Daily Roshni News

قرآن سب کے لیے مگر سب قرآن کے لیے نہیں

قرآن سب کے لیے مگر سب قرآن کے لیے نہیں

 ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دنیا میں بے شمار کالجز اور یونیورسٹیز ہیں۔ ہر ادارہ اپنے معیار، قواعد اور شرائط مقرر کرتا ہے۔ وہاں داخلہ سب کے لیے ہوتا ہے، مگر ملتا صرف اسی کو ہے جو ان شرائط پر پورا اترتا ہو۔ جو شخص ان اصولوں کو مان کر اس نظام میں داخل ہوتا ہے، اسی پر اس ادارے کے قوانین لاگو ہوتے ہیں اور وہی اس نظام سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ جو ان اصولوں کو نظرانداز کرے، وہ نہ صرف خود نقصان اٹھاتا ہے بلکہ پورے نظام کے بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔ یہ اصول صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں۔ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں یہی قاعدہ چل رہا ہے۔ ڈرائیونگ کے لیے لائسنس شرط ہے، عدالت میں انصاف کے لیے قانون کی پابندی لازم ہے، کاروبار میں اعتماد اصولوں سے پیدا ہوتا ہے، اور جسمانی صحت فطری قوانین ماننے سے قائم رہتی ہے۔ جب بھی کسی نظام کے اصول ٹوٹتے ہیں، نقصان لازمی ہوتا ہے۔ دراصل ہر نظام کی اپنی ایک “شرع” ہوتی ہے جس کے تحت وہ خود کو متوازن رکھتا ہے۔ اب قرآن کی طرف دیکھیں۔ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ قرآن ایک آسمانی کتاب ہے۔ اب اس کو سمجھنے کے لیے آپ کے شعور کا بلند ہونا، آسمانی ہونا لازم ہے۔ آسمانی کتاب ہونے کا مطلبب  وہ بلند شعور اور روشن قلب والوں کے لیے ہے۔ ایسے دل جو نفرت، تعصب اور انا کی آگ سے خالی ہوں، کیونکہ ہدایت شور میں نہیں، سکون میں اترتی ہے۔ قرآن شروع میں ہی خود اپنے بارے میں اصول واضح کر دیتا ہے: ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ “یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے متقی لوگوں کے لیے۔” (البقرہ: 2) یہاں قرآن یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ ہر حال میں ہر شخص کو ہدایت دے گا۔ شرط واضح ہے: جب تک انسان متقی نہیں بنتا، قرآن اس کے لیے ہدایت نہیں بنتا—خواہ وہ اسے کتنا ہی پڑھ لے، یاد کر لے یا دلیل کے طور پر استعمال کرے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے: متقی کون ہے؟ متقی وہ ہوتا ہے جو خدا کا پتا یا اس کا حقیقی ایڈریس جانتا ہو۔ بت پرستی دو طرح کی ہوتی ہے: ظاہری — پتھر، مورت یا علامت کی عبادت باطنی یا خیالی — خدا کے بارے میں محدود تصور بنا لینا اور اسی تصور کو خدا سمجھ لینا اکثر انسان ظاہری بت پرستی سے نکل آتا ہے، مگر ذہنی بتوں کا قیدی رہتا ہے۔ اور آج کے دور میں ہم دونوں طرح کی بت پرستی کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، اپنے اردگرد دیکھ سکتے ہیں۔ متقی وہ ہے جو ہر طرح کی بت پرستی سے انکار کر دے—چاہے وہ باہر کی ہو یا اندر کی۔ متقی وہ انسان ہے جس کا قبلہ درست ہوتا ہے، جو خدا کا حقیقی ایڈریس جانتا ہے اور دینِ حقیقی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی دائرۂ اسلام میں داخل ہوتا ہے یا اسلام قبول کرتا ہے۔ اس سے پہلے وہ اپنے ابا و اجداد کے طریقے فالو کرتا ہے، معاشرے میں رائج نظام کا حصہ ہوتا ہے، متقی دینِ حقیقی میں داخل ہوتا ہے۔ متقی کی عمومی تشریح یہ ہے: پرہیزگار، خدا ترس، گناہوں سے بچنے والا اور ڈر رکھنے والا انسان۔ یہ وہ شخص ہے جو اللہ کے خوف سے گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے، فرائض کا پابند ہوتا ہے اور ہر برائی سے خود کو محفوظ رکھتا ہے۔ متقی، تقویٰ اختیار کرنے والا، یعنی اللہ کی نافرمانی سے بچ کر زندگی گزارنے والا شخص ہے۔ یہ سب ٹھیک ہے مگر یہ تبھی ممکن ہو پاتا ہے جب وہ اس خدا کو جان لیتا ہے جس کی عبادت کرنی ہے۔ یہ سب باتیں کتابی نہیں ہوتیں، بلکہ حقیقی اور عملی ہوتی ہیں۔ متقی ہونا کوئی دعویٰ نہیں، بلکہ ایک حالت ہے۔ ایک ایسی کیفیت جس میں انسان قرآن کے سامنے طالب بن کر کھڑا ہوتا ہے، صارف یا وکیل بن کر نہیں۔ اسی مقام پر آ کر انسان قرآن سے سیکھنے کا اہل بنتا ہے۔ اس سے پہلے قرآن اس کے ہاتھ میں تو ہوتا ہے، مگر اس پر لاگو نہیں ہوتا۔ آیات موجود ہوتی ہیں، مگر زندگی میں نہیں اترتیں۔ جب انسان متقی ہو جاتا ہے تو تب قرآن کے مضامین اس پر لاگو ہوتے ہیں۔ تب وہ قرآن کے کرداروں کو صرف پڑھتا نہیں، بلکہ انہیں سمجھتا، دیکھتا اور جیتا ہے۔ وہ ان واقعات کو تاریخ نہیں، بلکہ اپنے اندر جاری ایک عمل کے طور پر پہچانتا ہے۔ اسی لیے قرآن کے تمام کردار انسان پر اسی وقت لاگو ہوتے ہیں جب وہ یہ طے کر لیتا ہے کہ میں نے خدا کو پانے کا سفر طے کرنا ہے، کیونکہ یہی میری نجات کا راستہ ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے وہ محض قاری ہوتا ہے، اب وہ مخاطب بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے کردار، مضامین اور الفاظ ہر کسی پر لاگو نہیں ہوتے۔ ابلیس بھی اسی نظام میں ہے، تو وہ اس نظام سے باہر والوں کو نہیں بھٹکاتا۔ وہ ہر کسی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ ابلیس صرف انہی کا سامنا کرتا ہے جو حقیقی دین کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ متقی علامت ہوتی ہے کہ انسان حقیقی دین کے راستے پر چل پڑا ہے۔ تب قرآن کے کردار کہانیاں نہیں رہتے، ابلیس ایک تصور نہیں رہتا، اور ہدایت ایک نظریہ نہیں رہتی—وہ سب کچھ انسان کی اپنی زندگی میں ظہور کرنے لگتا ہے۔ قرآن کا مخاطب بلاشبہ ہر انسان ہے، مگر اپنی شرائط کے ساتھ—بالکل اسی طرح جیسے کوئی یونیورسٹی سب کے لیے ہے، مگر اصول کے مطابق۔ قرآن کی ہدایت کے اہل بننا ضروری ہے، ورنہ نقصان یقینی ہے۔ کیونکہ جب تک متقی ہونا صرف لفظ رہے گا، قرآن بھی صرف الفاظ رہے گا۔ اور جب متقی ہونا ایک حقیقی، عملی اور وجودی مقام بن جائے—تب ہی قرآن علم نہیں، ہدایت بنے گا۔ آخر میں یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ کہنا کہ: “شیطان ہی انسان کو اللہ کی طرف آنے نہیں دیتا” ایک حد تک سطحی اور غلط فہمی پر مبنی بات ہے۔ کیونکہ وہ تو چاہتا ہے کہ کوئی مرد آئے جس کا وہ سامنا کرے، اس کا یہی تو کام ہے۔ مگر دنیا پر نظر دوڑائیں، کتنے ہیں جو خدا کی طرف سفر کرتے ہیں؟ سب اپنی اپنی آگ میں جل رہے ہیں۔ انسان کا کام نہیں کہ وہ شیطان کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرے۔ اس کو ہر حال میں سامنے آنا ہے۔ قرآن کے مطابق شیطان کا کام صرف وسوسہ ڈالنا ہے، جبر کرنا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر انسان اس مقام تک پہنچتے ہی نہیں جہاں شیطان کو خاص محنت کرنا پڑے۔ انسان اپنی ہی خواہشات، انا، تعصبات اور باطنی آگ میں اس طرح الجھا رہتا ہے کہ وہ خود ہی اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ: “ابلیس شیطان ہے، ذلیل ہے، ملعون ہے، کیونکہ اللہ نے اس پر لعنت کی ہے” عقیدے کے طور پر درست مانا جاتا ہے، مگر غور طلب نکتہ یہ ہے: اللہ نے لعنت کی—کیونکہ وہ اللہ ہے، حاکمِ مطلق ہے، اسے یہ اختیار حاصل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ کیا آپ خدا ہیں؟ کیا آپ اللہ کے شریک ہیں کہ جس اختیار کا استعمال اللہ نے کیا، آپ بھی وہی کریں؟ ایک بےشعور بدذوق جو خود میں پھنسا ہو اپنے نفس کا مارا جس نے کبھی اپنے اندر جھانک کر اپنی خودی کو بیدار کرنے کی کوشش نہیں کی، جو اس اصول میں ہی نہیں آیا، جو مقام خدا و رسول سے ہی واقف نہیں، وہ یہ کیسے کر سکتا ہے کہ  خدا کے مقابل کو گالی دے

۔ میں یہ نہیں کر سکتا، کیونکہ میں بندہ ہوں اور رسول ﷺ کو ماننے والا ہوں۔ اور رسول نے کہا: میرا ابلیس میرے قابو میں آگیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔ اور رسول ﷺ شعور کی بلندی پر ہوتے ہیں، وہ جانتے ہیں، پہچانتے ہیں کہ حملہ آور کون ہے، کہاں لعنت کرنی ہے، کہاں اصلاح کرنی ہے۔ انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ متقی بنے، باشعور اور خود آشنا بنے

Loading