Daily Roshni News

غزل ۔۔۔ شاعر۔۔۔ ناصر نظامی (گولڈ میڈلسٹ)

غزل
کمان حسن سے جب تیر پر خطر نکلے

چھید کر قلب و نظر، چیر کر ، جگر نکلے

جن کو معصوم سمجھتے تھے، ستم گر نکلے

جن کو ہم پھول سمجھتے تھے وہ، پتھر نکلے

کوئی آ تش میں جلا، کوئی سولی پہ چڑھا
عشق کے کوچے سے کب لوگ ہیں بچ، کر

عشق کے سر پہ تو، کرب و بلا کا سایہ ہے
کٹا کے لوگ یہاں سر ہیں، سر بہ سر نکلے

ازل سے ایک تھا جو، دو وہ ہو گیا کیسے
ایک سے ایک ہو تقسیم تو، صفر نکلے

نکتہ یکتائی کا آ نا سمجھ میں مشکل ہے
اگر نہ دوئی کا یارو یہ دل سے،شر نکلے

شیشے کے ٹوٹ کے ہو جائیں چاہے سو ٹکڑے
چہرہ ہر ٹکڑے میں آ تا ہے اک، نظر نکلے

کہیں وہ غار میں کرتا ہے جلوہ آ را ئی
کہیں وہ طور کا بن بن کے ہے، منظر نکلے
ہو کے مسجود، سمجھتا ہے خود کو تو ساجد
وہم یہ کیسے تیرے دل سے، بے خبر نکلے

خود اپنے سامنے اس نے کرایا سجدہ تجھے
تیرے دل سے نہ مگر غیر کا یہ، ڈر نکلے

صنم پرستی سے ہم کو جو منع کرتا ہے
اس نے اک بت میں بنایا ہے اپنا، گھر نکلے

عشق صادق ہو تو کانٹے بھی پھول لگتے ہیں
لگن ہو سچی تو، دیوار میں بھی، در نکلے

کوئی آ تش میں جلا، سولی پہ کوئی، چڑھا
عشق کے کوچے سے کب لوگ ہیں بچ،کر نکلے

آگ کے تیز آ لاؤ میں برسوں جل جل کے
بن کے سنگ ریزہ سدا یارو یہ، گوہر نکلے

وقت کی سختی کو سہنا تو ہے جواں مردی
کہ سینہ چیر کے ہی رات کا، سحر نکلے

ہم نے طوفان کی طغیانی کا رکھا بھرم
ڈبو کے زندگی اپنی کنارے پر نکلے

ڈبو کے مجھ کو کھڑے ہیں ابھی وہ ساحل پر
کہ میرا سر نہ کہیں پانی سے، اوپر نکلے

رونے والوں پہ جو ہر وقت ہنسا کرتا تھا
سنا ہے گھر سے لئے آ نکھیں آ ج، تر نکلے

ہم تیرے شہر سے ہیں لے کے دل میں،ڈر نکلے
اب تو کم ظرف واہاں پر تھے، معتبر نکلے

تیرے بنا بھی جاری ہے، زندگی کا سفر
ایک در بند ہوا, سو ہیں نئے، در نکلے

ارادہ کر لے وہ، جس رات چھت پہ آ نے کا
ستارے نکلیں نہ اس رات، نہ، قمر نکلے

اب تو طوفان بھی خود ہاتھ کھڑا ملتا ہے
باندھ کر پاؤں سے ہم اپنے ہیں، بھنور نکلے

پل میں ناصر سے بنا دیتے ہیں، منصور اسے
کسی کے منہ سے بھی، کلمہء حق، اگر نکلے

ناصر نظامی
ایمسٹرڈیم ہالینڈ
01/02/2025,

Loading