Daily Roshni News

فتح عکہ 1291ء: مشرق وسطیٰ میں صلیبی موجودگی کا فیصلہ کن خاتمہ

فتح عکہ 1291ء: مشرق وسطیٰ میں صلیبی موجودگی کا فیصلہ کن خاتمہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )6 اپریل تا 18 مئی 1291ء کے درمیان پیش آنے والا محاصرہ عکہ اور اس کے نتیجے میں شہر کی مملوک سلطنت کے ہاتھوں فتح، صلیبی جنگی دور کا ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن واقعہ ہے۔ اس فتح نے مشرق وسطیٰ میں صلیبی ریاستوں کے تقریباً دو صدی پر محیط دور کا خاتمہ کر دییا۔ یہ مضمون اس تاریخی معرکے کے پس منظر، واقعات، اور دور رس نتائج کی مکمل تفصیل پیش کرتا ہے۔

  1. تاریخی پس منشر اور صلیبی ریاستوں کا زوال

مشرق وسطیٰ میں صلیبی ریاستوں کی بنیاد پہلی صلیبی جنگ (1096-1099ء) کے بعد رکھی گئی تھی۔ یہ ریاستیں، جنہیں مجموعی طور پر “آؤٹریمر” کہا جاتا تھا، چار جاگیرداری حکومتوں پر مشتمل تھیں: ایڈیسا کی کاؤنٹی، انطاکیہ کی پرنسپلٹی، طرابلس کی کاؤنٹی، اور یروشلم کی بادشاہی۔

  • صلاح الدین ایوبی کا دور: 1187ء میں صلاح الدین ایوبی نے حطین کی جنگ میں فیصلہ کن فتح حاصل کی، جس کے بعد بیت المقدس سمیت بڑے علاقے مسلمانوں کے قبضے میں آ گئے۔ تاہم، تیسری صلیبی جنگ (1189-1192ء) کے نتیجے میں صلیبیوں نے عکہ واپس حاصل کر لیا، جو 1191ء کے بعد سے یروشلم کی بادشاہی کا دارالحکومت بن گیا۔

  • مملوکوں کا عروج اور صلیبیوں کی کمزوری: 1250ء میں مصر میں مملوک سلطنت کا قیام صلیبیوں کے لیے ایک نئے اور زیادہ جارحانہ دور کا آغاز تھا۔ سلطان ظاہر بیبرس (1260-1277ء) نے صلیبی قلعوں اور شہروں پر زبردست حملے کیے، 1268ء میں انطاکیہ فتح کیا، جس سے شمالی صلیبی ریاست کا خاتمہ ہو گیا۔ اس دوران یورپ سے آنے والی صلیبی مہمات (جیسے نویں صلیبی جنگ) ناکام رہیں اور صلیبی ریاستیں سیاسی طور پر بھی منتشر ہو چکی تھیں۔

  • صلح کی کوششیں اور محاذ آرائی: سلطان منصور قلاوون (1279-1290ء) نے 1289ء میں طرابلس کی کاؤنٹی فتح کی۔ قلاوون نے عکہ سے دس سالہ صلح کا معاہدہ بھی کیا، لیکن 1290ء کے آخر میں ایک واقعے نے صورتحال کو یکسر بدل دیا۔ کچھ ذرائع کے مطابق، اطالوی نواحری فوجیوں نے عکہ کے آس پاس کے مسلمان تاجروں اور دیہاتیوں پر حملے کر کے قتل عام کیا۔ قلاوون نے مجرموں کی حوالگی کا مطالبہ کیا، لیکن عکہ کی کونسل نے اسے مسترد کر دیا، جس کے بعد قلاوون نے صلح کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

  1. محاصرہ عکہ 1291ء: تیاری اور فوجی قوت

  • مملوک تیاریاں: قلاوون کی دسمبر 1290ء میں وفات کے بعد اس کا بیٹا سلطان اشرف خلیل تخت پر بیٹھا، جس نے باپ کے منصوبے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے مصر اور شام (دمشق، حماہ، طرابلس، کرک) سے فوجی دستے جمع کیے۔ اس فوج میں بڑی تعداد میں رضاکار بھی شامل تھے۔ محاصرے کے لیے بھاری منجنیقوں کا ایک پورا دستہ تیار کیا گیا، جن میں حماہ سے آیا ہوا “المنصوری” (فتح مند) نامی عظیم الشان منجنیق بھی شامل تھا۔

  • صلیبی تیاریاں اور کمزوری: عکہ کے دفاع کے لیے صرف قبرص کے بادشاہ ہنری دوم کی جانب سے تقریباً 700 فوجیوں پر مشتمل ایک کمک پہنچی۔ یورپ سے کوئی بڑی فوجی کمک نہ آ سکی۔ جینیوا کے تاجروں نے مملوکوں سے علیحدہ صلح کر لی، جبکہ شہر کی آبادی کا ایک حصہ قبرص کی جانب فرار ہو گیا۔ عکہ کی دیواریں مضبوط تھیں، لیکن مدافعین کی تعداد اور حوصلہ مملوک فوج کے مقابلے میں بہت کم تھا۔

  1. محاصرے کے اہم مراحل اور جنگ

  • آغاز اور ابتدائی جھڑپیں: مملوک فوج 6 اپریل 1291ء کو عکہ کے سامنے پہنچی۔ ابتدائی دنوں میں مملوکوں نے خیمہ زن ہو کر محاصرہ تنگ کیا اور دیواروں کے سامنے مورچے بنائے۔ صلیبیوں نے کچھ جرات مندانہ چھاپے مارے، جن میں ٹیمپلر فرسانہ کی رات کے وقت منجنیقوں پر یونانی آگ سے حملہ کرنا شامل تھا، لیکن یہ مملوک تیاریوں کو روک نہ سکے۔

  • شدید بمباری اور دیواروں کا گرنا: مملوک فوج نے دیواروں پر مسلسل پتھراؤ جاری رکھا اور کھدائی (میننگ) کا سہارا لیا۔ بمباری اتنی شدید تھی کہ “اس کی گونج شہر کے ہر حصے میں سنی جا سکتی تھی”۔ 15 مئی کو ایک وسیع پیمانے پر فیصلہ کن حملہ ہوا۔ طویل اور خونریز جنگ کے بعد، مملوک فوج نے شہر کی بیرونی دیواروں پر قبضہ کر لیا۔

  • شہر میں گھمسان کی جنگ اور آخری موقف: بیرونی دفاع ٹوٹنے کے بعد جنگ شہر کی گلیوں میں منتقل ہو گئی۔ صلیبی کمانڈروں، بشمول ٹیمپلرز کے گرانڈ ماسٹر گیوم دے بیوجو، نے بہادری سے لڑتے ہوئے جان دے دی۔ بچ جانے والے صلیبی فوجی اور شہری بندرگاہ کی طرف پیچھے ہٹ گئے، جہاں بحری جہازوں پر سوار ہو کر قبرص فرار ہونے کی کوشش کی گئی۔ 18 مئی تک شہر کا آخری اہم دفاعی مرکز، ٹیمپلرز کا قلعہ، بھی گر گیا۔

  1. فتح کے فوری اور طویل المدتی نتائج

  • انسانی نقصان اور قیدی: شہر کے اندر ہزاروں صلیبی اور شہری ہلاک ہوئے، جبکہ ہزاروں کو غلام بنا لیا گیا۔ بہت سے لوگ دریا میں ڈوب گئے یا بندرگاہ پر ہی مارے گئے۔

  • صلیبی ریاستوں کا حتمی خاتمہ: عکہ کا سقوط یروشلم کی بادشاہی کے وجود کا خاتمہ تھا۔ اس کے فوراً بعد، صیدا، طرطوس، اور بیروت جیسے باقی ماندہ صلیبی شہر اور قلعے بھی مملوکوں کے ہاتھوں گر گئے۔ 1291ء کے اختتام تک مشرقی بحیرہ روم کے ساحلوں پر صلیبی اقتدار کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا۔

  • تاریخی اور تہذیبی تبدیلیاں:

  • صلیبیوں کی اہم یادگاریں اور قلعے مسمار کر دیے گئے تاکہ مستقبل میں کوئی صلیبی حملہ انہیں اڈہ نہ بنا سکے۔

  • خطے کی سیاسی طاقت کا مرکز مصر (قاہرہ) منتقل ہو گیا۔

  • بچ جانے والے صلیبی اشراف، تاجر، اور فوجی احکام (جیسے ہاسپٹلرز اور ٹیمپلرز) قبرص منتقل ہو گئے، جہاں سے انہوں نے ایک عرصے تک بحری مہمات جاری رکھیں۔

  • یورپ میں مزید بڑے صلیبی حملوں کی کوششیں ناکام رہیں، حالانکہ “صلیبی” کا خیال برقرار رہا۔

Loading