Daily Roshni News

قدیم زمانے میں دشمنوں کا مذاق و تضحیک کرنا

قدیم زمانے میں دشمنوں کا مذاق و تضحیک کرنا

ہالینڈ(دیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دشمنوں کا طنز مذاق اڑانا ان کی بے عزتی کرنا قدیم فوجی حکمت عملیوں میں شامل تھا مصری بادشاہ سیسوسٹریس کے بارے میں یونانی تاریخ دان ہیروڈوٹس کا بیان ہے کہ اس نے اپنی کامیاب مہمات کے بعد فتح کی علامت کے طور پر یادگاریں (تعمیرات) کھڑی کیں اور ان علاقوں میں جہاں اسے خاص طور پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، وہاں اس نےمینار بنوائے جن پر فتح کی تفصیلات لکھی گئیں

تاہم، ان علاقوں میں جہاں دشمنوں نے بڑی لڑائی کے بغیر ہتھیار ڈال دیے وہاں اس نے میناروں کے اوپر خواتین کے جنسی اعضاء کی تصویر کشی کی یہ شکست خوردہ لوگوں کی بے عزتی کی واضح علامت تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ شکست خوردہ دشمن نہ صرف کمزور تھے، بلکہ بے عزت یا بزدل بھی تھے

ذلت کی اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد فاتح کے ناقابل تسخیر ہونے کے تصور کو تقویت دینا تھا، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا تھا کہ شکست خوردہ دشمن اپنے فاتح کو دوبارہ بغاوت یا للکارنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ تمسخر کا یہ عمل، خاص طور پر جنسی تصویروں کا استعمال، دشمن کے حوصلے پست کرنے اور فاتح کی طاقت کو مستحکم کرنے کا ایک طریقہ تھا تاکہ وہ اس نفسیاتی جنگ میں شکست کھانے کے بعد ہتھیار اٹھانے کی کوشش ہی نہ کریں۔۔۔

Loading