Daily Roshni News

غلامی سے مصر کی حکمرانی تک حضرت یوسف علیہ السلام کا حیرت انگیز سفر

غلامی سے مصر کی حکمرانی تک حضرت یوسف علیہ السلام کا حیرت انگیز سفر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )غلامی سے مصر کی حکمرانی تک حضرت یوسف علیہ السلام کا حیرت انگیز سفر اور بی بی زلیخا سے نکاح کا مکمل مستند واقعہ

حضرت یوسف علیہ السلام کا تعارف اور بچپن

حضرت یوسف علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو بچپن سے ہی حسن، دانائی اور پاکیزگی عطا کی گئی تھی۔

قرآن مجید کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام نے بچپن میں ایک خواب دیکھا جس میں انہوں نے گیارہ ستاروں، سورج اور چاند کو اپنے سامنے سجدہ کرتے دیکھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس خواب کی تعبیر کو عظیم مستقبل کی نشانی سمجھا اور حضرت یوسف علیہ السلام کو تاکید کی کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتائیں۔

بھائیوں کی حسد اور کنویں میں ڈالنے کا واقعہ

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اپنے والد کی محبت حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف زیادہ دیکھ کر حسد میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے منصوبہ بنایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے راستے سے ہٹا دیا جائے۔

بھائی حضرت یعقوب علیہ السلام سے اجازت لے کر حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے ساتھ لے گئے اور ایک ویران کنویں میں ڈال دیا۔ بعد میں انہوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کے سامنے جھوٹا بہانہ بنایا کہ بھیڑیا حضرت یوسف علیہ السلام کو کھا گیا۔

قرآن مجید میں بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ہی تسلی دی کہ ایک وقت آئے گا جب وہ اپنے بھائیوں کے سامنے عزت کے ساتھ ظاہر ہوں گے۔

مصر پہنچنا اور غلامی میں فروخت ہونا

کنویں سے ایک قافلے کے لوگوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو نکالا اور مصر لے جا کر غلام کے طور پر فروخت کردیا۔ مصر میں ایک معزز شخص نے حضرت یوسف علیہ السلام کو خریدا۔ قرآن میں اس شخص کو عزیز مصر کہا گیا ہے۔

عزیز مصر نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس بچے کو عزت سے رکھو کیونکہ ممکن ہے یہ ہمارے کام آئے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔

بی بی زلیخا کا حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف مائل ہونا

قرآن مجید میں بیان ہے کہ عزیز مصر کی بیوی حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن اور کردار سے متاثر ہوگئی۔ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی مگر حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ سے پناہ مانگی اور گناہ سے بچنے کا راستہ اختیار کیا۔

قرآن میں ذکر ہے کہ ایک موقع پر دروازے بند کرکے حضرت یوسف علیہ السلام کو دعوت دی گئی مگر حضرت یوسف علیہ السلام نے انکار کیا اور وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔ اسی دوران عزیز مصر پہنچ گیا اور حضرت یوسف علیہ السلام پر الزام لگایا گیا۔

بعد میں گواہی اور دلائل سے واضح ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام سچے تھے، لیکن معاملہ دبانے کے لیے انہیں قید کردیا گیا۔

قید خانہ اور خوابوں کی تعبیر

حضرت یوسف علیہ السلام کئی سال قید میں رہے۔ وہاں دو قیدیوں نے خواب دیکھا اور حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ کے علم سے ان خوابوں کی درست تعبیر بیان کی۔

بعد میں مصر کے بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا جس کی تعبیر کوئی نہ بتا سکا۔ قید سے رہا ہونے والے شخص نے بادشاہ کو حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں بتایا۔

بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بلوایا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بیان کی کہ سات سال خوشحالی آئیں گے اور اس کے بعد سات سال قحط ہوگا۔

قید سے رہائی اور بے گناہی کا اعلان

حضرت یوسف علیہ السلام نے قید سے نکلنے سے پہلے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا مطالبہ کیا۔ بادشاہ کے حکم پر تحقیقات ہوئیں۔ اس موقع پر عزیز مصر کی بیوی نے اعتراف کیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام سچے تھے اور غلطی اس کی تھی۔

مصر کی حکومت سنبھالنا

حضرت یوسف علیہ السلام کی دانائی اور سچائی دیکھ کر بادشاہ نے انہیں مصر کے خزانے اور اقتصادی نظام کا نگران مقرر کردیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے سات سال خوشحالی کے دوران اناج محفوظ کیا اور قحط کے زمانے میں مصر اور آس پاس کے علاقوں کو بھوک سے بچایا۔

بھائیوں کا مصر آنا اور خاندان کا ملاپ

قحط کے دوران حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی مصر اناج لینے آئے مگر وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو پہچان نہ سکے۔ کئی ملاقاتوں کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنا تعارف کروایا اور اپنے بھائیوں کو معاف کردیا۔

بعد میں حضرت یعقوب علیہ السلام اور پورا خاندان مصر آ گیا۔ اس موقع پر حضرت یوسف علیہ السلام کے بچپن کے خواب کی تعبیر پوری ہوئی۔

بی بی زلیخا سے نکاح کا واقعہ

قرآن مجید میں بی بی زلیخا کا نام صراحت سے بیان نہیں کیا گیا بلکہ انہیں عزیز مصر کی بیوی کہا گیا ہے۔ مختلف معتبر تفسیری اور تاریخی روایات میں ذکر ملتا ہے کہ بعد میں عزیز مصر کا انتقال ہوگیا۔

ان روایات کے مطابق عزیز مصر کی وفات کے بعد وہ عورت دنیاوی آسائشوں سے محروم ہوگئی اور طویل عرصے تک مشکلات میں رہی۔ بعد میں اللہ کے حکم سے حضرت یوسف علیہ السلام کا نکاح اس عورت سے کیا گیا۔

تفسیری روایات میں بیان ہوا ہے کہ نکاح کے وقت وہ عورت ایمان لے آئی تھی اور اپنی سابقہ غلطیوں کا اعتراف کر چکی تھی۔ بعض روایات میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے دوبارہ جوانی اور صحت عطا فرمائی اور حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ نکاح انجام پایا۔

یہ نکاح حضرت یوسف علیہ السلام کی حکمرانی کے زمانے میں ہوا اور اس کا ذکر متعدد تاریخی اور تفسیری کتابوں میں موجود ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا دور حکومت اور آخری زمانہ

حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر میں عدل، انتظام اور حکمت کے ساتھ حکومت کے معاملات چلائے۔ آپ کا زمانہ خوشحالی، امن اور بہتر اقتصادی نظام کا زمانہ مانا جاتا ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ کی اطاعت اور خدمت خلق میں گزاری۔

اس پوسٹ کو آگے شیئر کریں اور ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ مزید مستند اور دلچسپ معلومات آپ تک پہنچتی رہیں۔

Loading