غزل
شاعر۔۔۔ماہر القادری
وہ ہنس ہنس کے وعدے کئے جا رہے ہیں
فریب تمنا دئے جا رہے ہیں
ترا نام لے کر جئے جا رہے ہیں
گناہ محبت کئے جا رہے ہیں
مرے زخم دل کا مقدر تو دیکھو
نگاہوں سے ٹانکے دئے جا رہے ہیں
نہیں دل میں باقی سکت ضبط غم کی
مگر آنسوؤں کو پئے جا رہے ہیں
مرے شق دیدار کا حال سن کر
قیامت کے وعدے کئے جا رہے ہیں
دھڑکتے ہوئے دل کے پردے میں چھپ کر
پیام محبت دئے جا رہے ہیں
حریم تجلی میں ذوق نظر ہے
نگاہوں سے سجدے کئے جا رہے ہیں
نہ کالی گھٹائیں نہ پھولوں کا موسم
مگر پینے والے پئے جا رہے ہیں
تری محفل ناز سے اٹھنے والے
نگاہوں میں تجھ کو لئے جا رہے ہیں
ابھی ہے اسیری کا آغاز ماہرؔ
ابھی تو فقط پر سیے جا رہے ہیں
![]()

