۔ خصوصی کلام
شاعر۔۔۔ حضرت بابا ذہین شاہ تاجیؒ
تُو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
اب مجھے ہوش کی دُنیا میں تماشا نہ بنا
عشق میں دیدۂ دل، شیشہ و پیمانہ بنا
جھوم کر بیٹھ گئے، ہم وہیں مَے خانہ بنا
یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں
دلِ مایوس کو مانوسِ تمنا نہ بنا
دلِ بیتاب کو تسکینِ تبسم سے نہ دے
چشمِ مجنوں کے لیے محملِ لیلیٰ نہ بنا
ذوقِ بربادیِ دل کو بھی نہ کر تُو برباد
دل کی اُجڑی ہوئی، بگڑی ہوئی دُنیا نہ بنا
منکرِ ہوش ہوں میں، معتقدِ ہوش نہ کر
مستِ امروز کو محوِ غمِ فردا نہ بنا
یوسفِ مصرِ تمنا، ترے جلووں کے نثار
میری بیداریوں کو خوابِ زلیخا نہ بنا
نگہِ ناز سے پوچھیں گے کسی دن یہ ذہینؔ
تُو نے کیا کیا نہ بنایا، کوئی کیا کیا نہ بنا
شاعر: حضرت بابا ذہین شاہ تاجیؒ
انتخاب: شامی
![]()

