Daily Roshni News

قرآن سے دوری اور خاندانی زوال۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر اسلم علیگ

قرآن سے دوری اور خاندانی زوال

ازقلم: ڈاکٹر اسلم علیگ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ قرآن سے دوری اور خاندانی زوال۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر اسلم علیگ)خاندان انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ اگر خاندان مضبوط ہو تو قوم مضبوط ہوتی ہے، اور اگر خاندان کمزور ہو جائے تو معاشرہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ آج ہم جس خاندانی انتشار، بے سکونی اور اخلاقی زوال کا مشاہدہ کر رہے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ قرآن سے دوری ہے۔

قرآن: ہدایت کا سرچشمہ

قرآن محض ایک مقدس کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ شوہر اور بیوی کا تعلق کیسا ہو، والدین کا مقام کیا ہے، اولاد کی تربیت کیسے کی جائے، اور رشتہ داروں کے حقوق کیا ہیں۔ جب تک گھروں میں قرآن کی تلاوت، فہم اور عمل موجود تھا، گھروں میں سکون، برکت اور محبت تھی۔

لیکن جیسے ہی قرآن ہماری زندگیوں سے محض رسم تک محدود ہو گیا، اس کے عملی تقاضے پس منظر میں چلے گئے، ویسے ہی رشتوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں۔

قرآن سے دوری کی علامات

  1. گھروں میں تلاوت کا فقدان – قرآن الماریوں کی زینت بن گیا ہے۔

  2. اخلاقی کمزوری – غصہ، بدگمانی، حسد اور انا نے محبت کی جگہ لے لی ہے۔

  3. والدین کی نافرمانی – قرآن والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے، مگر آج اولاد بے صبری اور بدتمیزی کی طرف مائل ہے۔

  4. میاں بیوی کے جھگڑے – قرآن صبر، درگزر اور مشاورت کی تعلیم دیتا ہے، مگر ہم انا اور ضد کو ترجیح دیتے ہیں۔

خاندانی زوال کی وجوہات

جب قرآن کی تعلیمات کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو گھر میں:

  • صبر کی جگہ جلد بازی

  • شکر کی جگہ شکایت

  • محبت کی جگہ مفاد

  • مشورے کی جگہ خود رائی

جنم لینے لگتے ہیں۔ نتیجتاً طلاق کی شرح میں اضافہ، رشتوں کی کمزوری اور نسلوں کی اخلاقی تباہی سامنے آتی ہے۔

قرآن کی طرف واپسی: واحد حل

اگر ہم اپنے گھروں کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن کی طرف حقیقی معنوں میں رجوع کرنا ہوگا۔ اس کے لیے:

  • روزانہ گھروں میں باجماعت تلاوت کا اہتمام ہو۔

  • بچوں کو صرف ناظرہ نہیں بلکہ قرآن کا ترجمہ اور مفہوم سکھایا جائے۔

  • میاں بیوی اختلاف کی صورت میں قرآن کی تعلیمات کو معیار بنائیں۔

  • گھر کے فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں کیے جائیں۔

جب قرآن گھر میں داخل ہوتا ہے تو شیطان کے وسوسے خود بخود کمزور ہو جاتے ہیں، دل نرم ہو جاتے ہیں اور رشتے مضبوط ہونے لگتے ہیں۔

قرآن سے دوری دراصل اللہ کی ہدایت سے دوری ہے، اور ہدایت سے دوری لازماً زوال کا سبب بنتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر محبت، سکون اور برکت کا گہوارہ بنیں تو ہمیں قرآن کو صرف پڑھنا نہیں بلکہ جینا ہوگا۔

آج ہر فرد کو اپنے دل سے یہ سوال پوچھنا چاہیے:

کیا میرے گھر میں قرآن صرف رکھا ہوا ہے، یا واقعی بس رہا ہے؟

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنے گھروں کو اس کی روشنی سے منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Loading