Daily Roshni News

عُزی’ ، ایک شیطانی قوت کا انجام..

عُزی’ ، ایک شیطانی قوت کا انجام..

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قدیم عرب کے زمانے سے ہی عزی’ کے بت کا ایک شاندار مندر بنایا گیا تھا، اس مندر میں دوبیہ اسوینی نامی ایک پجاری عزیٰ کے بت کی دیکھ بھال اور خدمت کرتا تھا۔ مندر کے سامنے تھوڑے فاصلے پر جھاؤ کے تین درخت تھے۔ ان درختوں پر عزیٰ جننی کا بسیرا تھا۔ اس بارے میں کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ عزیٰ بت جس کی پوجا کی جاتی ہے ایک شیطانی جناتی طاقت تھی جو ان درختوں پر رہتی تھی اور جو اسی کے مندر کے قریب واقع تھے۔ جب کبھی لوگ عزی کے بت کی پوجا اور چڑھاووں اور منتوں کے لئے آتے تھے تو وہ مندر میں رکھے بت میں داخل ہو کر باتیں کرتی تھی،  اپنی شیطانی قوتوں سے لوگوں کے مسائل حل کرتی تھی اور اس طریقے سے انہیں بھٹکاتی تھی۔ اس کا آقا شیطان اس کی اس کارکردگی پر خوش تھا۔

جب مکہ فتح کر لیا گیا تو کچھ دنوں بعد بتوں کی شامت آ گئی۔ خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بت توڑے جانے لگے اور اصل سچے رب کا نور چمکنے لگا۔ خانہ کعبہ سے بتوں کو ہٹانے کے بعد مختلف دیہاتوں اور بستیوں میں بنے مندروں کے بتوں کی باری آ گئی۔ چھوٹے موٹے بتوں کو تباہ کرنے کے بعد عزیٰ کی باری آ گئی۔

25 رمضان المبارک کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو طلب فرمایا۔ انسانی تاریخ کے سب سے قابل ترین جرنیل خالد رضی اللہ عنہ کو عزیٰ کی تباہی کا مشن سونپا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رض کو حکم دیا کہ وہ عزیٰ کے مندر کے قریب تین جھاؤ کے درختوں میں سے ایک کو جا کر کاٹ دیں۔ آپ رض بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم پا کر خراض بستی میں پہنچے، مندر کو تلاش کیا اور اس کے قریب واقع جھاؤ کے درختوں میں سے ایک کو کاٹ دیا اور واپس آ گئے۔

جب آپ رض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخت کاٹنے کا حال بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے خالد رض، جب آپ درخت کاٹ رہے تھے تو اس دوران کوئی واقعہ پیش آیا؟

حضرت خالد بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، میں نے کوئی بھی واقعہ رونما ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔

اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ حضرت خالد کو حکم دیا کہ آپ دوسرا درخت بھی کاٹ دیجئے۔ ایک بار پھر حضرت خالد رض وہاں پہنچے اور درخت کاٹنے کے بعد واپس آ کر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخت کاٹنے کا احوال بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار پھر استفسار فرمایا: اے خالد رض، اس بار جب آپ درخت کاٹ رہے تھے تو کوئی واقعہ پیش آیا؟

حضرت خالد نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اس بار بھی کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار پھر حضرت خالد رض کو تیسرے درخت کو کاٹنے کا حکم دے کر بھیجا۔

تیسری بار جب حضرت خالد بن ولید رض تیسرے درخت کے قریب اسے کاٹنے کی نیت سے پہنچے تو اچانک عزیٰ نامی جننی آپ رض کے سامنے ظاہر ہو گئی۔ وہ ایک کریہہ صورت ننگی بڑھیا کے روپ میں تھی اور شعلے برساتی آنکھوں سے حضرت خالد کو گھورنے لگی۔ اچانک مندر کا پجاری بلند آواز سے پکار کر بولا: عزیٰ! خالد کو قتل کر دے، اگر تو نے خالد کو قتل نہ کیا تو آج تو ذلیل و رسوا ہو جائے گی۔

عزیٰ حضرت خالد کی جانب بڑھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار نکالی اور اللہ کا نام لے کر عزیٰ پر حملہ کر دیا۔ پہلے ہی وار میں عزیٰ کا سر تن سے جدا ہو گیا۔ اس کے زمین پر گرتے ہی اس کا جسم دھڑ دھڑ جلنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد آپ رض کے سامنے کوئلے کا ایک ڈھیر پڑا ہوا تھا۔

آپ رض نے اسے ختم کرنے کے بعد اس کے بت کے بھی ٹکڑے کر دیئے۔ پھر اس کے بعد مندر کے پجاری کو بھی قتل کر کے واپس روانہ ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سارا قصہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یہ عزیٰ تھی۔ اب یہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی ہے، اس کی دوبارہ اب پوجا نہیں ہو گی۔

اور یوں صدیوں تک پوجی جانے والی شیطانی طاقت کا خاتمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سیف اللہ خالد رضی اللہ عنہ نے کر دیا۔

حوالہ

(بلوغ العرب ۔ جلد سوئم ، صفحہ نمبر 81 )

تحریر و تحقیق مجنوں. سنہ 2017

Loading