Daily Roshni News

فلسفہ اور مذہب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )فلسفہ اور مذہب کی اپنی اپنی حدود اور دائرہ کار ہیں اور ان دونوں کو اسی پس منظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس دنیا میں انسان کے علم اور اگاہی کے تین ہی ذرائع ہیں،

1۔ عقل، شعور اور منطقی دلائل(فلسفہ)

2۔ تجرباتی اور مشاہداتی علم(سائنس)

3۔ خبر کا علم (مذہب بھی اسی علم میں شمار ہوتا ہے)

اگر ہم صرف خدا کے وجود (Existence of God ) پہ بات کریں تو انسان کی عقل، شعور اور منطقی دلائل(یعنی فلسفیانہ علم) نے بہت سی تھیوریز کی بنا پر اس کائنات میں خدا کے وجود کو تسلیم کیا ہے، جیسے Casuse & Effect Theory, Infinite Regress of Causes Theory, Contingency Theory, etc.

یہ فلسفیانہ تھیوریز اس کائنات کے کسی خالق ہونے کا تصور پیش کرتی ہیں، مگر اس خالق کائنات کی ذات و صفات اور پہچان کے بارے میں بات نہیں کرتیں، اس کیلئے مذہب یعنی خبر/وحی کا علم انسان کے سوالات کے جوابات دیتا ہے۔ فلسفیانہ علم جو اس کائنات کے کسی خالق ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے، تو وحی کا علم اس خالق کی پہچان کراتا ہے۔ یعنی فلسفہ خدا کا تصور پیش کرتا ہے، اور مذہب اس خدا کے وجود (ذات و صفات ) کی بات کرتا ہے۔ فلسفے اور مذہب کے اس بنیادی فرق کو سمجھ کر ہی انسان خدا کے ہونے یانہ ہونے کے بارے میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچ سکتا ہے۔ اگر کوئی خدا کے وجود (Existence of God) کی کوئی زمانی ترتیب(Choronological Order ) دینا چاہے، تو اس کی ترتیب کچھ اس طرح سے ہو گی:

1۔ کیا انسان کی عقل، شعور اور منطقی دلائل کے مطابق اس کائنات کا کوئی خالق ( Creator of this Universe) ہو سکتا ہے؟

2۔ اگر اس کا جواب ‘ نہیں’ ہے تو آپ ایتھزم مکتبہ فکر کی پیروی کر رہے ہیں

3۔ اگر اس کا جواب ‘ہاں’ ہے تو اب دیکھنا ہو گا کہ کونسا مذہب اس خالق کائنات کے وجود  کی سب سے بہترین پہچان کراتا ہے؟

میری ناقص رائے میں، یہ زمانی ترتیب ہی انسان کو خدا کا وجود ماننے یا نہ ماننے کی طرف راہنمائی کرتا سکتی ہے۔

جہاں تک بات تجرباتی اور مشاہداتی علم یعنی سائنس کی ہے تو سائنس نے اپنا دائرہ اختیار (Framework) بہت ہی واضح کر دیا ہے کہ اس کا تعلق اس طبیعیاتی دنیا (Physical World) میں موجود اجسام، اجرام، عمل اور عوامل کو تجرباتی اور مشاہداتی سے علم حاصل کرنا ہے اور مابعد الطبیعات دنیا (Metaphysical World) سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور یہی بیانیہ سائنس نے بہت وضاحت سے National Academics of Science میں دے دیا ہے، ” Science doesn’t have the processes to prove or disapprove the existence of God”.

اس واضح موقف کے بعد بھی اگر کوئی زور زبردستی سے سائنس کے ذریعے سے خدا کا وجود کو ثابت یا رد کرنا چاہے تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی بیرومیٹر سے بلڈ پریشر ماپنے پہ تلا ہو۔

بجنبش انگشت: نفس مطمئنہ

فلسفہ اور مذہب کی اپنی اپنی حدود اور دائرہ کار ہیں اور ان دونوں کو اسی پس منظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Loading