ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ غلط فیصلوں سے کیسے سیکھیں؟۔۔۔ ازقلم۔۔ڈاکٹر اسلم علیگ)زندگی میں ایسا کوئی انسان نہیں جس نے کبھی غلط فیصلہ نہ کیا ہو۔
فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ غلطیوں سے ٹوٹ جاتے ہیں…
اور کچھ لوگ انہی غلطیوں سے بن جاتے ہیں۔
غلط فیصلہ دراصل مسئلہ نہیں ہوتا،
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اس کے بعد کیا کرتے ہیں۔
زیادہ تر لوگ جب کوئی غلط فیصلہ کرتے ہیں،
تو وہ یا تو خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں،
یا حالات کو، یا دوسروں کو۔
وہ کہتے ہیں:
“میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟”
“میں نے ایسا کیوں کیا؟”
“کاش میں ایسا نہ کرتا…”
اور اسی “کاش” میں وہ پھنس جاتے ہیں۔
مگر کامیاب لوگ مختلف ہوتے ہیں۔
وہ غلط فیصلے کو اختتام نہیں سمجھتے،
بلکہ اسے ایک سبق سمجھتے ہیں۔
وہ خود سے یہ نہیں پوچھتے کہ
“میں نے غلطی کیوں کی؟”
بلکہ وہ یہ پوچھتے ہیں کہ
“میں اس سے کیا سیکھ سکتا ہوں؟”
یہی سوال ان کی زندگی بدل دیتا ہے۔
غلط فیصلے دراصل آپ کو وہ سکھاتے ہیں
جو کوئی کتاب، کوئی استاد، اور کوئی تجربہ بھی نہیں سکھا سکتا۔
کیونکہ جب آپ خود غلطی کرتے ہیں،
تو وہ سبق آپ کے اندر گہرائی سے بیٹھ جاتا ہے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ
ہم غلطی کو قبول نہیں کرتے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ صحیح ہوں،
ہمیشہ جیتیں، ہمیشہ کامیاب رہیں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ
کامیابی کا راستہ غلطیوں سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔
اگر آپ غلطیوں سے بچنا چاہتے ہیں،
تو آپ سیکھنے سے بھی محروم رہیں گے۔
اور جو سیکھتا نہیں…
وہ آگے نہیں بڑھتا۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ
غلط فیصلے آپ کو اپنے بارے میں سچ بتاتے ہیں۔
وہ آپ کو دکھاتے ہیں کہ آپ کہاں کمزور ہیں،
کہاں آپ کو بہتر ہونے کی ضرورت ہے،
اور کہاں آپ کو اپنی سوچ بدلنی ہے۔
اگر آپ اس سچ کو قبول کر لیں،
تو آپ خود کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
مگر اگر آپ اسے ignore کریں،
تو آپ وہی غلطی بار بار کریں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ غلط فیصلوں سے صحیح طریقے سے کیسے سیکھا جائے؟