Daily Roshni News

غزل ( بحر ) رنجش ہی سہی، فراز احمد فراز صاحب۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی گولڈ میڈلسٹ

غزل ( بحر ) رنجش ہی سہی، فراز احمد فراز صاحب

غزل

مقتل پہ کبھی پھول، چڑھانے کے لئے آ

یہ آ خری قرضہ بھی ، چکا نے کے لئے آ

دیتے ہیں اب تو غیر بھی، آ آ کے دعائیں

دو ہاتھ، کبھی تو بھی ، ا ٹھانے کے لئے آ

بھرنے لگے ہیں اس دل آ زردہ کے گھاؤ

آ دل پہ نیا زخم، لگانے کے لیے آ

آ تے ہیں بہت یاد، وہ قربت کے زمانے

یادوں کے نشاں دل سے ، مٹانے کے لیے آ

اک عمر سے مشتاق نظارہ ہیں یہ آنکھیں

آ حسن کی، خیرات، لٹانے کے لیے آ

اک عمر سے گردش میں ہیں ناصر کے ستارے

سوئے ہوئے بختوں کو، جگانے کے لیے آ

ناصر نظامی

گولڈ میڈلسٹ

ا یمسٹرڈم ہالینڈ

Loading