Daily Roshni News

قرآنی اشارات اور جدید ایمبریولوجی: سورۂ الطارق کی آیت “يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ” کا ایک تحقیقی مطالعہ

قرآنی اشارات اور جدید ایمبریولوجی: سورۂ الطارق کی آیت “يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ” کا ایک تحقیقی مطالعہ

مؤلف: طارق اقبال سوہدروی

قرآنِ مجید اللہ رب العزت کا وہ آخری اور حتمی کلام ہے جو قیامت تک انسانیت کی ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ یہ کتاب صرف عبادات اور عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ غور و فکر، تدبر، اور کائنات میں چھپی ہوئی نشانیوں پر سوچنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ قرآن بار بار انسان کو اپنی تخلیق، زمین و آسمان، رات دن، سمندر، بارش، جانوروں، اور خود اپنے وجود پر غور کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جدید سائنس بعض حقائق تک پہنچتی ہے تو بہت سے لوگ قرآن کی ان آیات کو نئے زاویے سے دیکھنے لگتے ہیں جنہیں پہلے محض عمومی بیان سمجھا جاتا تھا۔

یہاں ایک بات ابتدا ہی میں واضح رہنی چاہیے کہ قرآن سائنس کی درسی کتاب نہیں۔ اس کا اصل مقصد انسان کو ہدایت دینا، اپنے خالق سے جوڑنا، اور ایمان و اخلاق کی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ البتہ جب قرآن کائنات یا انسانی تخلیق کے بعض مراحل کی طرف اشارہ کرتا ہے تو اس کی زبان ایسی حیرت انگیز گہرائی رکھتی ہے کہ جدید علم بعض اوقات ان اشارات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کا سائنسی اعجاز یہ نہیں کہ اس میں جدید لیبارٹری اصطلاحات موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے ایسے حقائق کی طرف اشارے کیے گئے جن کی گہرائی بعد کے زمانوں میں زیادہ واضح ہوتی گئی۔

سورۂ الطارق کی چند آیات بھی اسی نوعیت کی ہیں جنہوں نے صدیوں سے مفسرین، مفکرین، اور جدید ایمبریولوجی (Embryology) کے ماہرین کو غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۝ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ ۝ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ﴾

ترجمہ:
“پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا، جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔”

یہاں خاص طور پر آخری جملہ ہمیشہ سے توجہ کا مرکز رہا ہے:

﴿يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ﴾

بظاہر آج کے انسان کو یہ آیت جدید علمِ تشریح الاعضاء (Anatomy) سے مختلف محسوس ہو سکتی ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مرد میں منی (Sperm) خصیوں (Testes) میں بنتی ہے، جبکہ عورت میں بیضہ (Ovum) بیضہ دانیوں (Ovaries) میں بنتا ہے۔ خصیے جسم سے باہر اسکروٹم (Scrotum) میں ہوتے ہیں اور بیضہ دانیاں جسم کے نچلے حصے میں واقع ہوتی ہیں۔ چنانچہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ پھر قرآن “صلب” اور “ترائب” کے درمیان سے نکلنے کی بات کیوں کر رہا ہے؟

اسی سوال نے جدید دور میں اس آیت پر ایک نئی بحث کو جنم دیا، اور جب جدید ایمبریولوجی کے حقائق سامنے آئے تو بہت سے محققین نے محسوس کیا کہ قرآن کا بیان ظاہری سطح سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔

سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم “صلب” اور “ترائب” کے معانی کو سمجھیں۔ عربی لغت میں “صلب” کا معنی مضبوط پیٹھ، پشت، یا ریڑھ کی ہڈی کا حصہ ہے۔ اکثر مفسرین نے اس سے مراد مرد کی پشت لی ہے۔ جبکہ “ترائب” کا لفظ “تريبة” کی جمع ہے، اور قدیم مفسرین نے اس کے مختلف معانی بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ، قتادہؒ، اور دیگر کئی مفسرین کے نزدیک اس سے مراد عورت کے سینے کا اوپری حصہ ہے، یعنی وہ علاقہ جہاں ہار پہنا جاتا ہے۔ بعض اہلِ لغت نے اسے پسلیوں یا سینے کے پنجرے کے معنوں میں لیا ہے۔

قدیم مفسرین نے عمومی طور پر یہ مفہوم لیا کہ انسان مرد اور عورت دونوں کے پانی سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے “صلب” مرد کی پشت اور “ترائب” عورت کے سینے کی طرف اشارہ ہے۔ یہ تفسیر اپنی جگہ درست اور علمی طور پر معتبر ہے۔ لیکن جدید دور میں جب انسانی جنین کی ابتدائی نشوونما پر تحقیق ہوئی تو اس آیت کا ایک اور حیرت انگیز پہلو سامنے آیا۔

جدید ایمبریولوجی ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی تولیدی اعضاء اپنی ابتدا میں موجودہ مقام پر نہیں بنتے۔ حمل کے ابتدائی ہفتوں میں جنین (Embryo) کے اندر ایک خاص ساخت بنتی ہے جسے (Urogenital Ridge) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ ابتدائی مقام ہے جہاں بعد میں تولیدی غدود (Gonads) بنتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ساخت ریڑھ کی ہڈی کے قریب اور نچلی پسلیوں کے آس پاس posterior abdominal wall میں بنتی ہے، یعنی جسم کے اسی علاقے میں جسے قرآن نے “صلب” اور “ترائب” کے درمیان کہا۔

بعد میں یہی ابتدائی غدود مرد میں خصیوں (Testes) اور عورت میں بیضہ دانیوں (Ovaries) میں تبدیل ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے جنین بڑھتا ہے، یہ اعضاء اپنی ابتدائی جگہ سے نیچے کی طرف سفر کرتے ہیں۔ مرد میں خصیے پیٹ کے اوپری حصے سے نیچے اترتے ہوئے آخرکار اسکروٹم میں پہنچ جاتے ہیں، جبکہ عورت میں بیضہ دانیاں pelvic cavity میں جا کر رک جاتی ہیں۔ لیکن ان کی اصل embryological origin وہی اوپری حصہ ہوتا ہے جہاں ان کی تخلیق شروع ہوئی تھی۔

یہاں ایک نہایت اہم نکتہ قابلِ غور ہے۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ بالغ انسان میں منی ہمیشہ پیٹھ سے خارج ہوتی ہے، بلکہ قرآن کے الفاظ اس اصل تخلیقی ماخذ (Origin) کی طرف اشارہ کرتے محسوس ہوتے ہیں جہاں یہ نظام ابتدا میں وجود میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ایمبریولوجی کے کئی ماہرین اس آیت کو دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔

اس حقیقت کا ایک اور حیران کن ثبوت انسانی جسم کے اعصابی اور خونی نظام میں بھی موجود ہے۔ خصیوں اور بیضہ دانیوں کو خون پہنچانے والی شریانیں (Testicular & Ovarian Arteries) جسم میں بہت اوپر، گردوں کے قریب، بڑی مرکزی شریان (Aorta) سے نکلتی ہیں۔ پھر یہ لمبا سفر طے کر کے نیچے اپنے متعلقہ اعضاء تک پہنچتی ہیں۔ اسی طرح ان اعضاء کے اعصاب بھی ریڑھ کی ہڈی کے انہی حصوں (T10-L2 segments) سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خصیوں میں درد بعض اوقات پیٹ اور کمر میں محسوس ہوتا ہے، کیونکہ ان کے اعصاب کا اصل تعلق جسم کے اسی اوپری حصے سے ہوتا ہے۔

اسی طرح لمفی نظام (Lymphatic Drainage) بھی یہی اشارہ دیتا ہے۔ خصیوں اور بیضہ دانیوں کا لمف واپس جسم کے اوپری حصے، گردوں کے قریب موجود lymph nodes میں جاتا ہے، جو ان کے اصل embryological origin کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

یہاں بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر قرآن کا مطلب یہی تھا تو قدیم مفسرین نے اس طرح کیوں نہیں سمجھا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہر دور کا انسان قرآن کو اپنے علم کے مطابق سمجھتا ہے۔ قدیم مفسرین کے پاس ایمبریولوجی کا جدید علم موجود نہیں تھا، اس لیے انہوں نے لغت اور اپنے زمانے کے علم کے مطابق آیت کی تشریح کی، اور ان کی تشریح اپنی جگہ درست تھی۔ لیکن قرآن کے الفاظ میں ایسی وسعت موجود تھی کہ بعد کے ادوار میں انسان ان کے مزید پہلوؤں کو سمجھتا گیا۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کو زبردستی جدید سائنس کی مکمل textbook بنانا درست نہیں۔ اسی طرح ہر سائنسی نظریے کو فوراً قرآن سے جوڑ دینا بھی احتیاط کے خلاف ہے۔ لیکن جب جدید علم کسی قرآنی اشارے کے قریب پہنچتا ہے تو ایک صاحبِ ایمان کے لیے یہ تدبر اور حیرت کا باعث ضرور بنتا ہے۔

جدید دور میں بعض ماہرینِ جنین، خصوصاً ڈاکٹر کیتھ مور (Keith L. Moore)، نے قرآنی جنینی اشارات پر دلچسپی ظاہر کی تھی اور یہ اعتراف کیا تھا کہ ساتویں صدی میں انسانی جنین کے متعلق اتنی دقیق زبان حیران کن ہے۔ البتہ علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی طرف وہ باتیں منسوب نہ کی جائیں جن کے قطعی ثبوت موجود نہیں، جیسا کہ بعض لوگ مبالغہ کرتے ہوئے ان کے قبولِ اسلام یا بعض غیر مصدقہ اقوال نقل کرتے ہیں۔

اس پورے مطالعے کا خلاصہ یہ ہے کہ سورۂ الطارق کی یہ آیت انسانی تولیدی نظام کے embryological origin کی طرف ایک نہایت گہرا اشارہ معلوم ہوتی ہے۔ جدید ایمبریولوجی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ خصیے اور بیضہ دانیاں ابتدا میں جسم کے اسی حصے میں بنتے ہیں جو ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیانی علاقے کے قریب واقع ہے۔ ان کی خون کی شریانیں، اعصابی نظام، اور lymphatic تعلق بھی اسی اصل مقام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

لہٰذا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ قرآن جدید سائنس کی درسی کتاب ہے، لیکن یہ کہنا بھی آسان نہیں کہ یہ آیت سائنسی غلطی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید علم بعض اوقات قرآن کے ان اشارات کی گہرائی کو مزید واضح کر دیتا ہے جو چودہ سو سال پہلے نازل ہوئے تھے۔ اور یہی چیز ایک صاحبِ ایمان کے لیے تدبر، حیرت، اور اپنے خالق کی عظمت کو محسوس کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔

﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾

حوالہ جات:
1۔ قرآنِ مجید — سورۂ الطارق: 5–7
2۔ Langman’s Medical Embryology
3۔ Keith L. Moore — The Developing Human
4۔ Gray’s Anatomy
5۔ Bruce Carlson — Human Embryology and Developmental Biology

#قرآن_اور_سائنس
#سورہ_الطارق
#ایمبریولوجی
#انسانی_تخلیق
#سائنسی_اعجاز
#سائنس_قرآن_کے_حضور_میں
#جدید_ایمبریولوجی
#اسلام_اور_سائنس
#QuranAndScience
#Embryology
#HumanCreation

Loading