فرعون کی ہلاکت — جب سمندر نے ایک بادشاہ کا غرور نگل لیا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رات کی تاریکی ابھی پوری طرح چھٹی نہ تھی۔ ایک طرف تھکے ماندے مسافر تھے، جن کے پیچھے غلامی کی طویل رات تھی، اور دوسری طرف ایک ایسا لشکر تھا جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے صحرا لرز رہا تھا۔ آگے پانی تھا، پیچھے موت کا لشکر۔
بنی اسرائیل کے دل خوف سے دھڑک رہے تھے۔
وہ لوگ جنہوں نے مصر میں فرعون کی طاقت، اس کے سپاہیوں، اس کے محلوں، اس کے لشکروں اور اس کے جبر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اب ایک ایسے مقام پر کھڑے تھے جہاں بظاہر بچ نکلنے کی کوئی راہ نہ تھی۔
مگر تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے:
جب انسان کے سامنے تمام راستے بند ہو جائیں تو اللہ کے لیے ایک راستہ کھولنا مشکل نہیں۔
اسی لمحے موسیٰ علیہ السلام نے وہ جملہ کہا جو قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے یقین کی آواز بن گیا:
﴿قَالَ كَلَّآ ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ﴾
“موسیٰ نے کہا: ہرگز نہیں! بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور مجھے راستہ دکھائے گا۔”
(الشعراء: 62)
اور پھر وہ ہوا جسے انسانی طاقت سے نہیں، صرف ربانی قدرت سے سمجھا جا سکتا ہے۔
سمندر راستہ بن گیا۔
اور وہ فرعون، جو کبھی لوگوں سے کہتا تھا:
﴿أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ﴾
“میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔”
(النازعات: 24)
اسی سمندر میں بے بس ہو کر ڈوبنے لگا۔
—
مصر کا طاقتور فرعون
قرآن فرعون کو محض ایک بادشاہ کے طور پر نہیں پیش کرتا بلکہ ایک ایسے ظالم حکمران کے طور پر پیش کرتا ہے جس نے اپنی سیاسی قوت کو خدائی دعوے کا ذریعہ بنا لیا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَآءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَآءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ﴾
“بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور وہاں کے لوگوں کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کر رکھا تھا، ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ بے شک وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔”
(القصص: 4)
اس کے پاس اقتدار تھا، فوج تھی، شاہی نظام تھا، محلات تھے، خزانوں کی قوت تھی اور حکم ماننے والی رعایا تھی۔
لیکن سب سے خطرناک چیز اس کے پاس غرور تھا۔
وہ سمجھتا تھا کہ اقتدار ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن انسان کو فرعون سے آگے لے جا کر خود اس کے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔
فرعون صرف ایک شخص کا نام نہیں رہتا؛ وہ ہر اس ذہن کی علامت بن جاتا ہے جو طاقت ملنے کے بعد اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے۔
—
موسیٰ علیہ السلام کا پیغام اور آخری مقابلہ
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا۔
دعوت واضح تھی:
اللہ کی بندگی اختیار کرو، بنی اسرائیل کو آزاد کرو اور ظلم سے باز آ جاؤ۔
موسیٰ علیہ السلام نے معجزات پیش کیے، مگر فرعون نے انہیں جادو قرار دیا۔
جادوگروں کو جمع کیا گیا۔ مقابلہ ہوا۔ اللہ کے حکم سے موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہے کی صورت اختیار کر گیا اور جادوگروں کا بنایا ہوا فریب نگل گیا۔
جو لوگ جادو کا فن جانتے تھے، وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ انسانی جادو نہیں۔
وہ سجدے میں گر گئے:
﴿قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَٰرُونَ وَمُوسَىٰ﴾
“انہوں نے کہا: ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لے آئے۔”
فرعون نے دھمکایا، مگر ایمان دل میں اتر چکا تھا۔
یوں فرعون کی ظاہری طاقت کے مقابلے میں ایک نئی طاقت پیدا ہو چکی تھی:
یقین۔
—
رات کا سفر
بالآخر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت لے کر نکل جائیں۔
قرآن کہتا ہے:
﴿وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِيٓ إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ﴾
“اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جاؤ، بے شک تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔”
(الشعراء: 52)
یہ سفر صرف جغرافیائی نقل مکانی نہیں تھا۔
یہ غلامی سے آزادی کی طرف سفر تھا۔
پیچھے مصر کی سرزمین تھی؛ آگے نامعلوم راستہ۔
رات کی خاموشی میں قافلہ آگے بڑھ رہا تھا۔ خاندان، بچے، بوڑھے اور کمزور لوگ اپنے سامان کے ساتھ چل رہے تھے۔
لیکن فرعون سویا نہیں تھا۔
جب اسے خبر ملی کہ بنی اسرائیل نکل گئے ہیں تو اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا۔
قرآن کے الفاظ ہیں:
﴿فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ﴾
“فرعون نے شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دیے، کہ بے شک یہ لوگ ایک چھوٹا سا گروہ ہیں۔”
(الشعراء: 53-54)
فرعون کے نزدیک بنی اسرائیل کمزور تھے۔
اس کے نزدیک وہ چند بے بس لوگ تھے جو اس کی سلطنت سے بھاگ رہے تھے۔
لیکن فرعون یہ بھول گیا تھا کہ اللہ کے ہاں تعداد فیصلہ نہیں کرتی۔
—
سمندر کے کنارے — خوف کی آخری رات
بنی اسرائیل آگے بڑھے اور بالآخر سمندر کے قریب پہنچ گئے۔
قرآن اس مقام کا کوئی قطعی جغرافیائی نام بیان نہیں کرتا۔ اسی لیے اس واقعے کو کسی مخصوص موجودہ ساحل یا مقام کے ساتھ حتمی طور پر جوڑنا درست نہیں۔
اتنا ضرور معلوم ہے کہ سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر۔
جب دونوں گروہ ایک دوسرے کے سامنے آ گئے تو بنی اسرائیل گھبرا اٹھے:
﴿فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ﴾
“جب دونوں گروہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا: ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے!”
(الشعراء: 61)
یہ انسانی اعتبار سے بالکل درست اندازہ تھا۔
آگے سمندر۔
پیچھے مسلح لشکر۔
دائیں بائیں کوئی واضح راستہ نہیں۔
لیکن موسیٰ علیہ السلام نے حالات کو نہیں، اللہ کے وعدے کو دیکھا۔
انہوں نے کہا:
﴿كَلَّآ ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ﴾
“ہرگز نہیں! میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور مجھے راستہ دکھائے گا۔”
(الشعراء: 62)
—
عصا اٹھا اور سمندر پھٹ گیا
اللہ تعالیٰ کا حکم آیا:
﴿فَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ﴾
“پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ چنانچہ وہ پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی مانند ہو گیا۔”
(الشعراء: 63)
یہ وہ لمحہ تھا جب انسانی منطق خاموش اور اللہ کی قدرت ظاہر ہو گئی۔
پانی، جو چند لمحے پہلے ناقابلِ عبور رکاوٹ تھا، اللہ کے حکم سے راستہ بن گیا۔
قرآن نے پانی کے دونوں حصوں کو عظیم پہاڑوں سے تشبیہ دی۔
خشک راستہ نمودار ہوا۔
موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھے۔
بنی اسرائیل ان کے پیچھے چل پڑے۔
جس سمندر کو وہ موت کا دروازہ سمجھ رہے تھے، وہی ان کے لیے نجات کا راستہ بن گیا۔
قرآن کا فیصلہ ہے:
﴿وَأَنجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ﴾
“اور ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھ سب لوگوں کو نجات دے دی۔ پھر دوسروں کو غرق کر دیا۔”
(الشعراء: 65-66)
—
فرعون بھی سمندر میں داخل ہو گیا
یہاں فرعون کے کردار کا آخری المیہ شروع ہوتا ہے۔
اس نے دیکھا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل پانی کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔
وہ معجزہ دیکھ رہا تھا۔
اس کے سامنے پانی دیواروں کی طرح کھڑا تھا۔
مگر اس کے دل میں ایمان نہیں آیا۔
وہ اپنے لشکر سمیت اسی راستے میں داخل ہو گیا۔
یہاں ایک اہم نکتہ ہے:
قرآن یہ نہیں کہتا کہ فرعون کو کوئی نیا معجزہ دکھائی نہیں دیا تھا۔ اس نے غیر معمولی نشانیاں پہلے بھی دیکھی تھیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس کا تکبر اس کے مشاہدے سے بڑا تھا۔
وہ سمجھتا رہا کہ جس راستے سے موسیٰ گزر سکتا ہے، فرعون بھی گزر سکتا ہے۔
لیکن موسیٰ کا گزرنا اللہ کے حکم سے تھا۔
اور فرعون کا تعاقب اس کے ظلم اور سرکشی کا نتیجہ تھا۔
قرآن فرماتا ہے:
﴿وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا﴾
“اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار دیا، پھر فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا۔”
(یونس: 90)
—
وہ لمحہ جب فرعون کی زبان بدل گئی
اب پانی بلند ہو رہا تھا۔
وہ طاقتور بادشاہ جس کے سامنے لوگ کانپتے تھے، اب خود موت کے سامنے کھڑا تھا۔
نہ تخت کام آیا۔
نہ تاج۔
نہ لشکر۔
نہ حکم۔
نہ شاہی اختیار۔
نہ وہ دعویٰ کہ:
“میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔”
اب اس کی زبان سے وہ الفاظ نکلے جو قرآن نے قیامت تک محفوظ کر دیے:
﴿آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾
“میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔”
(یونس: 90)
لیکن جواب آیا:
﴿ءَآلْـَٔانَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ﴾
“اب؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد کرنے والوں میں سے تھا!”
(یونس: 91)
یہ قرآن کا ایک انتہائی گہرا اصول ہے:
ایمان صرف زبان سے آخری لمحے میں کہہ دینے کا نام نہیں۔
جب انسان کے سامنے اختیار، مہلت اور عمل کا میدان موجود ہو اور وہ جان بوجھ کر حق کو ٹھکراتا رہے، پھر جب موت سامنے آ جائے تو محض زبان سے اعتراف اسے اس انجام سے نہیں بچاتا جسے اس نے اپنے اعمال سے خود اختیار کیا۔
—
فرعون کی لاش — عبرت کے لیے باقی رکھی گئی
فرعون اور اس کے لشکر کو سمندر نے نگل لیا۔
مگر فرعون کی داستان یہیں ختم نہیں ہوئی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ﴾
“پس آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد آنے والوں کے لیے نشانی بن جائے، اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔”
(یونس: 92)
مفسرین نے اس آیت کے تحت بیان کیا ہے کہ فرعون کا جسم پانی سے نکالا گیا تاکہ اس کی موت یقینی طور پر معلوم ہو اور وہ بعد والوں کے لیے عبرت بنے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بعض سلف سے بھی اسی مفہوم کی روایات منقول ہیں۔
یہاں ایک ضروری احتیاط بھی ہے:
قرآن ہمیں فرعون کے جسم کو محفوظ کیے جانے کی خبر دیتا ہے، لیکن قرآن یا صحیح حدیث ہمیں یہ قطعی طور پر نہیں بتاتی کہ آج کسی عجائب گھر میں موجود فلاں ممی ہی موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا وہی فرعون ہے۔ اس تاریخی شناخت کو یقینی حقیقت کے طور پر بیان کرنا درست نہیں۔
قرآن کی اصل توجہ ممی کی شناخت پر نہیں بلکہ عبرت پر ہے۔
—
عاشوراء — نجات کی یاد
فرعون کی ہلاکت صرف قرآن میں بیان ہونے والا ایک تاریخی واقعہ نہیں؛ رسول اللہ ﷺ نے بھی موسیٰ علیہ السلام کی نجات اور فرعون کی ہلاکت کو یاد فرمایا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشوراء کے دن روزہ رکھتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر روزہ رکھا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«نَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ»
“ہم موسیٰ کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔”
پھر آپ ﷺ نے خود اس دن روزہ رکھا اور اس کا حکم دیا۔ یہ روایت صحیح بخاری میں مروی ہے۔
یوں فرعون کی شکست مسلمانوں کے لیے محض ایک پرانی داستان نہیں رہی؛ یہ اللہ کی مدد، انبیاء کی نصرت اور ظلم کے انجام کی یاد بن گئی۔
—
فرعون کہاں ہارا؟
فرعون سمندر میں نہیں ہارا تھا۔
وہ اس سے بہت پہلے اپنے نفس کے اندر ہار چکا تھا۔
وہ اس وقت ہار گیا تھا جب اس نے طاقت کو امانت سمجھنے کے بجائے خدائی اختیار سمجھ لیا۔
وہ اس وقت ہار گیا تھا جب اس نے انسانوں کو طبقات میں تقسیم کیا۔
وہ اس وقت ہار گیا تھا جب اس نے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔
وہ اس وقت ہار گیا تھا جب اس نے حق کو دیکھ کر اسے جادو کہا۔
اور سب سے بڑھ کر، وہ اس وقت ہار گیا تھا جب اس نے اپنے آپ کو اللہ کے مقابل کھڑا کر دیا۔
سمندر تو صرف اس شکست کا آخری منظر تھا۔
—
ایک فرعون ڈوب گیا، مگر سوال زندہ رہ گیا
قرآن نے اس واقعے کو بار بار بیان کیا ہے، کیونکہ اللہ چاہتا ہے کہ ہم صرف فرعون کے ڈوبنے کی کہانی نہ سنیں بلکہ اپنے اندر کے سوال کو بھی سنیں۔
کیا ہمارے پاس طاقت آ جائے تو ہم بھی کسی کمزور کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں؟
کیا اختیار ملنے پر ہم اپنے آپ کو جواب دہی سے آزاد سمجھتے ہیں؟
کیا حق ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اسے اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ اسے ماننے سے ہماری انا مجروح ہوتی ہے؟
فرعون کے پاس محل تھا، مگر امن نہ تھا۔
اس کے پاس لشکر تھا، مگر نجات نہ تھی۔
اس کے پاس اقتدار تھا، مگر آخری لمحے میں کوئی اختیار نہ رہا۔
اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس بظاہر صرف ایک عصا اور اللہ پر یقین تھا۔
مگر وہ یقین سمندر کے بیچ راستہ بنا گیا۔
قرآن اسی واقعے کے بعد فرماتا ہے:
﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾
“بے شک اس میں ایک بڑی نشانی ہے، لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے۔ اور بے شک تمہارا رب ہی غالب، نہایت رحم والا ہے۔”
(الشعراء: 67-68)
یہی فرعون کی ہلاکت کا سب سے بڑا سبق ہے:
طاقت کا انجام طاقت کے ہاتھ میں نہیں، اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
سمندر وہی تھا۔
پانی وہی تھا۔
مگر ایک طرف اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی تھے، دوسری طرف ظلم، تکبر اور سرکشی کا لشکر۔
ایک کے لیے سمندر راستہ بن گیا۔
دوسرے کے لیے قبر۔
اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ جس شخص نے زمین پر اپنی بڑائی کا اعلان کیا تھا، اس کا جسم بھی اللہ کی قدرت کے سامنے ایک نشانی بنا کر رکھ دیا گیا۔
فرعون نے کہا تھا:
“میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔”
مگر سمندر نے ثابت کر دیا:
رب صرف وہ ہے جس کے حکم سے سمندر پھٹتا ہے، جس کے حکم سے راستہ بنتا ہے، اور جس کے حکم سے ایک عظیم سلطنت کا بادشاہ چند لمحوں میں بے بس ہو جاتا ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ فرعون کی کہانی ختم نہیں ہوتی۔
وہ ہر زمانے میں دوبارہ سامنے آتی ہے—
کبھی کسی تخت پر،
کبھی کسی طاقتور نظام میں،
کبھی کسی ظالم حکمران میں،
اور کبھی انسان کے اپنے دل میں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا راستہ ہمیں بھی دکھایا جا چکا ہے:
﴿إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ﴾
“بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔”
—
اہم حوالہ جات
-
القرآن الکریم — سورۃ القصص: 4؛ سورۃ الشعراء: 52-68؛ سورۃ یونس: 90-93؛ سورۃ طٰہٰ: 77-79؛ سورۃ النازعات: 24۔
-
صحیح البخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، حدیث 3397 — عاشوراء، موسیٰ علیہ السلام کی نجات اور فرعون کی ہلاکت۔
-
صحیح البخاری، کتاب التفسیر، حدیث 4737 — بنی اسرائیل کا سمندر عبور کرنا اور فرعون کا تعاقب۔
-
سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، حدیث 1734 — عاشوراء اور فرعون کے غرق ہونے کا بیان۔
-
تفسیر ابن کثیر — سورۃ یونس، آیات 90-92؛ سورۃ الشعراء، آیات 60-68۔
-
تفسیر الطبری، جامع البیان — قصۂ موسیٰ و فرعون، خصوصاً سورۃ یونس اور الشعراء کی متعلقہ آیات۔
-
تفسیر القرطبی، الجامع لأحکام القرآن — سورۃ یونس، آیت 92۔
-
تفسیر ابن ابی حاتم — قصۂ فرعون اور آیتِ بدن کے تحت منقول آثار۔
-
البدایہ والنہایہ، ابن کثیر — قصص الانبیاء اور موسیٰ علیہ السلام کے واقعات۔
-
قصص الأنبیاء، ابن کثیر — موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ۔
#فرعون_کی_ہلاکت #حضرت_موسیٰ #قصص_الانبیاء #قرآن_کی_روشنی_میں #قرآنی_واقعات #اسلامی_تاریخ #قرآن_اور_تدبر #عبرت_و_نصیحت #فرعون #موسیٰ_علیہ_السلام #Quran #QuranStories #ProphetMusa #MusaAS #Pharaoh #IslamicHistory #QuranicStories #IslamicReminder
![]()

