فرعون کی ہلاکت — جب سمندر نے ایک بادشاہ کا غرور نگل لیا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رات کی تاریکی ابھی پوری طرح چھٹی نہ تھی۔ ایک طرف تھکے ماندے مسافر تھے، جن کے پیچھے غلامی کی طویل رات تھی، اور دوسری طرف ایک ایسا لشکر تھا جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے صحرا لرز رہا تھا۔ آگے پانی تھا، پیچھے موت کا لشکر۔
بنی اسرائیل کے دل خوف سے دھڑک رہے تھے۔
وہ لوگ جنہوں نے مصر میں فرعون کی طاقت، اس کے سپاہیوں، اس کے محلوں، اس کے لشکروں اور اس کے جبر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اب ایک ایسے مقام پر کھڑے تھے جہاں بظاہر بچ نکلنے کی کوئی راہ نہ تھی۔
مگر تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے:
جب انسان کے سامنے تمام راستے بند ہو جائیں تو اللہ کے لیے ایک راستہ کھولنا مشکل نہیں۔
اسی لمحے موسیٰ علیہ السلام نے وہ جملہ کہا جو قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے یقین کی آواز بن گیا:
﴿قَالَ كَلَّآ ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ﴾
“موسیٰ نے کہا: ہرگز نہیں! بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور مجھے راستہ دکھائے گا۔”
(الشعراء: 62)
اور پھر وہ ہوا جسے انسانی طاقت سے نہیں، صرف ربانی قدرت سے سمجھا جا سکتا ہے۔
سمندر راستہ بن گیا۔
اور وہ فرعون، جو کبھی لوگوں سے کہتا تھا:
﴿أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ﴾
“میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔”
(النازعات: 24)
اسی سمندر میں بے بس ہو کر ڈوبنے لگا۔
—
مصر کا طاقتور فرعون
قرآن فرعون کو محض ایک بادشاہ کے طور پر نہیں پیش کرتا بلکہ ایک ایسے ظالم حکمران کے طور پر پیش کرتا ہے جس نے اپنی سیاسی قوت کو خدائی دعوے کا ذریعہ بنا لیا تھا۔
“بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور وہاں کے لوگوں کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کر رکھا تھا، ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ بے شک وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔”
(القصص: 4)
اس کے پاس اقتدار تھا، فوج تھی، شاہی نظام تھا، محلات تھے، خزانوں کی قوت تھی اور حکم ماننے والی رعایا تھی۔
لیکن سب سے خطرناک چیز اس کے پاس غرور تھا۔
وہ سمجھتا تھا کہ اقتدار ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن انسان کو فرعون سے آگے لے جا کر خود اس کے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔
فرعون صرف ایک شخص کا نام نہیں رہتا؛ وہ ہر اس ذہن کی علامت بن جاتا ہے جو طاقت ملنے کے بعد اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے۔
—
موسیٰ علیہ السلام کا پیغام اور آخری مقابلہ
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا۔
دعوت واضح تھی:
اللہ کی بندگی اختیار کرو، بنی اسرائیل کو آزاد کرو اور ظلم سے باز آ جاؤ۔
موسیٰ علیہ السلام نے معجزات پیش کیے، مگر فرعون نے انہیں جادو قرار دیا۔
جادوگروں کو جمع کیا گیا۔ مقابلہ ہوا۔ اللہ کے حکم سے موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہے کی صورت اختیار کر گیا اور جادوگروں کا بنایا ہوا فریب نگل گیا۔
جو لوگ جادو کا فن جانتے تھے، وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ انسانی جادو نہیں۔
وہ سجدے میں گر گئے:
﴿قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَٰرُونَ وَمُوسَىٰ﴾
“انہوں نے کہا: ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لے آئے۔”
فرعون نے دھمکایا، مگر ایمان دل میں اتر چکا تھا۔
یوں فرعون کی ظاہری طاقت کے مقابلے میں ایک نئی طاقت پیدا ہو چکی تھی:
یقین۔
—
رات کا سفر
بالآخر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت لے کر نکل جائیں۔
“اور ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھ سب لوگوں کو نجات دے دی۔ پھر دوسروں کو غرق کر دیا۔”
(الشعراء: 65-66)
—
فرعون بھی سمندر میں داخل ہو گیا
یہاں فرعون کے کردار کا آخری المیہ شروع ہوتا ہے۔
اس نے دیکھا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل پانی کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔
وہ معجزہ دیکھ رہا تھا۔
اس کے سامنے پانی دیواروں کی طرح کھڑا تھا۔
مگر اس کے دل میں ایمان نہیں آیا۔
وہ اپنے لشکر سمیت اسی راستے میں داخل ہو گیا۔
یہاں ایک اہم نکتہ ہے:
قرآن یہ نہیں کہتا کہ فرعون کو کوئی نیا معجزہ دکھائی نہیں دیا تھا۔ اس نے غیر معمولی نشانیاں پہلے بھی دیکھی تھیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس کا تکبر اس کے مشاہدے سے بڑا تھا۔
وہ سمجھتا رہا کہ جس راستے سے موسیٰ گزر سکتا ہے، فرعون بھی گزر سکتا ہے۔
لیکن موسیٰ کا گزرنا اللہ کے حکم سے تھا۔
اور فرعون کا تعاقب اس کے ظلم اور سرکشی کا نتیجہ تھا۔
“اب؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد کرنے والوں میں سے تھا!”
(یونس: 91)
یہ قرآن کا ایک انتہائی گہرا اصول ہے:
ایمان صرف زبان سے آخری لمحے میں کہہ دینے کا نام نہیں۔
جب انسان کے سامنے اختیار، مہلت اور عمل کا میدان موجود ہو اور وہ جان بوجھ کر حق کو ٹھکراتا رہے، پھر جب موت سامنے آ جائے تو محض زبان سے اعتراف اسے اس انجام سے نہیں بچاتا جسے اس نے اپنے اعمال سے خود اختیار کیا۔
“پس آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد آنے والوں کے لیے نشانی بن جائے، اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔”
(یونس: 92)
مفسرین نے اس آیت کے تحت بیان کیا ہے کہ فرعون کا جسم پانی سے نکالا گیا تاکہ اس کی موت یقینی طور پر معلوم ہو اور وہ بعد والوں کے لیے عبرت بنے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بعض سلف سے بھی اسی مفہوم کی روایات منقول ہیں۔
یہاں ایک ضروری احتیاط بھی ہے:
قرآن ہمیں فرعون کے جسم کو محفوظ کیے جانے کی خبر دیتا ہے، لیکن قرآن یا صحیح حدیث ہمیں یہ قطعی طور پر نہیں بتاتی کہ آج کسی عجائب گھر میں موجود فلاں ممی ہی موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا وہی فرعون ہے۔ اس تاریخی شناخت کو یقینی حقیقت کے طور پر بیان کرنا درست نہیں۔
قرآن کی اصل توجہ ممی کی شناخت پر نہیں بلکہ عبرت پر ہے۔
—
عاشوراء — نجات کی یاد
فرعون کی ہلاکت صرف قرآن میں بیان ہونے والا ایک تاریخی واقعہ نہیں؛ رسول اللہ ﷺ نے بھی موسیٰ علیہ السلام کی نجات اور فرعون کی ہلاکت کو یاد فرمایا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشوراء کے دن روزہ رکھتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر روزہ رکھا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«نَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ»
“ہم موسیٰ کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔”
پھر آپ ﷺ نے خود اس دن روزہ رکھا اور اس کا حکم دیا۔ یہ روایت صحیح بخاری میں مروی ہے۔
یوں فرعون کی شکست مسلمانوں کے لیے محض ایک پرانی داستان نہیں رہی؛ یہ اللہ کی مدد، انبیاء کی نصرت اور ظلم کے انجام کی یاد بن گئی۔
—
فرعون کہاں ہارا؟
فرعون سمندر میں نہیں ہارا تھا۔
وہ اس سے بہت پہلے اپنے نفس کے اندر ہار چکا تھا۔
وہ اس وقت ہار گیا تھا جب اس نے طاقت کو امانت سمجھنے کے بجائے خدائی اختیار سمجھ لیا۔
وہ اس وقت ہار گیا تھا جب اس نے انسانوں کو طبقات میں تقسیم کیا۔
وہ اس وقت ہار گیا تھا جب اس نے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔
وہ اس وقت ہار گیا تھا جب اس نے حق کو دیکھ کر اسے جادو کہا۔
اور سب سے بڑھ کر، وہ اس وقت ہار گیا تھا جب اس نے اپنے آپ کو اللہ کے مقابل کھڑا کر دیا۔
سمندر تو صرف اس شکست کا آخری منظر تھا۔
—
ایک فرعون ڈوب گیا، مگر سوال زندہ رہ گیا
قرآن نے اس واقعے کو بار بار بیان کیا ہے، کیونکہ اللہ چاہتا ہے کہ ہم صرف فرعون کے ڈوبنے کی کہانی نہ سنیں بلکہ اپنے اندر کے سوال کو بھی سنیں۔
کیا ہمارے پاس طاقت آ جائے تو ہم بھی کسی کمزور کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں؟
کیا اختیار ملنے پر ہم اپنے آپ کو جواب دہی سے آزاد سمجھتے ہیں؟
کیا حق ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اسے اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ اسے ماننے سے ہماری انا مجروح ہوتی ہے؟
فرعون کے پاس محل تھا، مگر امن نہ تھا۔
اس کے پاس لشکر تھا، مگر نجات نہ تھی۔
اس کے پاس اقتدار تھا، مگر آخری لمحے میں کوئی اختیار نہ رہا۔
اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس بظاہر صرف ایک عصا اور اللہ پر یقین تھا۔