Daily Roshni News

فنا اور بقا کا راز یہی ہے کہ ولی اللہ اپنا جنازہ خود پڑھائے

فنا اور بقا کا راز یہی ہے کہ ولی اللہ اپنا جنازہ خود پڑھائے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت بابا فضل الدین چشتی صابری کلیامیؒ سلسلہ صابری کے جانشین اور حضرت صابر کلیریؒ کے روحانی بیٹے تھے اور روایات کے مطابق حضرت مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیریؒ کا جنازہ خود حضرت صابر کلیریؒ نے ایک نقاب پوش گھڑ سوار کے روپ میں خود پڑھایا تھا۔

حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ

نے اپنا نماز جنازہ خود پڑھایا

” پوچھا گیا (فنا) ہے اور (بقا)کیا ہے “

فرمایا جو میرا نماز جنارہ پڑھاۓ کا اس سے پوچھ لینا

جنازے کے وقت وصیت پڑھی گی میرا جنازہ وہ پڑھاۓ جس کی ساری زندگی تہجد کی نماز  قضا نہ ہوٸی ہو ۔ جب کوٸی بھی أگے  نہ ہوا تو ایک نقاب پوش بزرگ جنازہ پڑھانے کو آۓ نماز پڑھا کر جب جلدی سے واپس چلے تو مریدوں نے پوچھا حضور یہ تو بتاٸیں ہمارے پیر کہتے تھے جس نے میرا جنارہ پڑھا ہو گا اس سے فنا اور بقا کا مسلہ پوچھ لینا

خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ نے چہرے سے نقاب ہٹا دیا فرمایا جو لیٹا ہوا ہے فنا ہے جو میں ہوں بقا ہے

صوفیانہ روایات میں بعض اولیاء کرام سے فنا و بقا، کشف اور کرامات کے ایسے واقعات منقول ہیں جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی وفات کے بعد اپنا جنازہ خود پڑھایا یا جنازے میں اپنی روحانی یا حاضری ظاہر کی

بابا فضل الدین کلیامیؒ نے وصال سے قبل پیر سید مہر علی شاہؒ کو خواب میں یہ بشارت دی تھی کہ آپ نے ہی ان کا جنازہ پڑھانا ہے

ایک اور روایت میں یہ بھی بیان ہے کہ بابا فضل الدین کیامیؒ نے زندگی میں فرمایا تھا کہ ان کے جنازے کے لیے ایک شاہ سوار آئے گا بعد میں پیر مہر علی شاہؒ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی

خواجہ فضل الدین کلیامی کا وصال یکم جنوری 1892ء (1308ھ) کو ہوا اور ان کی نمازِ جنازہ پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے ہی پڑھائی اس واقعے کی تفصیلات پیر صاحب کی سوانح عمری “مہر منیر” میں بھی درج ہیں، جہاں جنازے کے موقع پر لوگوں کے شدید ہجوم کی وجہ سے پیر صاحب کو گھوڑے پر سوار ہو کر صفیں درست کرنا پڑیں۔

روایت کے مطابق بابا فضل الدین کلیامیؒ کے آخری وقت کے واقعات میں حضرت پیر مہر علی شاہؒ کو خواب میں ان کی زیارت ہوئی روایت میں ہے کہ بابا صاحبؒ نے فرمایا کہ وہ کلیام تشریف لائیں جب پیر مہر علی شاہؒ وہاں پہنچے تو بابا صاحبؒ ظاہری صورت میں نظر آئے اور دوسری طرف ان کا جسدِ مبارک موجود تھا۔ پھر پیر مہر علی شاہؒ نے ان کا جنازہ پڑھایا اس روایت کو “مہر منیر” سے منسوب کیا جاتا ہے

اصل میں بابا فضل شاہ کلیامی عشق حقیقی کی سب سے پہلی منزل پر فائز تھے اور ملامتیہ رنگ اپنائے ہوئے تھے جس سے وہ لوگوں کی ملامت اپناتے تھے اور لوگ ان کی شدید مخالفت کرتے تھے  اور کچھ لوگ ایسے تھے کہ خچروں پر کتابیں لاد کر لائے تھے کہ جو بابا صاحبؒ کی جنازہ پڑھانے آئے گا ہم اس سے مناظزہ کرے گے کہ بابا صاحبؒ کی جنازہ جائز نہیں ہے کہ ہم نے ظاہری آنکھوں سے انہیں نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے لیکن جب سب نے جنازے پڑھانے کے لئے پیر مہر علی شاہ کو آتے دیکھا تو وہ خچروں اور کتابوں سمیت بھاگ نکلے۔

Loading