انہیں الفاظ کے نوری تمثلات کی تلاش کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ وہ الفاظ کے نوری تمثلات سے، بغیر کسی تعلیم اور بغیر کسی کوشش کے، روشناس تھے۔
جب مجھے عالم بالا کی طرف رجوع کرنے کے مواقع حاصل ہوئے تو میں نے یہ دیکھا کہ صحابۂ کرامؓ کی ارواح میں ان کے عین قرآن پاک کے انوار اور احادیث کے انوار یعنی نور قدس اور نور نبوت سے لبریز ہیں۔ جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ ان کو لطائف کے رنگین کرنے میں جدوجہد نہیں کرنا پڑتی تھی۔ اس دور میں روحانی قدروں کا ذکر و فکر نہ ہونا اور اس قسم کی چیزوں کا تذکروں میں نہ پایا جانا غالباً اس ہی وجہ سے ہے۔ البتہ تبع تابعین کے بعد لوگوں کے دلوں سے قرآن پاک کے انوار اور احادیث کے انوار معدوم ہونے لگے۔ اس دور میں لوگوں نے ان چیزوں کی تشنگی محسوس کر کے وصول اِلی اللہ کے ذرائع تلاش کئے۔ چنانچہ شیخ نجم الدین اور ان کے شاگرد مثلاً شیخ شہاب الدین سہروردیؒ، خواجہ معین الدین چشتیؒ ایسے لوگ تھے جنہوں نے قرب نوافل کے ذریعے وصول اِلی اللہ کی طرزوں میں لاشمار اختراعات کیں اور طرح طرح کے اذکار و اشغال کی ابتدا کی۔ یہ چیزیں شیخ حسن بصریؒ کے دور میں نہیں ملتیں۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے وہ ربط تلاش کیا جس کو علمی ربط کہا جا سکتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کے جاننے میں ان لوگوں نے انہماک حاصل کیا اور پھر ذات کو سمجھنے کی قدریں قائم کیں۔ اس ہی ربط کا نام صوفی لوگ نسبت علمیہ کہتے ہیں کیونکہ اس ربط یا نسبت کے اجزاء زیادہ تر جاننے پر مشتمل ہیں۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھنے کے لئے کوئی صوفی فکر کا اہتمام کرتا ہے۔ اس وقت وہ معرفت کی ان راہوں پر ہوتا ہے جو ذکر کے ساتھ فکر کے اہتمام سے لبریز ہوتی ہیں۔ اس حالت میں کہہ سکتے ہیں کہ کسی ایسے سالک کو نسبت علمیہ حاصل ہے۔ یہ راستہ یا نسبت، جذب کے راستے یا نسبت سے بالکل الگ ہے۔ اس ہی لئے اس راستے کو قرب نوافل کہتے ہیں۔
خواجہ بہاؤالدین نقشبندیؒ اور حضرت غوث الاعظمؒ کے علاوہ جذب سے اس دور کے کم لوگ روشناس ہوئے۔
نسبت کا بیان
نسبت اویسیہ
نسبت اویسیہ کا انکشاف پہلے پہل حضرت غوث الاعظمؒ کے طریق میں ہوا جس کی مثال پانی کے ایسے چشمے سے دی جا سکتی ہے جو کسی پہاڑ کے اندر یا کسی میدان میں یکایک پھوٹ پڑے اور کچھ دور بہہ کر پھر زمین میں جذب ہو جائے اور مخفی طور پر زمین کے اندر بہتے بہتے پھر کسی جگہ فوارہ صفت پھوٹ نکلے۔ علیٰ ہذالقیاس حضرت غوث الاعظمؒ کے بعد یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔ لوگ اس ہی نسبت کو نسبت اویسیہ کہتے ہیں۔ اس نسبت کا فیضان مخفی طور سے یا تو ملاء اعلیٰ کے ذریعے یا پھر انبیاء کی ارواح کی معرفت یا قرب فرائض کے اولیائے سابقین کی روحوں کے واسطے سے ہوتا ہے۔
نسبت سُکینہ
یہ نسبت اول جذب، پھر عشق اور پھر سُکینہ کی نسبتوں کے مجموعے پر مشتمل ہے۔ سکینہ وہ نسبت ہے جو اکثر صحابہ کرامؓ کو حاصل تھی۔ یہ نسبت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت کے ذریعے نور نبوت کے حصول سے پیدا ہوتی ہے۔
نسبت عشق
جب قلب انسانی میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسان کا ہجوم ہوتا ہے اور انسان قدرت کے عطیات میں فکر کرتا ہے، ا س وقت نور اللہ کے تمثلات بار بار طبیعت انسانی میں موجزن ہوتے ہیں۔ یہاں سے اس ربط یا نسبت عشق کی داغ بیل پڑ جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ اس نسبت کے باطنی انہماک کی کیفیتیں رونما ہونے لگتی ہیں پھر ان لطیفوں یا روشنی کے دائروں پر جو انسانی روحوں کو گھیرے ہوئے ہیں روشنی کا رنگ چڑھنے لگتا ہے۔ یعنی ان دائروں میں انوار الٰہیہ پے در پے پیوسط ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح نسبت عشق کی جڑیں مستحکم ہو جاتی ہیں۔
نسبت جذب
اس نسبت کا تیسرا جزو نسبت جذب ہے۔ یہ وہ نسبت ہے جس کو تبع تابعین کے بعد سب سے پہلے خواجہ بہاء الحق والدین نقشبندی نے نشاننِ بے نشانی کا نام دیا ہے۔ اس ہی کو نقشبندی جماعت یادداشت کا نام دیتی ہے جب عارف کا ذہن اس سمت میں رجوع کرتا ہے جس سمت میں ازل کے انوار چھائے ہوئے ہیں اور ازل سے پہلے کے نقوش موجود ہیں۔ تو یہی نقوش عارف کے قلب میں بار بار دور کرتے ہیں اور صرف وحدت فکرِ عارف کا احاطہ کر لیتی ہے۔ اور ہر طرف ہوئیت کا تسلط ہو جاتا ہے تو یہاں سے اس نسبت کی شعاعیں روح پر نزول کرتی ہیں۔ جب عارف ان میں گھر جاتا ہے اور کسی طرف نکلنے کی راہ نہیں پاتا تو عقل و شعورسے دست بردار ہو کر خود کو اس نسبت کی روشنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔
تنزلات
اب ہم تنزلات کا تذکرہ کرتے ہیں تا کہ اس نسبت کی حقیقت واضح ہو جائے۔ جلی تنزلات تین ہیں۔ ان تنزلات میں ہر جلی تنزل کے ساتھ ایک خفی تنزل بھی ہے۔ ہر جلی اور خفی تنزل کے ساتھ ایک ورود یا ایک شہود کا تعلق ہے۔ پہلا جلی تنزل سرِ اکبر ہے، دوسرا جلی تنزل روحِ اکبر ہے اور تیسرا جلی تنزل شخصِ اکبر ہے۔ شخصِ اکبر اس مظہر کا نام ہے جس کو کائنات کہتے ہیں۔ اس ہی کائنات کو مادی آنکھ دیکھتی ہے اور پہچانتی ہے۔ کائنات کی ساخت میں بساط اول وہ روشنی ہے جس کو قرآن پاک نے ماء(پانی) کے نام سے یاد کیا ہے۔
موجودہ دور کی سائنس میں اس کو گیسوں(GASES) کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان ہی صدہا گیسوں کے اجتماع سے اولاً جو مرکب بنا ہے اس کو پارہ یا پارہ کی مختلف شکلیں بطور مظہر پیش کرتی ہیں۔ ان ہی مرکبات کی بہت سی ترکیبوں سے مادی اجسام کی ساخت عمل میں آتی ہے اور ان ہی مادی اجسام کو موالید ثلاثہ یعنی حیوانات، نباتات اور جمادات کہتے ہیں۔ تصوف کی زبان میں ان گیسوں میں سے ہر گیس کی ابتدائی شکل کا نام نسمہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں نسمہ حرکت کی ان بنیادی شعاعوں کے مجموعہ کا نام ہے جو وجود کی ابتداء کرتی ہے۔
حرکت اس جگہ ان لکیروں کو کہا گیا ہے جو خلاء میں اس طرح پھیلی ہوئی ہیں کہ نہ تو وہ ایک دوسرے سے فاصلہ پر ہیں اور نہ ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔ یہی لکیریں مادی اجسام میں آپس کا واسطہ ہیں۔ ان لکیروں کو صرف شہود کی وہ آنکھ دیکھ سکتی ہے جو روح کی نگاہ کہلاتی ہے۔ کوئی بھی مادی خوردبین اس کو کسی شکل وصورت میں نہیں دیکھ سکتی۔ البتہ ان لکیروں کے تاثرات کو مادیت مظہر کی صورت میں پا سکتی ہے۔ ان ہی لکیروں کو اہل شہود کی تحقیق میں تمثل کی نمود کہا جاتا ہے۔
ٹائم اسپیس کا قانون
جب اسکولوں میں لڑکوں کو ڈرائنگ سکھائی جاتی ہے تو ایک کاغذ جس کو گراف کہتے ہیں۔ ڈرائنگ کی اصل میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کاغذ میں گراف یعنی چھوٹے چھوٹے چوکور خانے ہوتے ہیں۔ ان چوکور خانوں کو بنیاد قرار دے کر ڈرائنگ سکھانے والے استاد چیزوں، جانوروں اور آدمیوں کی تصویریں بنانا سکھاتے ہیں، استاد یہ بتاتے ہیں کہ ان چھوٹے خانوں کی اتنی تعداد سے آدمی کا سر، اتنی تعداد سے ناک، اتنی تعداد سے منہ اور اتنی تعداد سے گردن بنتی ہے۔ ان خانوں کی ناپ سے وہ مختلف اعضاء کی ساخت کا تناسب قائم کرتے ہیں جس سے لڑکوں کو تصویر بنانے میں آسانی ہوتی ہے۔ گویا یہ گراف تصویروں کی اصل ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں اس گراف کو ترتیب دینے سے تصویریں بن جاتی ہیں۔ بالکل اسی طرح نسمہ کی یہ لکیریں تمام مادی اجسام کی ساخت میں اصل کا کام دیتی ہیں۔ ان ہی لکیروں کی ضرب تقسیم موالید ثلاثہ کی ہیئیتیں اور خدوخال بناتی ہیں۔ لوح محفوظ کے قانون کی رو سے دراصل یہ لکیریں یا بے رنگ شعاعیں چھوٹی بڑی حرکات ہیں۔ ان کا جتنا اجتماع ہوتا جائے گا اتنی ہی اور اس طرز کی ٹھوس حسیات ترکیب پاتی جائیں گی۔ ان ہی کی اجتماعیت سے رنگ اور کشش کی طرزیں قیام پاتی ہیں۔ اور ان ہی لکیروں کی حرکت اور گردشیں وقفہ پیدا کرتی ہیں۔ ایک طرف ان لکیروں کی اجتماعیت مکانیت بناتی ہے اور دوسری طرف ان لکیروں کی گردش زمانیت کی تخلیق کرتی ہے۔
تصوف کی اصطلاح میں لکیروں کے اس قانون کو نسمہ کا جذب کہتے ہیں۔ یعنی نسمہ اپنی ضرورت اور اپنے طبعی تقاضوں کے تحت ممکن کی شکل وصورت اختیار کر لیتا ہے۔ تصوف میں ممکن اس چیز کو کہتے ہیں جس کو آخری درجہ میں یا تکمیل کے بعد مادی آنکھ دیکھ سکتی ہے۔ یہ مادی ہیئت جو موالید ثلاثہ کی کسی نوع میں دیکھی جاتی ہے تشخص کہلاتی ہے۔ یہ لکیریں تشخص سے پیشتر جن بنیادی ہیئت کی تخلیق کرتی ہیں ان ہیئت کا نام تصوف کی زبان میں تحقق ہے۔ اس ہیئت کو تمثل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہیئت دراصل مفرد ہے۔ لوح محفوظ کے قانون میں نسمہ کی وہ شباہت جس کو مادی آنکھ نہیں دیکھ سکتی ہیئت مفرد، تحقق یا تمثل کہلاتی ہے۔ اور نسمہ کی وہ شکل و صورت جس کو مادی آنکھ دیکھ سکتی ہے ہیئت مرکب تشخص یا جسم کہلاتی ہے۔ جب ہیئت مفرد اجتماعیت کی صورت میں اقدام کر کے اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے تو ہیئتِ مرکب ہو جاتی ہے۔ گویا ابتدائی حالت ہیئتِ مفرد ہے اور انتہائی حالت ہیئتِ مرکب ہے۔ ابتدائی حالت کو روح کی آنکھ اور انتہائی حالت کو جسم کی آنکھ دیکھتی ہے۔
نسمہ وہ مخفی روشنی ہے جس کو نور کی روشنیوں میں دیکھا جا سکتا ہے اور نور وہ مخفی روشنی ہے جو خود بھی نظر آتی ہے اور دوسری مخفی روشنیوں کو بھی دکھاتی ہے۔
![]()

