غزل
شاعر ۔۔۔۔۔۔ خمار بارہ بنکوی
مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیا
تم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیا
کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر
کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا
واعظ سلام لے کہ چلا میکدے کو میں
فردوس گمشدہ کا پتہ یاد آ گیا
برسے بغیر ہی جو گھٹا گھر کے کھل گئی
اک بیوفا کا عہد وفا یاد آ گیا
مانگیں گے اب دعا کہ اسے بھول جائیں ہم
لیکن جو وہ بوقت دعا یاد آ گیا
حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمار
کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا
خمار بارہ بنکوی
وفات 19 فروری 1999
![]()

