Daily Roshni News

عنوان: شہرِ وفا کا آخری چراغ ۔۔تحریر : حقیقت اور فسانہ ۔

🖋️ عنوان: شہرِ وفا کا آخری چراغ 💔

تحریر : حقیقت اور فسانہ ۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )لاہور کا پرانا شہر… انارکلی کی تنگ گلیاں، جہاں مکان ایک دوسرے سے اتنے چپکے ہوئے ہیں جیسے راز چھپانے والے ساتھی۔

چیختی چرخیں، مصالحوں کی خوشبو، اور موٹر سائیکلوں کے ہارن۔ اس شور میں ایک خاموش گلی تھی، موضع شاد باغ۔اور اس گلی میں ایک مکان تھا، جہاں عارفہ رہتی تھی۔

بیس سال کی نازک سی لڑکی۔ آنکھوں میں خواب، ہاتھ میں کتاب، اور دل میں ایک عزم۔

اس کے تایا سلیم، گھر کے سربراہ تھے۔ سفید داڑھی والا، سخت گیر آدمی۔ باتیں بہت کم کرتے، لیکن جب کرتے تو فیصلہ سنا دیتے۔

عارفہ کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔ تایا ہی ماں باپ تھے۔

لیکن تایا کی بیوی، تائی جی، کچھ اور ہی سوچتی تھیں۔

ان کی نظر میں عارفہ ایک بوجھ تھی۔ لڑکی بڑی ہو گئی، اب اسے “دوسرے گھر” بھیجنا ضروری ہے۔

ایک دن تایا نے عارفہ کو بلایا۔

“بیٹا، تیری تائی کا بھتیجا کام کرتا ہے شہر میں۔ اچھا گھر ہے، اچھی آمدنی ہے۔ ہم نے تمہاری نسبت طے کر دی ہے۔”

عارفہ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔

“ابا جان… میں نے ابھی بی اے مکمل نہیں کیا۔ مجھے پڑھنا ہے۔ مجھے استاد بننا ہے۔”

تایا نے آنکھیں نیچی کر لیں۔ “لڑکی کو پڑھ کر کیا کرنا ہے، بیٹا؟ تمہارا مستقبل اسی میں ہے۔”

عارفہ نے چپ رہنا بہتر سمجھا۔ لیکن اس چپ میں طوفان تھا۔

گھر میں اکثر اوقات عارفہ اکیلی رہ جاتی۔ تائی جی بازار چلی جاتیں، تایا دوکان پر۔

اور اسی دوران، تایا کا بیٹا، سلیم، جو عارفہ کا تایا زاد بھائی تھا، موقع پا کر گھر آ جاتا۔

سلیم عمر میں عارفہ سے تین سال بڑا تھا۔ پڑھائی چھوڑ چکا تھا۔ موبائل پر ویڈیوز دیکھنا اور گھر میں گھومنا اس کا کام تھا۔

ایک دن، جب گھر میں صرف عارفہ تھی، سلیم آیا۔ پہلے تو معمولی باتیں کیں۔ پھر بولا، “عارفی، سن… تجھے پتا ہے تیرے لیے رشتہ آیا ہے؟”

عارفہ نے سر اٹھایا۔ “ہاں، مجھے پتا ہے۔”

سلیم قریب ہوا۔ “تو کیا سوچا ہے؟”

“میں شادی نہیں کروں گی، ابھی نہیں۔”

سلیم کی آنکھوں میں چمک آئی۔ “تو پھر کوئی اور راستہ نکالتے ہیں۔”

عارفہ حیران رہ گئی۔ “کیا مطلب؟”

سلیم نے آواز نیچی کی۔ “تم دونوں ہاتھوں سے دعائیں مانگ رہی ہو، اور اللہ تمہیں راستہ دے رہا ہے۔ میں ہوں نا۔”

عارفہ کو سمجھ نہیں آیا۔ “تم؟”

“ہم دونوں بھاگ سکتے ہیں۔ شادی کر لیں گے۔ پھر کوئی تمہیں مجبور نہیں کرے گا۔”

عارفہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ “پاگل ہو گئے ہو؟ تم میرے بھائی ہو۔”

سلیم مسکرایا۔ “تایا زاد بھائی۔ شریعت میں اجازت ہے۔ خون کا رشتہ نہیں۔”

عارفہ پیچھے ہٹی۔ “یہ حرام ہے۔ ہمارے معاشرے میں، ہمارے گھر میں، یہ… یہ غلط ہے۔”

سلیم نے ہاتھ بڑھایا۔ “تم صرف اتنا سوچو، میں تمہیں پڑھنے دوں گا۔ تمہارے خواب پورے کروں گا۔ گھر والے منع کر رہے ہیں، میں تمہیں آزادی دوں گا۔”

عارفہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ الجھن میں تھی۔

لیکن اس کے دل کی گہرائی میں ایک آواز تھی—تعلیم، خواب، استاد بننا۔ اور سلیم اس آواز کو پورا کرنے کا وعدہ کر رہا تھا۔

کئی دن یہ سلسلہ چلتا رہا۔ سلیم موقع پا کر باتیں کرتا، عارفہ سنتی، سوچتی، اور ڈرتی۔

ایک دن عارفہ نے صاف کہہ دیا۔

“سلیم، میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ میں شادی سے پہلے اپنی تعلیم مکمل کروں گی۔ اگر کسی نے مجھے زبردستی روکا، اگر کوئی مجھے مجبور کرے گا…”

اس نے گہری سانس لی۔

“…تو میں زہر کھا لوں گی۔”

سلیم خاموش رہا۔ وہ جانتا تھا، عارفہ مذاق نہیں کر رہی۔

لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

تایا کو بھانپ گیا۔ انہوں نے دیکھا کہ سلیم اور عارفہ کی خاموشیاں لمبی ہوتی جا رہی ہیں، نظریں جھکتی جا رہی ہیں۔

خطرہ محسوس کرتے ہوئے، انہوں نے فیصلہ سنا دیا۔

“عارفہ کی شادی طے ہے۔ تائی کے بھتیجے سے۔ تاریخ بھی مقرر ہو گئی۔ دو ماہ بعد، بیس جون۔”

عارفہ سن کر پتھر بن گئی۔

اس رات وہ چھت پر کھڑی تھی۔ لاہور کی رات، دور مینارِ پاکستان کی روشنی، اور اندھیرے میں کہیں ایک اجڑی سی آواز—شاید اس کا اپنا دل تھا۔

سلیم نے پھر موقع دیکھا۔

“عارفہ، اب وقت ختم ہو گیا ہے۔ کل رات گاڑی لے کر آؤں گا۔ ہم نکل جائیں گے۔ کوئی نہیں روک سکے گا۔”

عارفہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“اور اگر میں نہ آئی؟”

سلیم نے ہاتھ پکڑ لیا۔ “تو پھر تم بیس جون کو اس اجنبی کے گھر چلی جاؤ گی۔ اور تمہارے خواب، تمہاری کتابیں، تمہارا استاد بننا… سب مر جائے گا۔”

عارفہ نے ہاتھ چھڑا لیا۔

“مجھے رات دو۔”

رات گزرتی گئی۔ عارفہ نے نماز پڑھی، قرآن پڑھا، اور آنسو بہائے۔

وہ سوچتی رہی—یہ سلیم نہیں، یہ میرے خواب کا ساتھی ہے۔ لیکن کیا یہ راستہ صحیح ہے؟ کیا بھاگنا جواب ہے؟ کیا معاشرہ، گھر، عزت—سب کچھ چھوڑ دینا؟

صبح ہوئی تو عارفہ کی آنکھیں سرخ تھیں۔ لیکن چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔

سلیم نے موقع پا کر پوچھا، “کیا فیصلہ کیا؟”

عارفہ نے آہستہ سے کہا، “میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی۔”

سلیم حیران۔ “کیوں؟”

“کیونکہ تم میری نجات کا راستہ نہیں ہو۔ تم صرف ایک اور جیل ہو، ایک اور ڈر۔ میں اپنے فیصلے خود کروں گی، کسی کی چھتری تلے نہیں۔”

سلیم نے غصے میں کہا، “تو پھر تم شادی کرو گی اس اجنبی سے؟”

عارفہ نے سر اٹھایا۔ “نہیں، میں اس سے بھی شادی نہیں کروں گی۔”

اس نے تایا کو سامنے پایا۔

“ابا جان، میں عزت سے کہہ رہی ہوں۔ مجھے پڑھنے دیں۔ میری شادی نہ کریں۔ اگر آپ نے مجبور کیا، تو میں اپنے فیصلے خود کروں گی۔ اور وہ فیصلہ آپ کو پسند نہیں آئے گا۔”

تایا نے پہلی بار اس لڑکی کو دیکھا—اس کی آنکھوں میں آگ تھی، التجا نہیں۔

وہ خاموش رہے۔

کچھ دنوں بعد، تایا نے رشتہ ٹھنڈا کر دیا۔ کہا، “لڑکی ابھی چھوٹی ہے، پڑھنے دو۔”

تائی جی ناراض تھیں، لیکن تایا خاموش رہے۔

عارفہ نے بی اے مکمل کیا۔ پھر ایم اے۔ آج وہ ایک سرکاری اسکول میں پڑھاتی ہے۔

سلیم کی شادی ہو گئی، دوسرے شہر چلا گیا۔ ملنا تو ہوتا ہے، مگر آنکھیں نہیں ملتیں۔

عارفہ آج بھی اسی گلی میں رہتی ہے۔ وہی مکان، وہی چھت۔ لیکن اب وہ چراغ جو بجھنے والا تھا، روشن ہے۔

اکثر شام کو وہ چھت پر کھڑی ہوتی ہے، دور مینارِ پاکستان کی روشنیاں دیکھتی ہے، اور مسکراتی ہے۔

کبھی کبھی سوچتی ہے—اگر وہ رات بھاگ گئی ہوتی، تو آج کہاں ہوتی؟

لیکن پھر وہ اپنی کتابوں کی الماری دیکھتی ہے، اور سب کچھ صاف ہو جاتا ہے۔

وہ نہیں بھاگی۔

وہ ٹھہر گئی۔

اور جیت گئی۔

🌙

خلاصہ یہ کہ:

عارفی نے ثابت کر دیا کہ عورت کی آزادی کسی مرد کے سہارے نہیں، اس کے اپنے فیصلوں میں چھپی ہوتی ہے۔ اس نے نہ تو خاندان کو چھوڑا، نہ خوابوں کو۔ بس اپنی مرضی کی قیمت ادا کی—اور وہ قیمت اس کی خودداری تھی۔

کیا آپ نے کبھی اپنی زندگی میں کوئی ایسا فیصلہ کیا ہے جس پر پورا گھر شور مچا رہا تھا، لیکن آپ ڈٹے رہے؟ تبصرے میں ضرور بتائیں۔ 💬

اس کہانی نے آپ کے دل کو چھوا تو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

ایسی اور سچی کہانیوں کے لیے، ہمارے پیج حقیقت اور فسانہ کو ضرور فالو کریں۔

Loading