قرآن کا میزان اور کائنات کا حیرت انگیز توازن
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)جب سائنس نے زمین کے نظام کو ناپا تو کائنات کے نظم کی حیرت انگیز حقیقتیں سامنے آئیں۔رات کے وقت جب انسان آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو اسے بظاہر صرف چمکتے ہوئے ستارے نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان ستاروں، سیاروں اور پوری کائنات کے پسِ پردہ ایک ایسا منظم اور محکم نظام کام کر رہا ہے جس میں معمولی سی تبدیلی بھی زندگی کے وجود کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ قرآن مجید نے انسان کی توجہ اسی عظیم نظم اور توازن کی طرف دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا:
﴿وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ﴾
“اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور میزان (ترازو/توازن) قائم کی، تاکہ تم میزان میں سرکشی نہ کرو۔” (سورۃ الرحمن: 7-8)
یہاں قرآن نے لفظ ‘میزان’ استعمال فرمایا ہے۔ میزان کا مطلب محض وزن کرنے والا ترازو نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا آفاقی اصول ہے جس کے تحت کائنات کی ہر چیز ایک مقررہ مقدار، تناسب اور ترتیب کے ساتھ اپنے وجود پر قائم ہے۔
آج جدید سائنس جب زمین اور کائنات کے نظام کا گہرائی سے مطالعہ کرتی ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی واقعی ایک انتہائی نازک توازن پر کھڑی ہے۔ مثال کے طور پر، زمین سورج سے تقریباً 14 کروڑ 96 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر گردش کر رہی ہے۔ یہ فاصلہ اتنا اہم اور نپا تلا ہے کہ اگر زمین سورج کے ذرا سا بھی زیادہ قریب ہوتی تو درجہ حرارت میں شدید اضافہ ہو جاتا اور پانی کا بڑا حصہ مائع حالت میں برقرار نہ رہ پاتا۔ اس کے برعکس، اگر زمین سورج سے بہت زیادہ دور ہوتی تو سارا پانی منجمد ہو جاتا اور زندگی کے لیے حالات انتہائی کٹھن ہو جاتے۔ سائنس کی زبان میں زمین کے اس انتہائی مناسب اور متوازن مقام کو ‘قابلِ رہائش خطہ’ (Habitable Zone) کہا جاتا ہے، کیونکہ صرف یہیں وہ درجہ حرارت، پانی اور ماحول موجود ہے جس میں زندگی ممکن ہو سکی۔
اس کائناتی میزان کا ظہور صرف سورج سے فاصلے تک محدود نہیں، بلکہ زمین کا اپنے محور (Axis) پر جھکاؤ بھی اسی توازن کی ایک شاندار مثال ہے۔ زمین اپنے محور پر تقریباً 23.5 درجے جھکی ہوئی ہے، اور یہی جھکاؤ زمین پر موسموں کی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اگر یہ مخصوص جھکاؤ نہ ہوتا تو زمین پر موسموں کا یہ خوبصورت اور زندگی بخش نظام قائم نہ رہتا، جس کا براہِ راست اور تباہ کن اثر زراعت، پانی کے چکر اور زندگی کے دیگر تمام نظاموں پر پڑتا۔ اسی طرح اگر ہم زمین کے کرۂ ہوائی (Atmosphere) پر غور کریں تو ہم جس ہوا میں سانس لیتے ہیں وہ مختلف گیسوں کا ایک انتہائی متوازن مجموعہ ہے۔ ہماری فضا میں تقریباً 78 فیصد نائٹروجن، 21 فیصد آکسیجن اور تقریباً 1 فیصد دوسری گیسیں موجود ہیں۔ یہ تناسب زندگی کے لیے اتنی بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر آکسیجن کی مقدار اس موجودہ تناسب سے ذرا بھی بڑھ جائے تو دنیا بھر میں آگ کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اور اگر بہت کم ہو جائے تو پیچیدہ جانداروں کے لیے سانس لینا اور زندہ رہنا محال ہو جائے۔ اسی طرح فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بھی ایک خاص توازن رکھتی ہے۔ یہ گیس اگرچہ بہت کم مقدار میں ہے، لیکن زمین کے درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ یہ حرارت کو روکنے والی (Greenhouse) گیسوں میں شامل ہے۔ تاہم، جب انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے اس کا تناسب بڑھتا ہے تو زمین کا درجہ حرارت خطرناک حد تک متاثر ہونے لگتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں قرآن کے اس اصول کو دل سے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ کائنات ایک میزان کے ساتھ قائم ہے۔ زمین کے اس حیرت انگیز نظام میں فضا کے ساتھ ساتھ پانی کا نظام بھی توازن کی ایک بے مثال نشانی ہے۔ زمین کی سطح کا تقریباً 71 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، لیکن اس کا تقریباً 97 فیصد سمندروں کا نمکین پانی ہے، جبکہ زندگی کو سیراب کرنے والا میٹھا پانی بہت محدود مقدار میں موجود ہے۔ یہی محدود میٹھا پانی برفانی ذخائر، زیرِ زمین چشموں، جھیلوں اور دریاؤں کے ذریعے پوری زمینی زندگی کو سہارا دیتا ہے۔ پانی کا یہ مسلسل چکر—جس میں سمندر سے بخارات اٹھتے ہیں، بادل بنتے ہیں، بارش ہوتی ہے اور پانی دوبارہ زمین تک پہنچتا ہے—زمین کے نظام کو قائم رکھنے والے بنیادی عوامل میں سے ایک ہے۔ اگر قدرت کا یہ نظام کسی بڑے پیمانے پر متاثر ہو جائے تو انسانی زراعت، خوراک اور بقا براہِ راست خطرے میں پڑ جائیں۔ اس کائناتی توازن میں ایک اور انمول عنصر ‘کششِ ثقل’ (Gravity) ہے۔ زمین کی کمیت اور حجم اس شاندار انداز سے ترتیب دیے گئے ہیں کہ یہاں کششِ ثقل تقریباً 9.8 میٹر فی سیکنڈ مربع ہے۔ یہی وہ غیر مرئی قوت ہے جو ہمیں زمین پر ٹکائے رکھتی ہے، سمندروں کو ان کے مقام پر باندھے رکھتی ہے اور فضا کی گیسوں کو خلا میں اڑنے سے روکتی ہے۔ اگر یہ کشش بہت کم ہوتی تو زمین اپنا کرۂ ہوائی کھو دیتی، اور اگر بہت زیادہ ہوتی تو زندگی کی موجودہ شکل ممکن نہ رہتی۔ ان طبعی قوانین کے ساتھ زمین کا مقناطیسی میدان (Magnetic Field) بھی ایک عظیم قدرتی حفاظتی ڈھال ہے۔ سورج مسلسل ایسے مہلک ذرات اور شعاعیں خارج کرتا ہے جو اگر براہِ راست زمین تک پہنچ جائیں تو زندگی کے لیے تباہ کن ثابت ہوں۔ مگر زمین کا مقناطیسی میدان ان میں سے بیشتر ذرات کو خلا ہی میں موڑ دیتا ہے اور زندگی کی حفاظت کرتا ہے۔
یہ تمام سائنسی حقائق ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ زمین محض کوئی چٹان نہیں جو اندھے اتفاق سے خلا میں تیر رہی ہے، بلکہ یہ کئی باہم مربوط اور پیچیدہ نظاموں کا ایک ایسا شاہکار مجموعہ ہے جس میں ہر چیز ایک مخصوص اور نپے تلے انداز کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ جدید سائنس نے زمین کے اسی نظام کو سمجھنے کے لیے جو تحقیق کی ہے، اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ قدرتی نظاموں میں توازن قائم رکھنا انسانی بقا کے لیے کتنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ایک درخت کو محض لکڑی کا ٹکڑا سمجھنا بہت بڑی بھول ہے۔ ایک بڑا درخت اپنے اندر ایک مکمل حیاتاتی نظام رکھتا ہے؛ وہ کاربن کے چکر میں حصہ لیتا ہے، مٹی کو کٹاؤ سے بچاتا ہے، بارشوں کے نظام پر اثر ڈالتا ہے اور بے شمار جانداروں کا مسکن ہوتا ہے۔ اسی طرح سمندر محض پانی کے جوہڑ نہیں بلکہ زمین کے درجہ حرارت، موسموں اور زندگی کے سب سے بڑے کنٹرولر ہیں۔ قرآن مجید نے انسان کو اس عظیم ماحولیاتی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتے ہوئے سختی سے فرمایا:
﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا﴾
“اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔” (سورۃ الاعراف: 56)
یہ آیت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ یہ زمین کوئی بے مقصد اور لاوارث چیز نہیں، بلکہ ایک انتہائی منظم نظام کے ساتھ سنواری گئی ہے۔ جب انسان حد سے تجاوز کرتا ہے، لالچ میں آ کر قدرتی وسائل کو بے دردی سے استعمال کرتا ہے یا ماحول کے بنیادی نظاموں کو برباد کرتا ہے تو اس کے تباہ کن اثرات بالاخر خود انسان ہی کو بھگتنے پڑتے ہیں۔
یہاں قرآن اور جدید سائنس کے درمیان ایک نہایت خوبصورت فکری ہم آہنگی سامنے آتی ہے۔ قرآن انسان کو کائنات کے نظم پر غور کرنے، اعتدال اختیار کرنے اور ذمہ داری سے جینے کی دعوت دیتا ہے، جبکہ جدید سائنس مشاہدے اور تجربے کے ذریعے یہ تصدیق کرتی ہے کہ یہ قدرتی نظام کس قدر آپس میں جڑے ہوئے اور حساس ہیں۔ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم قرآن کو فزکس یا کیمسٹری کی کوئی درسی کتاب بنا کر پیش نہ کریں، بلکہ یہ سمجھیں کہ قرآن ہمیں وہ بنیادی آفاقی اصول دیتا ہے جن کی روشنی میں انسان کائنات پر غور و فکر کرتا ہے اور اپنے رب کی عظمت کو پہچانتا ہے۔ کائنات کے اس عظیم نظام پر غور کرنے والا انسان آخرکار اسی نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ توازن صرف زمین تک محدود نہیں، بلکہ پوری کائنات کا بنیادی اصول ہے۔ ستارے، سیارے اور کہکشائیں اپنے مقررہ راستوں پر انتہائی کمال کے ساتھ گردش کر رہے ہیں۔ سائنس جتنا زیادہ کائنات کا مطالعہ کرتی ہے، یہ حقیقت اتنی ہی واضح ہوتی جاتی ہے کہ ہر شے ایک دقیق قانون کے تابع ہے۔ قرآن اسی کھلے مشاہدے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ﴾
“جس نے سات آسمان تہ بہ تہ بنائے، تم رحمن کی تخلیق میں کوئی بے اعتدالی (یا خلل) نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ دوڑاؤ، کیا تمہیں کوئی شگاف نظر آتا ہے؟” (سورۃ الملک: 3)
یہ قرآنی میزان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر چیز میں اعتدال اور توازن ناگزیر ہے۔ جس طرح یہ بے کراں کائنات ایک مقررہ توازن پر کھڑی ہے، بالکل اسی طرح انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی بھی عدل، اعتدال اور ذمہ داری کے اصولوں پر استوار ہونی چاہیے۔ کائنات کا یہ حیرت انگیز میزان انسان کو پکار پکار کر دعوت دیتا ہے کہ وہ اس دنیا کو محض بے دردی سے استعمال کرنے والا نہ بنے، بلکہ اسے سمجھنے والا، اس کی حفاظت کرنے والا اور اپنے رب کی حکمت پر سرِ تسلیم خم کرنے والا بنے۔ کیونکہ انسان جتنا اس کائنات کی گہرائیوں میں اترتا ہے، اتنا ہی اسے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ کائنات نہ تو بے مقصد ہے اور نہ ہی اتفاقیہ، بلکہ ایک عظیم، علیم اور حکیم ہستی کی شاندار تخلیق ہے۔
#قرآن_اور_سائنس #کائنات_کا_نظم #میزان #زمین_کا_توازن #قرآن_اور_حدیث #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں
![]()

