Daily Roshni News

غزل۔۔۔شاعرہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  شائستہ مفتی

غزل

شاعرہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  شائستہ مفتی

ریت پر نقش جماتے ہوئے مر جاتے ہیں

زندگی تجھ سے نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

زندہ رہنا ہے کسے، کس کو گزر جانا ہے

لوگ تقدیر ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں

دیدہءشوق تری دیدہ وری کے صدقے

لوگ ہنستے ہیں ہنساتے ہوئے مر جاتے ہیں

کسقدر خواب سے بوجھل ہیں نگاہیں اس کی

بزم میں آنکھ ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں

جانیئے کون کہاں کس سے تقاضا کر لے

جان پر قرض اٹھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

پھر اسی صبح کی رنگین حسیں ساعت میں

ہجر کی رات بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہیں مرے دوست مگر شکوہ کوئی کیا کیجیے

زخم جو دل پہ لگاتے ہوئے مر جاتے ہیں

جن کا دعوٰی ہے مسیحائی، شناسائی کا

رونے والوں کو رلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہائے اس زیست کا ہنگام کہ فرصت نہ ملی

بوجھ اک دل پہ اٹھاتے ہوئے مر جاتے

شائستہ مفتی

Loading