Daily Roshni News

فارسی ادب کی حکایت

فارسی ادب کی حکایت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بغداد کے ایک گھنے بازار میں ایک غریب آدمی رہتا تھا۔ اس کا نام حاجی تھا۔ وہ اتنا غریب تھا کہ کبھی کبھی اسے دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی تھی۔ وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا تھا جس کی دیواریں گرنے کو تھیں اور چھت سے بارش ٹپکتی تھی۔

ایک رات حاجی نے اللہ سے دعا کی، “اے میرے رب! میں نے اپنی پوری زندگی محنت کی ہے، لیکن میرے پاس آج بھی ایک پیسہ نہیں ہے۔ مجھے کوئی راستہ دکھا دے۔”

اس رات اس نے خواب دیکھا۔ خواب میں ایک نورانی شخصیت نے اس سے کہا، “حاجی! تمہارا خزانہ مصر کے شہر قاہرہ میں ایک خاص جگہ دفن ہے۔ وہاں جاؤ اور اپنی قسمت آزماؤ۔”

صبح جب حاجی بیدار ہوا تو اس نے سوچا کہ یہ محض ایک خواب تھا، لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سی کشش پیدا ہوئی۔ وہ بار بار اس خواب کے بارے میں سوچتا۔ آخر کار اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ مصر جائے گا، چاہے اسے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

حاجی نے اپنی تمام تر جمع پونجی، جو کچھ بچی تھی  نکالی اور بغداد سے مصر کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس نے ریگستانوں، پہاڑوں اور دریاؤں کو عبور کیا۔ راستے میں اسے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی ڈاکو اس کا سامان لوٹ لے جاتے، کبھی جانور اس پر حملہ کر دیتے، لیکن وہ اپنے ارادے پر ڈٹا رہا۔

مہینوں کی مسلسل مسافت کے بعد وہ بالآخر قاہرہ پہنچ گیا۔ شہر بہت بڑا تھا اور حاجی کو وہ خاص جگہ نہیں مل رہی تھی جو اس نے خواب میں دیکھی تھی۔ وہ شہر کی گلیوں میں بھٹکتا رہا۔ ایک رات جب وہ ایک مسجد کے پاس سو رہا تھا تو قاہرہ کے پولیس افسروں نے اسے پکڑ لیا۔ انہوں نے اسے ڈاکو سمجھ کر بہت مارا پیٹا۔

پولیس چیف نے اسے بلایا اور پوچھا، “تم کون ہو اور یہاں کیوں آئے ہو؟”

حاجی نے اپنی ساری داستان سنائی۔ کہ کیسے اس نے خواب دیکھا، کیسے اس نے سفر کیا، اور کیسے وہ یہاں خزانہ لینے آیا۔ پولیس چیف اس کی بات سن کر ہنسا اور بولا، “تم بڑے بیوقوف ہو۔ میں بھی اکثر خواب دیکھتا ہوں۔ میں نے کئی بار خواب میں دیکھا ہے کہ بغداد کے ایک گھر کے آنگن میں خزانہ دفن ہے۔ وہ گھر فلاں محلے میں ہے، فلاں شخص کا ہے۔ لیکن کیا میں نے کبھی وہاں جانے کی حماقت کی؟ تم بھی اپنے گھر واپس لوٹ جاؤ۔”

پولیس چیف نے حاجی کو رہا کر دیا۔ حاجی واپس بغداد لوٹ آیا۔ جب وہ اپنے گھر پہنچا تو اس نے پولیس چیف کی باتوں پر غور کیا۔ اس نے سوچا، “پولیس چیف نے جو گھر بتایا تھا، وہ تو میرا ہی گھر ہے۔”

اس نے اپنے گھر کے آنگن میں کھودنا شروع کیا۔ گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے ایک بہت بڑا خزانہ ملا۔ سونے کے سکے، موتی، جواہرات، سب کچھ وہاں موجود تھا۔ حاجی کو سمجھ آ گئی کہ اسے مصر نہیں جانا تھا، اسے صرف اپنے گھر کے آنگن میں کھودنا تھا۔ لیکن وہ اس نتیجے پر کبھی نہ پہنچ سکتا تھا اگر وہ مصر کا سفر نہ کرتا۔

حاجی نے خزانہ نکالا اور اب وہ بغداد کا سب سے امیر آدمی بن گیا۔ اس نے اپنا گھر بنوایا، غریبوں کو صدقہ دیا، اور باقی زندگی شکر گزار ہو کر گزاری۔

اخلاقی سبق: کبھی کبھی انسان کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے لمبا سفر کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ منزل اس کے اپنے گھر میں ہی ہوتی ہے۔ مشکلات اور مصائب کے بعد ہی کامیابی کی حقیقی قدر سمجھ آتی ہے۔

حوالہ:

یہ کہانی فارسی ادب کی مشہور حکایت ہے اور عطار نیشاپوری کی تحریروں میں بھی ملتی ہے۔

Loading