فتح طلیطلہ (1085ء) – المرداوی کی شکست
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مئی 1085ء کا وہ صبح کا وقت تھا جب طلیطلہ کی فصیلوں پر ایک عجیب سناٹا چھایا ہوا تھا۔ تین سال سے جاری محاصرے نے شہر کی رگوں میں دوڑنے والی زندگی کو سست کر دیا تھا۔ بازاروں میں کبھی جو زندہ دلی تھی، اب وہاں صرف مایوسی کی گھن گرج سنائی دیتی تھی۔
الفانسو ششم، جو خود کو “تمام ہسپانیہ کا بادشاہ” کہلاتا تھا، اپنے خیمے میں بیٹھا سوچ رہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں طلیطلہ کے میناروں کا عکس تھا۔ “یہ شہر صرف پتھر اور اینٹوں کا ڈھیر نہیں، یہ ہسپانیہ کی روح ہے”، اُس نے اپنے کمانڈروں سے کہا۔ “جس کا طلیطلہ، اُس کا ہسپانیہ۔”
ایک بوڑھا جنرل جو قرطبہ کے محاذوں پر لڑ چکا تھا، بولا: “لیکن حضور، ہمارے پاس وقت کم ہے۔ سورج ڈوبنے سے پہلے فیصلہ ہونا چاہیے۔”
القادر بن ذوالنون، طلیطلہ کا آخری مسلمان حکمران، اپنے محل کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ نیچے شہر کے لوگ بھوک اور خوف سے نڈھال تھے۔ اُس کے وزیر نے آہستہ سے کہا: “حضور، ہمارے پاس صرف دو راستے ہیں: یا تو ہم مر جائیں، یا ہم سپرد ہو جائیں۔”
القادر نے ایک لمبی سانس لی۔ اُسے یاد آیا کہ کیسے اُس نے اپنی حکومت بچانے کے لیے الفانسو سے مدد مانگی تھی، اور اب وہی الفانسو اُس کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ “کبھی میں اُس کا حامی تھا، آج وہ میرا محاصر ہے۔”
25 مئی کی وہ شام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی۔ الفانسو کے سفیروں نے شہر کے دروازے پر دستک دی۔ “ہمارا بادشاہ رحم کرنا چاہتا ہے”، اُس نے اعلان کیا۔ “وہ آپ کی جان، آپ کے مذہب اور آپ کی پراپرٹی کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔”
القادر کے درباریوں میں سے ایک غصے سے اُٹھا: “ہم مرنا پسند کریں گے، لیکن اپنا شہر نہیں دیں گے!”
لیکن ایک بزرگ عالم دین نے آواز اُٹھائی: “بیٹا، کبھی کبھی ہتھیار ڈالنا بھی جہاد ہوتا ہے۔ زندہ رہو، تاکہ ہماری ثقافت زندہ رہے۔”
6 مئی 1085ء کی صبح، طلیطلہ کے دروازے آہستہ سے کھلے۔ الفانسو ششم سفید گھوڑے پر سوار، اپنی فوج کے سامنے شہر میں داخل ہوا۔ القادر نے چابیوں کا ایک بڑا گچھا بادشاہ کے حوالے کیا۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، لیکن چہرے پر عجیب سکون تھا۔
“میں تمہیں معاف کرتا ہوں”، الفانسو نے کہا۔ “تم اور تمہارے لوگ اپنے گھروں میں محفوظ رہیں گے۔”
لیکن جیسے ہی عیسائی فوجیں شہر میں داخل ہوئیں، کچھ سپاہیوں نے جوش میں آ کر “سانتیاگو!” (سینٹ جیمز) کا نعرہ لگایا۔ یہ نعرہ سن کر شہر کے مسلمان باشندوں کے چہرے فق ہو گئے۔ اُنہیں احساس ہوا کہ اب سب کچھ بدلنے والا ہے۔
پہلے چند ہفتوں تک سب کچھ پرامن رہا۔ الفانسو نے اعلان کیا کہ مسلمان اور یہودی اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ تبدیلیاں آنے لگیں۔
مسجد باب المردوم، جو شہر کی سب سے پرانی مسجد تھی، کو “مسجد مسیح نور” کا نام دے دیا گیا۔ ایک پادری نے اس کے مینار پر صلیب نصب کی۔
ایک بوڑھا مسلمان، جو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسی مسجد میں نماز پڑھتے گزار چکا تھا، نے اپنے بیٹے سے کہا: “بیٹا، یہ صرف ایک عمارت نہیں ہے جو بدلی ہے۔ یہ ایک دنیا ہے جو بدل رہی ہے۔”
فتح طلیطلہ صرف ایک شہر کی تبدیلیِ حکومت نہ تھی۔ یہ ایک ایسا موڑ تھا جس نے پورے ہسپانیہ کا نقشہ بدل دیا:
عیسائیوں کے لیے، یہ 400 سال قبل کی شکست کا بدلہ تھا جب مسلمانوں نے ہسپانیہ فتح کیا تھا۔.
مسلمانوں کے لیے، یہ ایک المناک انتباہ تھا کہ اب اندلس میں اُن کی حکمرانی کا سورج ڈوبنے والا ہے۔
. پورے یورپ کے لیے، یہ اعلان تھا کہ عیسائی طاقتیں اب کمزور نہیں رہیں۔
القادر کو اُس رات اپنے محل کی آخری بار دیکھنے کا موقع ملا۔ اُس نے اپنے بیٹے سے کہا: “ہماری حکومت ختم ہو گئی، لیکن ہماری تہذیب زندہ رہے گی۔ یہ شہر ہمیشہ ہمارے ساتھ بولے گا۔”
آج، جب آپ طلیطلہ کی گلیوں میں چلتے ہیں، آپ کو وہ کہانی سنائی دے گی جو پتھروں میں قید ہے۔ “مسجد مسیح نور” اب بھی کھڑی ہے، اپنے اسلامی مینار کے ساتھ، لیکن اندر سے ایک چرچ بن چکی ہے۔
۔
![]()

