قافیے کے عیوب اور ان کی باریکیوں کو سمجھنے سے قبل قافیے کے حروف پر موجود حرکات کا فہم حاصل کرنا ازحد ضروری ہے علمِ عروض و قوافی کی اصطلاح میں ان حرکات کو حرکاتِ قافیہ کہا جاتا ہے ان حرکات کی کل چھ اقسام متعین کی گئی ہیں
جن کے نام #رس #اشباع #حذو #توجیہ #مجریٰ اور #نفاذ ہیں
علمِ قوافی کے مبتدی طالب علموں کے لیے ان چھ حرکات کو ترتیب وار یاد رکھنا بسا اوقات دشوار ہوتا ہے اس مشکل کو حل کرنے کے لیے میں نے ایک نہایت آسان اور دلچسپ کلیہ “راحت من” ایجاد کیا ہے اگر آپ اس مرکب لفظ کو ذہن نشین کر لیں تو تمام حرکات باآسانی یاد رہیں گی اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ رس کا ر اشباع کا الف حذو کا ح اور توجیہ کا ت مل کر راحت بناتے ہیں اسی طرح مجریٰ کا م اور نفاذ کا ن ملانے سے من بنتا ہے یوں راحت من کے الفاظ حرکاتِ قافیہ کو ہمیشہ یاد رکھنے کی بہترین کلید ہیں
حرکاتِ قافیہ کی سب سے
پہلی حرکت رس کا براہ راست تعلق حرفِ تاسیس سے ہے تو پہلے حرف تاسیس کو اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں
حرفِ تاسیس
تعریف
وہ الفِ ساکن جو حرفِ روی سے قبل اس طرح واقع ہو کہ اس (الف) اور حرفِ روی کے درمیان ایک متحرک حرف موجود ہو، اسے علمِ قافیہ میں حرفِ ‘تاسیس’ کہتے ہیں اسے تاسیسِ الف بھی کہتے ہیں
تاسیس کا کردار قافیے کو ایک خاص قسم کی طوالت اور موسیقیت فراہم کرنا ہے یہ ردف اور قید کی طرح روی سے براہِ راست جڑا ہوا نہیں ہوتا بلکہ اپنے اور روی کے درمیان ایک متحرک حرف کی جگہ خالی چھوڑتا ہے جو ہمیشہ متحرک ہوتا ہے
قافیے میں تاسیس کی پابندی کو لازمی تو نہیں سمجھا جاتا
(مثلاً ‘شامل’ کے ساتھ ‘دل’ کا قافیہ لایا جا سکتا ہے)، لیکن اگر شاعر پورے کلام میں تاسیس کی پابندی نبھائے تو اسے کمالِ فن اور انتہائی مستحسن مانا جاتا ہے
تاسیس مثالیں
شامِل: اس لفظ میں اختتامی حرف ‘ل’ روی ہے، اور اس سے ایک حرف پہلے آنے والا ‘الف’ تاسیس ہے (درمیان میں ‘م’ موجود ہے اس م پر جو حرکت ہے اسے رس کہتے ہیں)
کامِل: اس لفظ میں ‘ل’ حرفِ روی ہے، اور اس سے قبل ‘م’ کو چھوڑ کر جو ‘الف’ موجود ہے، وہ حرفِ تاسیس کہلاتا ہے
م سے پہلے حرف ک پر جو حرکت ہے اسے رس کہتے ہیں
تساہُل: اس مثال میں ‘ل’ روی کے طور پر آیا ہے، اور درمیانی حرف ‘ہ’ سے قبل واقع ہونے والا ‘الف’ تاسیس کی نمائندگی کرتا ہے
تساہل میں س پر جو زبر ہے اسے رس کہتے ہیں
تغافُل: اس لفظ کی ساخت میں ‘ل’ حرفِ روی ہے، اور درمیانی حرف ‘ف’ سے پہلے آنے والا ‘الف’ تاسیس ہے
تغافل میں غ پر جو حرکت ہے اسے رس کہتے ہیں
عاقِل: اس لفظ میں بھی ‘ل’ حرفِ روی ہے، اور درمیانی حرف ‘ق’ کے پیچھے موجود ‘الف’ کو حرفِ تاسیس کہا جائے گا
عاقل میں ع پر جو حرکت ہے اسے رس کہتے ہیں
ماہر اور ظاہر کے قوافی کی ہے ان میں میم اور ظوئے سے متصل الف حرفِ تاسیس کی ذمہ داری نبھا رہا ہے ان دونوں الفاظ میں الف اور حرفِ روی یعنی رے کے درمیان ہ متحرک ہے
م اور ظ پر جو حرکت ہے اسے رس کہتے ہیں
قاتل اور باطل شعری قوافی کے طور پر ان میں ق اور ب کے متصل بعد والا الف تاسیس کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس کے بعد تے اور طوئے کی حرکت موجود ہے اور آخر میں لام حرفِ روی کے طور پر آیا ہے
ق اور ب پر جو حرکت ہے اسے رس کہتے ہیں
طارق اور خالق کے قوافی میں طوئے اور خے کے بعد موجود الف حرفِ تاسیس بنے گا اس الف کے بعد رے اور لام متحرک ہیں اور آخر میں قاف حرفِ روی کے منصب پر فائز ہے
ط اور خ پر جو حرکت ہے اسے رس کہتے ہیں
حرکاتِ قافیہ (راحت من)
رس
تعریف
اب ہم پہلی حرکت یعنی رس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں قافیے میں حرفِ تاسیس سے بالکل پہلے آنے والے حرف پر جو حرکت ہوتی ہے اسے علمِ قوافی میں رس کہا جاتا ہے چونکہ حرفِ تاسیس ہمیشہ الف ہوتا ہے اور قواعد کی رو سے الف سے قبل ہمیشہ زبر یعنی فتحہ ہی آ سکتا ہے اس لیے یہ طے ہے کہ رس کی حرکت ہمیشہ زبر ہی ہوگی
اس اصول کو سمجھنے کے لیے کامل اور شامل جس میں کاف اور شین پر موجود زبر دراصل رس کی حرکت ہے
غافل اور عاقل میں غین اور عین پر موجود زبر رس کہلائے گی
قاتل اور باطل کی میں قاف اور بے پر موجود زبر رس کی حرکت ہے
ساحل اور جاہل میں سین اور جیم پر آنے والی زبر رس ہے
ظاہر اور طاہر ہے جس میں ظوئے اور طوئے کا زبر رس کی واضح مثال ہے
صائب اور تائب کی ہے جن میں صاد اور تے کے زبر کو رس کہا جائے گا
رخسانہ عنبر
جاری ہے……….
![]()

