ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)قرآنی حقائق کا جان بوجھ کر قتل، ہالی وڈ کا سکرپٹ اور یوٹیوب کے ‘خلائی’ دانشور: ذوالقرنین کے اسفار پر بنے سائنس فکشن سراب کا الٹیمیٹ، ضخیم اور سفاک پوسٹ مارٹم! – بلال شوکت آزاد
میرے انتہائی محترم قارئین اور فکری مسافرو!
علم، شعور اور حقائق کی تلاش کے اس کٹھن سفر میں ایک مقام ایسا ضرور آتا ہے جہاں انسان کو سچائی کے نور اور سنسنی خیز اندھیرے کے درمیان ایک واضح، دو ٹوک اور سفاک لکیر کھینچنی پڑتی ہے۔
آپ کے نیورل سرکٹس (Neural Circuits) میں یہ بات یقیناً محفوظ ہوگی کہ میں نے اپنی پچھلی تفصیلی، ضخیم اور عمرانی تحریر میں حضرت ذوالقرنین کے ان تین عظیم الشان اسفار کا خالصتاً زمینی، جغرافیائی اور جیو پولیٹیکل (Geopolitical) پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ میں نے انتہائی واضح، ٹھوس اور منطقی و عقلی اور مذہبی اعتبار سے ناقابلِ تردید دلائل کے ساتھ یہ کائناتی مساوات آپ کے سامنے رکھی تھی کہ ان کا پہلا اور دوسرا سفر دراصل مشرق اور مغرب کے اس ابدی تہذیبی اور معاشی ٹکراؤ کی تصویر کشی ہے جسے آج کی ماڈرن پولیٹیکل سائنس میں ہم ‘فرسٹ ورلڈ’ (First World) اور ‘تھرڈ ورلڈ’ (Third World) کہتے ہیں۔
اور پھر میں نے ان کے تیسرے اور سب سے پراسرار سفر کو قطبین (Poles) کی اس منجمد، ہولناک اور تھرمو ڈائنامک فزکس کے ساتھ جوڑا تھا جہاں لوہے اور تانبے کی دیوار پر روزانہ جمنے والی برف کی دبیز، پہاڑ جیسی تہہ اس بات کا سو فیصد منطقی، سائنسی اور عقلی جواب دیتی ہے کہ یاجوج ماجوج دن بھر جس دراڑ کو اپنے ناخنوں اور اوزاروں سے کھودتے ہیں، قدرت کا انتہائی سرد اور منجمد موسمیاتی نظام رات کی تاریکی میں اسے کیسے دوبارہ بھر دیتا ہے۔
میری اس تحریر نے جہاں بہت سے سوئے ہوئے اذہان کو جھنجھوڑا، وہیں اس نے ہمارے معاشرے میں موجود ایک بہت بڑے فکری کینسر اور عقائدی مغالطے کو بھی چھیڑ دیا۔
مجھ سے بے شمار دوستوں، طالب علموں اور قارئین نے یہ سنجیدہ سوال کیا کہ آج کل سوشل میڈیا پر، خاص طور پر یوٹیوب اور پوڈ کاسٹس کی دنیا میں، کچھ انتہائی مقبول، سوٹ بوٹ پہنے ہوئے موٹیویشنل اسپیکرز، ڈیجیٹل خطیب اور ولاگرز (Vloggers) یہ چونکا دینے والا دعویٰ کر رہے ہیں کہ حضرت ذوالقرنین کے یہ سفر اس زمین پر ہوئے ہی نہیں تھے، بلکہ یہ خلا (Space) اور دوسری کہکشاؤں کے سفر تھے۔
یہ نام نہاد ‘جدید محققین’ اپنی ویڈیوز میں، سٹوڈیو کی رنگین لائٹوں کے سامنے بیٹھ کر، پورے اعتماد سے اپنی معصوم عوام کو یہ بتاتے ہیں کہ قرآنی لفظ “عینِ حمئہ” (سیاہ چشمہ) دراصل کوئی زمین کا چشمہ نہیں بلکہ کائنات کا ایک بلیک ہول (Black Hole) تھا، حضرت ذوالقرنین نے ورم ہولز (Wormholes) کے ذریعے ٹائم ٹریول کیا، وہ دوسری کہکشاؤں (Galaxies) میں گئے، اور یاجوج ماجوج کوئی انسان نہیں بلکہ کسی اور ڈائمینشن (Dimension) یا سیارے کی خلائی مخلوق، یعنی ایلینز (Aliens) ہیں۔
میرے باشعور اور دردِ دل رکھنے والے قارئین!
آج میں کسی کا نام لیے بغیر، ان کے اس پورے ‘ہالی وڈ’ (Hollywood) اور مارول اسٹوڈیوز (Marvel Studios) سے متاثرہ سستے اور کھوکھلے بیانیے کا وہ علمی، سائنسی، منطقی، خالصتاً عقلی اور الہیاتی پوسٹ مارٹم کروں گا کہ اس کے بعد آپ کی آنکھوں پر پڑا ہر پردہ ہٹ جائے گا، اور آپ کو سچے دین اور اس سائنس فکشن (Sci-Fi) کی دکان کے درمیان فرق بالکل شیشے کی طرح صاف نظر آنے لگے گا۔
میرا قلم آج بے باک ضرور ہے، میری کاٹ آج تیز ضرور ہے، مگر یہ کسی کی ذات پر حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس فکری اور ایپسٹی مولوجیکل (Epistemological) گمراہی پر وہ کاری ضرب ہے جو ہمارے نوجوانوں کے عقائد کی بنیادوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ میرے ساتھ اس فکری سفر میں جڑے رہیے گا، کیونکہ آج ہم ان خلائی دعوؤں کو زمین کی ٹھوس حقیقت پر پٹخنے والے ہیں۔
پہلا فریب: “عینِ حمئہ” اور بلیک ہول کی سائنسی اور الہیاتی خودکشی:
سب سے پہلے، آئیے اس سب سے بڑے دعوے کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں جسے یہ ڈیجیٹل دانشور اپنی پوری خلائی تھیوری کی سب سے بڑی اور مضبوط بنیاد بناتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سورہ کہف میں جس “عَيْنٍ حَمِئَةٍ” (سیاہ کیچڑ والے چشمے) کا ذکر ہے، وہ زمین کا کوئی پانی کا چشمہ نہیں بلکہ کائنات کا ایک ہولناک بلیک ہول تھا۔
ذرا قرآن کے الفاظ پر غور کریں:
“حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوْمًا”
(یہاں تک کہ جب وہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا تو اسے ایک سیاہ کیچڑ والے چشمے میں ڈوبتا محسوس کیا اور وہاں اسے ایک قوم ملی)۔
آئیے ذرا اس دعوے کو آج کی ماڈرن کوانٹم فزکس اور کاسمولوجی (Cosmology) کی کسوٹی پر تولتے ہیں، جس کا نام لے کر یہ لوگ عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔
ماڈرن سائنس ہمیں پوری صراحت کے ساتھ بتاتی ہے کہ بلیک ہول کائنات کا وہ تاریک ترین اور کثیف ترین حصہ ہے جہاں کششِ ثقل (Gravity) اتنی بے پناہ اور ہولناک ہوتی ہے کہ کائنات کی تیز ترین چیز، یعنی روشنی (Light) بھی اس کے چنگل سے فرار نہیں ہو سکتی۔ بلیک ہول کے بیرونی کنارے، جسے ‘ایونٹ ہورائزن’ (Event Horizon) کہا جاتا ہے، کے قریب جانے والی ہر مادی چیز، چاہے وہ اربوں ٹن وزنی ستارے ہوں یا دیوہیکل سیارے، وہ کششِ ثقل کے اس اندھے کھنچاؤ کے باعث ‘سپگیٹی فیکیشن’ (Spaghettification) کے بے رحم عمل سے گزر کر لمبے دھاگوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور ایٹموں کی سطح پر بکھر کر راکھ ہو جاتے ہیں۔
اب ذرا ان سوٹڈ بوٹڈ ڈیجیٹل دانشوروں کی عقل پر، ان کی سائنس دانی پر اور ان کے فہمِ قرآن پر ماتم کریں!
کائنات کا خالق قرآن میں صراحت، کمال فصاحت اور واضح عربی زبان میں فرما رہا ہے کہ حضرت ذوالقرنین جب اس چشمے (عین حمئہ) کے پاس پہنچے تو انہیں وہاں ایک “قوم” (انسانوں کی بستی) ملی۔ اور اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ذوالقرنین کو اختیار دیا کہ وہ ان پر عادلانہ قانون نافذ کریں۔
میرے عزیزو!
اگر وہ چشمہ درحقیقت کائنات کا کوئی بلیک ہول تھا، تو کیا وہ انسانوں کی قوم اس بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن پر بیٹھ کر پکوڑے بیچ رہی تھی؟
کیا وہاں کششِ ثقل کے اس الٹیمیٹ، ایٹموں کو پھاڑ دینے والے دباؤ میں کوئی انسانی تہذیب، ان کے مٹی اور گارے کے گھر، ان کے جانور، اور ان کا معاشی نظام زندہ اور صحیح سلامت رہ سکتا ہے؟
ایک انسان کا جسم تو درکنار، ایک پورا زمینی سیارہ بھی بلیک ہول کے قریب ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصے کے لیے بھی اپنی حالت برقرار نہیں رکھ سکتا۔ پھر کائنات کا خالق یہ کیوں فرماتا کہ ذوالقرنین نے وہاں اپنا زمینی اور عادلانہ ریاستی قانون نافذ کیا؟
کیا حضرت ذوالقرنین نے ان ‘خلائی مخلوقوں’ یا ‘بلیک ہول کے رہائشیوں’ کو کوڑے مارے تھے، یا انہیں اپنی زمینی جیلوں میں قید کیا تھا؟
یہ بات نہ صرف سائنس کی توہین ہے، بلکہ یہ قرآن کی اس صریح اور واضح آیت کا بھی مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
“عینِ حمئہ” خالصتاً اور سوفیصد عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب محض ایک گرم اور سیاہ کیچڑ والا چشمہ ہے۔ زمین پر آج بھی بے شمار ایسے آتش فشاں سے جڑے گرم چشمے (Volcanic Hot Springs) موجود ہیں، خاص طور پر آئس لینڈ اور بحیرہ اسود کے قریبی علاقوں میں، جہاں مٹیلی اور سیاہ کیچڑ ابلتی ہے۔
حضرت ذوالقرنین نے جب مغرب کے آخری کنارے پر کھڑے ہو کر دیکھا، تو سورج کا اس چشمے میں ڈوبتا ہوا محسوس ہونا محض ایک بصری زاویہ (Optical Illusion) اور انسانی نگاہ کا ایک منظر تھا، بالکل ویسے ہی جیسے ہم سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر سورج کو پانی کی لہروں میں ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں۔ اسے زبردستی بلیک ہول بنانا، الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، قرآن کی کوئی الہامی تفسیر نہیں ہے، بلکہ یہ ہالی وڈ کی سستی سائنس فکشن فلموں کی اندھی نقالی ہے۔
دوسرا فریب: کہکشاؤں کا سفر اور حضرت محمد ﷺ کی معراج کے کائناتی تقدس پر حملہ:
ان یوٹیوب کے مفکرین اور موٹیویشنل اسپیکرز کی دوسری سب سے بڑی، سب سے گہری اور سب سے خطرناک تخیلاتی اڑان یہ ہے کہ حضرت ذوالقرنین نے زمین سے باہر، گلیکٹک (Galactic) سفر کیا تھا، وہ ورم ہولز کے ذریعے اڑتے ہوئے دیگر کہکشاؤں میں چلے گئے تھے۔
میرے محترم قارئین!
یہ کوئی معمولی علمی غلطی یا محض سوچ کا اختلاف نہیں ہے، بلکہ اگر آپ گہرائی میں جا کر دیکھیں تو یہ براہِ راست ہمارے اسلامی عقیدے، ہماری الہیات اور ہماری قرآنی ایپسٹی مولوجی (Epistemology) پر ایک خنجر کا وار ہے۔
اسلام کا بنیادی، اٹل اور ناقابلِ شکست عقیدہ یہ ہے کہ اس پوری انسانی تاریخ میں، حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے لے کر قیامت کے دن تک، اگر کسی ایک بشر نے زمان و مکان (Space and Time) کی قید کو توڑا ہے، جس نے اس زمین کے کرہِ ہوائی کو، مادی فزکس کی بیڑیوں کو پار کر کے کائنات کی آخری بلندیوں، سدرۃ المنتہیٰ، اور عرشِ بریں کا جسمانی اور شعوری سفر کیا ہے، تو وہ صرف اور صرف، بلا شرکتِ غیرے، ہمارے آقا، سید المرسلین، امام الانبیاء، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے!
“سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً…”
معراج کا وہ کائناتی اور ڈائمینشنل سفر حضور ﷺ کا وہ الٹیمیٹ، مخصوص، لاثانی اور الہامی معجزہ ہے جس میں کائنات کا کوئی دوسرا انسان، کوئی دوسرا نبی، حتیٰ کہ مقرب فرشتے بھی شریک نہیں ہو سکتے۔
اگر ہم ان یوٹیوب سکالرز کی یہ کھوکھلی بات مان لیں کہ حضرت ذوالقرنین، جو کہ ایک نیک بادشاہ تھے مگر نبی نہیں تھے، وہ بھی اپنی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی سے کہکشاؤں کو پار کر رہے تھے، بلیک ہولز میں جا رہے تھے، تو پھر معراج کی انفرادیت، اس کا معجزہ اور اس کا وہ الہیاتی تقدس کیا رہ گیا؟
اگر ایک بادشاہ اپنی فوج کے ساتھ ورم ہول پار کر سکتا ہے، تو پھر معراج کو اس قدر عظیم معجزہ کیوں کہا گیا؟
قرآن صراحت اور کمال تفصیل سے بتاتا ہے کہ ذوالقرنین نے اپنے سفر کے لیے “سَبَبًا” (اسباب، ذرائع یا راستے) اختیار کیے (“فَأَتْبَعَ سَبَبًا”)۔
یہ اسباب کیا تھے؟
یہ خالصتاً زمینی ٹیکنالوجی، بہترین نسل کے گھوڑے، لاجسٹکس کا نظام، عظیم الشان بحری بیڑے، ان کی انجینئرنگ اور ان کے لاکھوں کے لشکر تھے۔ کیا یہ ڈیجیٹل خطیب ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ذوالقرنین نے لوہا اور تانبا پگھلانے والی اپنی دیوہیکل بھٹیاں، اپنے ہزاروں مزدور، ان کی خوراک کا سامان، ان کے خیمے اور اپنی پیدل فوجیں کسی خلائی جہاز (Spaceship) میں بٹھائیں اور ورم ہولز کے ذریعے خلا میں لے گئے؟
کیا انہوں نے زمین کی گریوٹی (Gravity) کو شکست دینے کے لیے کوئی راکٹ لانچ کیا تھا؟
یہ وہ مضحکہ خیز، بچگانہ اور احمقانہ منطق ہے جو صرف وہ شخص دے سکتا ہے جس نے قرآن کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھنے کے بجائے، انٹرسٹیلر (Interstellar) اور سٹار وارز (Star Wars) جیسی فلموں کی سکرپٹ رائٹنگ کو اپنے دماغ پر مسلط کر لیا ہو۔
تیسرا فریب: یاجوج ماجوج اور کائناتی ایلینز (Aliens) کی واہیات تھیوری:
اب ہم آتے ہیں اس پوری بحث کے سب سے حساس، حتمی اور منطقی نقطے کی جانب، جس نے نوجوانوں کے دماغوں میں سب سے زیادہ سنسنی پھیلا رکھی ہے۔
ان ولاگرز کا ایک انتہائی پرکشش اور وائرل دعویٰ یہ ہے کہ یاجوج ماجوج دراصل کوئی انسان نہیں ہیں، وہ بنی آدم میں سے نہیں ہیں، بلکہ وہ خلائی مخلوق ہیں، وہ کسی دوسری ڈائمینشن یا ملٹی ورس (Multiverse) میں قید ایلینز ہیں، جو قیامت کے قریب زمین پر پورٹلز (Portals) کے ذریعے حملہ آور ہوں گے۔
آئیے اس بے بنیاد، سنسنی خیز اور جھوٹی تھیوری کو صحیح احادیث اور زمینی فزکس کے ہتھوڑے سے پاش پاش کرتے ہیں۔
صحیح مسلم اور دیگر مستند کتبِ احادیث میں یاجوج ماجوج کے ظہور کی جو تفصیلات نبی کریم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں، وہ چیخ چیخ کر انہیں اسی زمین کی پیداوار، اسی زمین کی مخلوق اور حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ثابت کرتی ہیں۔
حدیث میں واضح طور پر، جغرافیائی نشانات کے ساتھ آیا ہے کہ جب یاجوج ماجوج کی دیوار ٹوٹے گی اور وہ ٹڈی دل کی طرح اس زمین پر پھیلیں گے، تو ان کا پہلا دستہ “بحیرہ طبریہ” (Lake Tiberias / Sea of Galilee) پر سے گزرے گا اور اس جھیل کا سارا پانی پی جائے گا، یہاں تک کہ جب آخری دستہ وہاں پہنچے گا تو کہے گا کہ یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا۔
میرے فکری مسافرو!
ذرا اپنے دماغ کے بند دریچوں کو کھولیں اور عقل استعمال کیجیے۔
بحیرہ طبریہ فلسطین، شام اور اردن کے بارڈر پر موجود اس زمین کا ایک مشہور، زمینی اور میٹھے پانی کا طبعی جھیل ہے۔ اگر یاجوج ماجوج کوئی دوسری ڈائمینشن کی، یا کسی دوسرے سیارے کی ایلین مخلوق ہیں جو ورم ہولز پار کر کے آئیں گے، تو وہ سیدھا آ کر مشرقِ وسطیٰ کی ایک زمینی جھیل کا پانی کیوں پیئیں گے؟
کیا ان کی کہکشاؤں میں، خلا میں یا ان کی ماڈرن ایلین ڈائمینشن میں پانی کی اتنی کمی ہو گئی ہے کہ وہ کروڑوں نوری سال کا فاصلہ طے کر کے زمین کے ایک چھوٹے سے تالاب سے پیاس بجھانے آئیں گے؟
کیا خلائی مخلوقات کو پیاس لگتی ہے، اور وہ بھی زمین کے پانی کی؟
مزید برآں، حدیث میں صراحت کے ساتھ ذکر ہے کہ جب وہ زمین والوں کو قتل کر دیں گے تو وہ تکبر میں آ کر آسمان کی طرف اپنے تیر (Arrows) پھینکیں گے، جو اللہ کے حکم سے خون آلود ہو کر واپس آئیں گے، اور وہ سمجھیں گے کہ انہوں نے آسمان والوں کو بھی نعوذ باللہ مار دیا ہے۔
میرے دوستو!
تیر، کمان اور نیزے ایک انتہائی قدیم، خالصتاً زمینی اور انسانی ہتھیار ہیں۔ اگر وہ یاجوج ماجوج اتنے ہی ایڈوانسڈ (Advanced)، ٹیکنالوجیکلی سپیریئر، اور خلائی ایلینز ہوتے کہ وہ زمان و مکان پار کر سکیں، تو وہ آسمان کی طرف پرانے زمانے کے لکڑی کے تیروں کے بجائے، اپنے خلائی جہازوں سے لیزر گنز (Laser Guns)، پلازما ہتھیاروں (Plasma Weapons) یا کم از کم بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کرتے۔ ایلینز کا تیر کمان لے کر لڑنا، یہ کون سی سائنس فکشن ہے؟
چوتھا فریب: الہیاتی بائیولوجی اور یاجوج ماجوج کی موت کا زمینی طریقہ:
اس ایلین تھیوری کے تابوت میں آخری کیل ان یاجوج ماجوج کی موت کا وہ طریقہ ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔
احادیث بتاتی ہیں کہ جب وہ زمین پر ظلم کی انتہا کر دیں گے، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اللہ سے رو رو کر دعا کریں گے۔ اس دعا کے نتیجے میں، اللہ تعالیٰ آسمان سے کوئی ایٹم بم نہیں گرائے گا، بلکہ ان یاجوج ماجوج کی گردنوں میں “نَغَف” نامی ایک بیماری پیدا کرے گا۔
یہ نغف کیا ہے؟
یہ ایک قسم کا زمینی کیڑا، بائیولوجیکل وائرس یا بیکٹیریا ہے جو اونٹوں اور بکریوں کی ناک میں پیدا ہوتا ہے۔ اس ایک کیڑے کی وبا سے وہ سب کے سب اربوں یاجوج ماجوج ایک ہی رات میں، ایک ہی وقت میں مر جائیں گے۔ اور صبح جب مسلمان پہاڑ سے نیچے اتریں گے، تو پوری زمین ان کی سڑتی ہوئی لاشوں کی ہولناک بدبو اور غلاظت سے بھر چکی ہوگی، یہاں تک کہ زمین پر قدم رکھنے کی جگہ نہیں ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں جیسی گردنوں والے پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر لے جائیں گے، اور پھر ایک تیز بارش اس زمین کو دھو کر شیشے کی طرح صاف کر دے گی۔
میرے قارئین، ذرا اس بائیولوجیکل فزکس اور اس ایکو سسٹم (Ecosystem) پر غور کریں!
موت، لاشوں کا زمین پر سڑنا، ان میں سے خون کا رسنا، بدبو کا پھیلنا، گوشت کو پرندوں کا کھانا، اور ایک زمینی کیڑے (نغف) کا ان پر حملہ آور ہونا، یہ سب کچھ اس زمین کے کاربن بیسڈ (Carbon-based) ایکو سسٹم اور طبعی حیاتیات کی واضح ترین خصوصیات ہیں۔ اگر وہ کسی دوسری ڈائمینشن، کسی دوسرے سیارے کے ایلینز ہوتے، تو ان کی بائیولوجی، ان کا ڈی این اے، اور ان کا مدافعتی نظام (Immune System) زمین کے انسانوں اور جانوروں سے یکسر مختلف ہوتا۔
کسی دوسری ڈائمینشن کی مخلوق پر زمین کے کیڑے یا وائرس کیسے حملہ آور ہو سکتے ہیں؟
زمین پر ان کی لاشوں کا اسی طرح سڑنا اور گند پھیلانا، اور زمینی پرندوں کا ان کا گوشت کھانا، اس بات کا حتمی، سائنسی اور ناگزیر ثبوت ہے کہ وہ اسی زمین کی، اسی مٹی کی ایک وحشی، خونخوار اور گوشت پوست پر مبنی انسانی نسل ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص جغرافیائی مقام تک محدود کر رکھا ہے۔
پانچواں فریب: لوہے اور تانبے کی دیوار کی زمینی فزکس:
اگر ہم ایک لمحے کے لیے، بحث کی خاطر، ان ڈیجیٹل سکالرز کی یہ فضول بات مان بھی لیں کہ یاجوج ماجوج خلائی یا ملٹی ورس کی مخلوق ہیں، تو پھر حضرت ذوالقرنین نے انہیں روکنے کے لیے جو عظیم الشان دیوار بنائی، اس کی مادی فزکس ان کی پوری ایلین تھیوری کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتی ہے۔
قرآن صراحت سے کہتا ہے کہ ذوالقرنین نے دو پہاڑوں کے درمیان اس خلا کو بھرنے کے لیے “آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ” (مجھے لوہے کے تختے لا کر دو) اور “أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا” (تاکہ میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیل دوں) کا حکم دیا۔
میرے دوستو، ذرا اپنی عقل کو جھنجھوڑیے!
لوہا اور تانبا اس زمین کی دھاتیں (Earthly Metals) ہیں۔ یہ زمین کی کانوں سے نکلتی ہیں۔ اگر وہ یاجوج ماجوج مخلوق ورم ہولز بنانے، ڈائمینشنز کو پار کرنے، اور خلا کے سینے کو چیر کر زمین پر آنے کی مافوق الفطرت صلاحیت رکھتی تھی، تو انہیں روکنے کے لیے لوہے اور تانبے کی ایک فزیکل، طبعی اور زمینی دیوار کی کیا ضرورت تھی؟
کیا ایک ایڈوانسڈ خلائی مخلوق جو کہکشاؤں کو پار کر سکتی ہے، جس کے پاس کائنات کو سکیڑنے کی ٹیکنالوجی ہو، وہ زمین کے لوہے اور تانبے کی ایک دیوار سے رک جائے گی؟
کیا وہ اپنے اسپیس شپس کو لوہے کی دیوار کے اوپر سے اڑا کر نہیں لا سکتے تھے؟
یہ بات منطق، سائنس اور عقل کے بنیادی اصولوں کی توہین ہے۔ لوہے اور تانبے کی ایک فزیکل دیوار صرف اور صرف ان انسانوں یا اس زمینی مخلوق کو روک سکتی ہے جو اسی طبعی دنیا (Physical World) کا حصہ ہوں، جن پر کششِ ثقل کا قانون لاگو ہوتا ہو، اور جو پیدل، گھوڑوں یا زمینی سواریوں پر سفر کرتے ہوں۔
نتیجہ: دین کو ہالی وڈ بننے سے بچائیں!
میرے باشعور، پڑھے لکھے اور دردِ دل رکھنے والے قارئین!
آج کے اس ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں ہے کہ ہم دین سے دور ہو گئے ہیں، بلکہ سب سے ہولناک اور بھیانک المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو، قرآن کی الہامی آیات کو اور احادیثِ مبارکہ کو محض یوٹیوب کے ویوز، فیس بک کے لائیکس، اور سستی ڈیجیٹل شہرت کے لیے ایک ہالی وڈ کا سائنس فکشن سکرپٹ بنا دیا ہے۔
ہم نے قرآن کی ان عظیم، ٹھوس اور عمرانی آیات کو جن کا واحد مقصد اس زمین پر ریاست کا قیام، ظالم کا احتساب، عدل کی فراہمی، تاریخ کا سبق، جغرافیہ کی سمجھ اور انسانیت کی اصلاح تھا، انہیں اٹھا کر ایک خیالی خلا میں پھینک دیا ہے۔
جب آپ حضرت ذوالقرنین کے عظیم الشان سفر کو زمینی سیاست، معیشت اور جغرافیے سے کاٹ کر، اسے بلیک ہولز اور ورم ہولز کا سفر بنا دیتے ہیں، تو دراصل آپ اس زمین کے انسانوں سے ان کا وہ پرفیکٹ رول ماڈل چھین لیتے ہیں جس نے اسی زمین کے وسائل کو استعمال کر کے ظلم کے خلاف ایک دیوار کھڑی کی تھی۔
اگر ذوالقرنین خلا میں گئے تھے اور انہوں نے ایلینز سے جنگ کی تھی، تو پھر آج کے زمین کے ظالم حکمران یہ عذر پیش کریں گے کہ ہم ان جیسا عدل، ان جیسی فلاحی ریاست اور ان جیسا انفراسٹرکچر کیسے قائم کریں، وہ تو کسی اور ہی دنیا کے، کسی اور ہی ٹیکنالوجی کے بادشاہ تھے۔ ہم تو مجبور انسان ہیں۔
کائنات کا خالق، احکم الحاکمین، ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اس زمین کے پیچیدہ مسائل، اس زمین کے بلکتے ہوئے مظلوموں، اور اس زمین پر پھیلنے والے دجالی، استحصالی اور سرمایہ دارانہ نظام پر غور کریں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن کی تفسیر کو ان سوٹ بوٹ والے، کیمروں کے سامنے ایکٹنگ کرنے والے، سائنس فکشن کے اسیر موٹیویشنل اسپیکرز کی تخیلاتی اور گمراہ کن عینک سے دیکھنے کے بجائے، اسے اس کے اصل الہیاتی، منطقی، احادیث سے ثابت شدہ اور زمینی تناظر میں سمجھیں۔
یاجوج ماجوج خلا کی مخلوق نہیں ہیں، وہ اسی زمین کا، اسی مٹی کا ایک ہولناک اور خونخوار فتنہ ہیں جو اپنے مقررہ وقت پر اس منجمد دیوار کو توڑ کر باہر آئیں گے۔ اور یاد رکھیے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ گرامی اس کائنات کی وہ واحد اور لاثانی ہستی ہے جنہوں نے اپنے جسمِ اطہر کے ساتھ خلاؤں کی آخری حدوں کو چھوا۔
اپنے عقیدے کو خالص رکھیں، اپنی عقل اور شعور کی کھڑکیوں کو بیدار رکھیں، اور لفظوں کی اس ڈیجیٹل درندگی اور فکری سراب سے خود کو، اپنے عقیدے کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ رکھیں۔ کیونکہ یاد رکھیں، کائناتی اور الہامی سچائی، اپنے اظہار اور اپنے رعب کے لیے کبھی بھی کسی سستی سنسنی یا سائنس فکشن فلموں کی محتاج نہیں ہوتی!
#سنجیدہ_بات
#آزادیات
#بلال #شوکت #آزاد
![]()

