غزل
شاعرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہین کاظمی
حسن اور عشق کے مغالطے عجیب ہیں
دل کے اور نگاہ کے یہ ضابطے عجیب ہیں
سانس سانس قربتیں ہیں بات بات دوریاں
تیرے میرے درمیاں یہ رابطے عجیب ہیں
منظروں میں جابجا گُھلی ہوئی اُداسیاں
بےثبات موسموں کے سلسلے عجیب ہیں
تار تار ٹوٹ کر گرہ گرہ رفو ہوئی
اِس قبائے عمر کے یہ حادثے عجیب ہیں
عمر بھر بندھے رہے ہیں پاؤں پاؤں راستے
منزلیں عجیب تر ہیں فاصلے عجیب ہیں
شاھین کاظمی.
![]()

