*عورت کی آواز*
شاعرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سونیا علی
میں تو عورت ہوں
میرے دکھ کا مداوا کوئی کیوں کرے گا
میں خود ہی پرو لیتی ہوں
موتیوں کی طرح اپنے دکھ اپنے اندر
میں تو عورت ہوں
مجھے ایسی نظر سے دیکھا جاتا ہے
جرم نا بھی ہو مجرم بنا دیا جاتا ہے
میں تو عورت ہوں
میرے خوابوں کی تکمیل سے پہلے ہی
ریت کے ذروں کی طرح ریزہ ریزہ کر دیا جاتا ہے
میں تو عورت ہوں
ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ تو
مجھے خود ہی اس کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے
میں تو عورت ہوں
سر اٹھا کے جینا چاہوں
سر جکھا کے جینا میرا مقدر بنا دیا جاتا ہے
میں تو عورت ہوں
سب کچھ برداشت کر کے بھی
مجھے خود پر فخر ہے
میں عورت ہوں
سونیا علی
![]()

