Daily Roshni News

قرآن کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ

قرآن کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قرآن میں عدل — طاقتور کے ہاتھ میں انصاف کیسے آتا ہے؟

اگر اختیار آپ کے ہاتھ میں ہو تو کیا آپ پھر بھی انصاف کریں گے؟

سوچیے…آپ کے پاس طاقت ہے۔

آپ کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔

آپ کے سامنے دو لوگ کھڑے ہیں۔

ایک آپ کا دوست ہے۔

دوسرا آپ کا مخالف۔

ایک امیر ہے۔

دوسرا غریب۔

ایک بااثر ہے۔

دوسرا کمزور۔

اب سوال یہ نہیں کہ آپ کو انصاف کا مطلب معلوم ہے یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے:

کیا آپ انصاف کر سکیں گے؟

یہیں انسان کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔

کمزور ہو کر انصاف کرنا نسبتاً آسان ہے، لیکن جب اپنے ہاتھ میں اختیار ہو، جب آپ کسی کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہوں، جب آپ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہوں، تب انسان کے اندر چھپی ہوئی ترجیحات سامنے آتی ہیں۔

پچھلے حصے میں ہم نے دیکھا تھا کہ قرآن انسان سے گھر تک اور گھر سے معاشرے تک پہنچتا ہے۔

اب معاشرہ ایک ایسے اصول کا محتاج ہے جس کے بغیر کوئی اجتماعی نظام دیر تک قائم نہیں رہ سکتا:

عدل۔

اور قرآن میں عدل صرف عدالت کا موضوع نہیں۔

یہ گھر کا بھی موضوع ہے۔

کاروبار کا بھی۔

رشتوں کا بھی۔

حکومت کا بھی۔

تعلیم کا بھی۔

اور انسان کے اپنے نفس کے ساتھ تعلق کا بھی۔

عدل صرف عدالت میں نہیں ہوتا

ہم عدل کا لفظ سنتے ہی عدالت، جج اور مقدمے کا تصور کرتے ہیں۔

لیکن قرآن کا عدل اس سے کہیں وسیع ہے۔

آپ اپنے دو بچوں کے درمیان انصاف کرتے ہیں یا نہیں؟

دو ملازمین میں فیصلہ کرتے وقت ذاتی پسند ناپسند کو ایک طرف رکھتے ہیں یا نہیں؟

اپنے دوست کی غلطی کو بھی غلط کہتے ہیں یا صرف دشمن کی غلطی تلاش کرتے ہیں؟

اپنے خلاف کوئی بات کہی جائے تو اسے سننے کی ہمت رکھتے ہیں یا نہیں؟

یہ سب عدل ہے۔

قرآن کہتا ہے:

«”اے ایمان والو! اللہ کے لیے مضبوطی سے قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”

(سورۃ المائدہ: 8)»

یہ آیت انسانی نفسیات کے ایک بہت گہرے مسئلے کو پکڑتی ہے۔

دشمنی انسان کی نظر بدل دیتی ہے۔

جس شخص سے ہم محبت کرتے ہیں، اس کی غلطی بھی ہمیں چھوٹی نظر آتی ہے۔

جس سے نفرت کرتے ہیں، اس کی معمولی غلطی بھی ہمیں بہت بڑی دکھائی دیتی ہے۔

قرآن کہتا ہے:

اپنی پسند اور ناپسند کو انصاف کا معیار نہ بناؤ۔

اپنا آدمی اور دوسرا آدمی

ایک خاندان میں دو بھائیوں کا جھگڑا ہے۔

والد کو دونوں میں سے ایک زیادہ پسند ہے۔

دوسرا شکایت کرتا ہے:

“ابو ہمیشہ اسی کی طرف داری کرتے ہیں۔”

اب اگر والد صرف محبت کی بنیاد پر فیصلہ کریں تو شاید انہیں لگے کہ وہ اپنے بیٹے کا حق دے رہے ہیں۔

لیکن کیا یہ عدل ہوگا؟

اسی طرح دفتر میں ایک افسر ہے۔

اس کا قریبی دوست بھی اسی ادارے میں کام کرتا ہے۔

دوسرا ملازم زیادہ محنت کرتا ہے، لیکن ترقی دوست کو مل جاتی ہے۔

ظاہر میں کوئی شور نہیں ہوا۔

لیکن اندر سے ایک شخص کا اعتماد ٹوٹ گیا۔

یہی ناانصافی معاشروں کو اندر سے کمزور کرتی ہے۔

قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ رشتہ حق سے بڑا نہیں۔

عدل اپنے خلاف بھی

عدل کی سب سے مشکل شکل کیا ہے؟

اپنے خلاف انصاف کرنا۔

انسان دوسروں کی غلطی آسانی سے دیکھ لیتا ہے۔

اپنی غلطی ماننا مشکل لگتا ہے۔

اگر دو لوگوں میں جھگڑا ہو تو ہر شخص کے پاس اپنے حق میں ایک پوری کہانی ہوتی ہے۔

وہ بتاتا ہے:

“اس نے پہلے کیا تھا۔”

“میں نے تو صرف جواب دیا تھا۔”

“میری مجبوری تھی۔”

“اس نے مجھے مجبور کیا۔”

لیکن قرآن انسان کو اپنے نفس کی وکالت سے آگے لے جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«”اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف۔”

(سورۃ النساء: 135)»

ذرا تصور کریں۔

اپنے خلاف گواہی دینا!

یہ قرآن کی تربیت کا انتہائی بلند مقام ہے۔

یعنی اگر حقیقت میرے خلاف ہے تو مجھے حقیقت کا ساتھ دینا چاہیے۔

چاہے میری انا کو تکلیف ہو۔

چاہے میرا فائدہ ختم ہو۔

چاہے میرے قریبی شخص کا نقصان ہو۔

حق، تعلق سے بڑا ہے۔

قرآن کا عدل اور انسانی نفسیات

انسان کا دماغ اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ہم اکثر وہی معلومات قبول کرتے ہیں جو ہماری پہلے سے بنی ہوئی رائے کو مضبوط کریں۔

اگر ہمیں کسی شخص سے پہلے ہی شکایت ہے تو اس کی ہر نئی بات ہمیں غلط لگ سکتی ہے۔

اگر ہمیں کسی سے محبت ہے تو ہم اس کی غلطی کے لیے بھی عذر تلاش کر لیتے ہیں۔

یہ انسانی نفسیات کی ایک عام کمزوری ہے۔

قرآن اس کمزوری کو ایک اصول کے ذریعے توڑتا ہے:

انصاف کرو۔

یعنی پہلے یہ نہ دیکھو کہ بات کس نے کہی ہے۔

یہ دیکھو:

بات درست ہے یا نہیں؟

پہلے یہ نہ دیکھو کہ سامنے والا میرا دوست ہے یا دشمن۔

یہ دیکھو:

حق کس طرف ہے؟

یہ تربیت انسان کو جذبات کا غلام بننے سے بچاتی ہے۔

طاقت انسان کو کیوں بدل دیتی ہے؟

جب انسان کمزور ہوتا ہے تو وہ اکثر اخلاق کی بات کرتا ہے۔

لیکن جب اسے اختیار ملتا ہے تو اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔

ایک دکاندار گاہک سے زیادہ قیمت لے سکتا ہے۔

ایک مالک ملازم کا حق روک سکتا ہے۔

ایک استاد کمزور طالب علم کو نظر انداز کر سکتا ہے۔

ایک افسر اپنے اختیار کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔

ایک والد اپنے بچوں پر ناانصافی کر سکتا ہے۔

ایک بڑا بھائی چھوٹے بھائی کا حق دبا سکتا ہے۔

ایک بااثر شخص کسی کمزور کی آواز دبا سکتا ہے۔

یہاں قرآن انسان کو یاد دلاتا ہے:

اختیار تمہاری ملکیت نہیں، امانت ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«”بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں تک پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔”

(سورۃ النساء: 58)»

یہ آیت اختیار کے بارے میں ایک بنیادی تصور دیتی ہے۔

عہدہ امانت ہے۔

مال امانت ہے۔

فیصلہ امانت ہے۔

علم امانت ہے۔

کسی کی ذمہ داری سنبھالنا امانت ہے۔

اور امانت میں خیانت صرف کسی کا مال چرانا نہیں۔

کبھی کسی نااہل شخص کو صرف تعلق کی وجہ سے ذمہ داری دینا بھی خیانت بن سکتی ہے۔

گھر میں عدل

ہم بڑے معاشرتی مسائل کی بات کرتے ہیں، لیکن عدل کا پہلا امتحان گھر میں ہوتا ہے۔

ایک گھر میں تین بچے ہیں۔

ایک پڑھائی میں اچھا ہے۔

دوسرا کمزور ہے۔

تیسرا شرارتی ہے۔

اگر والدین ایک کو ہمیشہ ذہین کہہ کر باقی دونوں کو کمتر سمجھنے لگیں تو کیا ہوگا؟

بچے اپنے بارے میں رائے بنانا شروع کر دیں گے۔

ایک کے اندر تکبر آ سکتا ہے۔

دوسرے کے اندر احساسِ کمتری۔

تیسرے کے اندر بغاوت۔

اس لیے گھر میں بھی عدل صرف چیزیں برابر بانٹنے کا نام نہیں۔

عدل کا مطلب ہے:

ہر انسان کو اس کا مناسب حق، عزت اور توجہ دینا۔

بچوں کے مزاج مختلف ہو سکتے ہیں۔

ان کی ضرورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔

لیکن والدین کی ذمہ داری ہے کہ ناانصافی ان کے دلوں میں مستقل زخم نہ بن جائے۔

شوہر اور بیوی کے درمیان عدل

ازدواجی زندگی میں بھی انسان کو اپنی پسند کے بجائے حق دیکھنا ہوتا ہے۔

غصے میں شوہر کو بیوی کی ہر خوبی بھول جاتی ہے۔

اسی طرح بیوی کو شوہر کی ہر اچھی بات نظر آنا بند ہو سکتی ہے۔

پھر ایک دوسرے کے بارے میں مکمل فیصلے شروع ہو جاتے ہیں:

“تم ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہو۔”

“تم کبھی میری بات نہیں سمجھتے۔”

“تم سے کوئی امید نہیں۔”

یہ جملے صرف الفاظ نہیں ہوتے۔

یہ تعلق کے اندر دیواریں بناتے ہیں۔

قرآن کا اصول یہ ہے کہ نفرت یا ناراضی بھی انسان کو انصاف سے باہر نہ نکالے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن انسانی تعلقات میں جذبات کے ساتھ اصول بھی دیتا ہے۔

کاروبار میں عدل

اب ایک بازار کا منظر دیکھیے۔

ایک دکاندار کے پاس دو گاہک آئے۔

ایک اسے جانتا ہے۔

دوسرا اجنبی ہے۔

کیا اجنبی ہونے کی وجہ سے اسے کم معیار کی چیز زیادہ قیمت پر دی جا سکتی ہے؟

ایک شخص وزن میں معمولی کمی کرتا ہے۔

وہ سوچتا ہے:

“اتنا سا فرق ہے، کون سا بڑا نقصان ہو گیا؟”

لیکن قرآن انسان کو چھوٹی خیانتوں کے ذریعے بڑی خرابی کی طرف بڑھنے سے روکتا ہے۔

سورۃ المطففین کی ابتدائی آیات ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے سخت تنبیہ کرتی ہیں۔

یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ معاشی اخلاق بھی ایمان کا حصہ ہے۔

ایک شخص مسجد میں نیک نظر آئے لیکن بازار میں دھوکا دے تو سوال پیدا ہوتا ہے:

اس کی عبادت نے اس کے معاملات کو کیوں نہیں بدلا؟

یہ سوال دوسروں کے لیے نہیں۔

ہم سب کے لیے ہے۔

کمزور کے ساتھ انصاف

انصاف کی اصل خوبصورتی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب سامنے والا آپ کے برابر طاقت نہیں رکھتا۔

ایک مزدور آپ کے سامنے ہے۔

اس کا حق آپ کے پاس ہے۔

وہ شاید آپ سے بحث نہ کر سکے۔

ایک غریب شخص آپ کے سامنے ہے۔

اس کی آواز شاید طاقتور لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔

ایک یتیم ہے۔

اس کا کوئی مضبوط پشت پناہ نہیں۔

ایک عورت اپنے حق کے لیے کھڑی ہے اور سامنے طاقتور خاندان ہے۔

ایک قرض دار مشکل میں ہے۔

یہاں قرآن انسان کو یاد دلاتا ہے کہ کمزور کی کمزوری تمہیں اس کا حق دبانے کی اجازت نہیں دیتی۔

بلکہ یہی تمہارا امتحان ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«”اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے۔”

(سورۃ الأنعام: 152)»

قرآن بار بار کمزور طبقات کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔

کیونکہ جس معاشرے میں کمزور محفوظ نہیں، وہاں طاقتور بھی حقیقی طور پر محفوظ نہیں رہتا۔

عدل اور رحم ایک دوسرے کے مخالف نہیں

کبھی انسان سمجھتا ہے کہ اگر میں انصاف کروں گا تو سخت ہونا پڑے گا۔

لیکن قرآن کا عدل بے رحم نظام نہیں۔

وہ عدل کے ساتھ احسان بھی سکھاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«”بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے۔”

(سورۃ النحل: 90)»

یہاں تین سطحیں نظر آتی ہیں:

عدل:

جو حق ہے وہ دو۔

احسان:

حق سے آگے بڑھ کر بھلائی کرو۔

صلہ رحمی:

رشتوں کے حقوق ادا کرو۔

یعنی قرآن ایسا معاشرہ نہیں بنانا چاہتا جہاں صرف قانون ہو اور دل نہ ہو۔

وہ ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں عدل کے ساتھ احسان بھی ہو۔

کیا ہر اختلاف میں ایک ہی فریق مکمل غلط ہوتا ہے؟

گھریلو جھگڑوں میں ایک دلچسپ چیز ہوتی ہے۔

دونوں فریق اپنی اپنی کہانی سناتے ہیں۔

اور دونوں خود کو مظلوم سمجھتے ہیں۔

اگر آپ صرف ایک طرف کی بات سنیں تو فیصلہ آسان لگتا ہے۔

لیکن حقیقت شاید زیادہ پیچیدہ ہو۔

قرآن ہمیں جلد بازی سے بچاتا ہے۔

وہ تحقیق، گواہی اور انصاف کی طرف لے جاتا ہے۔

اسی لیے قرآن کے معاشرتی اصولوں میں خبر کی تحقیق بھی ہے، گواہی کی ذمہ داری بھی اور فیصلہ میں عدل بھی۔

یہ ہمیں ایک اہم ذہنی تربیت دیتا ہے:

ہر کہانی کا دوسرا رخ بھی ہو سکتا ہے۔

اس لیے فیصلہ کرنے سے پہلے سنو۔

سمجھو۔

تحقیق کرو۔

پھر فیصلہ کرو۔

اپنی پسندیدہ شخصیت کے خلاف بھی حق

یہ کردار کی بہت بلند منزل ہے۔

اگر میرا پسندیدہ شخص غلطی کرے تو کیا میں اسے غلط کہہ سکتا ہوں؟

اگر میرے خاندان کا فرد ظلم کرے تو کیا میں اس کے ساتھ صرف رشتہ ہونے کی وجہ سے کھڑا رہوں گا؟

اگر میری جماعت، گروہ یا دوست کی طرف سے غلطی ہو تو کیا میں خاموش رہوں گا؟

قرآن کا اصول واضح ہے:

حق کسی شخص کا غلام نہیں۔

حق، حق ہے۔

چاہے اسے کوئی بھی کہے۔

اور باطل، باطل ہے۔

چاہے اسے میرا اپنا ہی کیوں نہ کہے۔

یہی وہ ذہنی آزادی ہے جو قرآن انسان کو دیتا ہے۔

عدل کا سب سے مشکل امتحان: جب حق نقصان دے

اب ذرا آخری درجے کا سوال سوچیں۔

اگر سچ بولنے سے آپ کا نقصان ہو جائے تو؟

اگر انصاف کرنے سے آپ کے دوست ناراض ہو جائیں تو؟

اگر کسی کا حق دینے سے آپ کا مالی فائدہ کم ہو جائے تو؟

اگر اپنی غلطی ماننے سے آپ کی عزت کم محسوس ہو تو؟

یہاں قرآن کا راستہ آسان نہیں۔

لیکن یہی راستہ انسان کو مضبوط بناتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«”اور جب بات کہو تو انصاف کرو، خواہ معاملہ قریبی رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو۔”

(سورۃ الأنعام: 152)»

یعنی تعلقات اہم ہیں۔

لیکن حق ان سے بھی بڑا ہے۔

قرآن انسان کو فیصلہ کرنے سے پہلے خود کو دیکھنا سکھاتا ہے

جب بھی کسی کے بارے میں فیصلہ کرنے لگیں تو تین سوال کریں:

کیا میں پوری حقیقت جانتا ہوں؟

کیا میری پسند یا ناپسند میرے فیصلے کو متاثر کر رہی ہے؟

اگر یہی معاملہ میرے ساتھ ہوتا تو کیا میں یہی فیصلہ پسند کرتا؟

یہ تین سوال انسان کو بہت سی ناانصافیوں سے بچا سکتے ہیں۔

اور شاید سب سے اہم سوال:

اگر اللہ میرے فیصلے کو دیکھ رہا ہے تو کیا میں یہی فیصلہ کروں گا؟

یہ سوال انسان کو تنہائی میں بھی انصاف پر قائم رکھ سکتا ہے۔

دل کی کیفیت

عدل صرف قانونی اصول نہیں۔

یہ دل کی کیفیت بھی ہے۔

ایک ایسا دل جو جانتا ہے کہ:

میں بھی اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں۔

آج میں طاقتور ہوں۔

کل کمزور ہو سکتا ہوں۔

آج میں فیصلہ کر رہا ہوں۔

کل میرے بارے میں فیصلہ ہو سکتا ہے۔

آج کسی کا حق میرے ہاتھ میں ہے۔

کل میرا حق کسی اور کے ہاتھ میں ہو سکتا ہے۔

یہ احساس انسان کو نرم بھی کرتا ہے اور مضبوط بھی۔

وہ ظلم سے بچتا ہے کیونکہ اسے آخرت یاد ہے۔

وہ حق دیتا ہے کیونکہ اسے اللہ کا علم ہے۔

اور وہ اپنے نفس کی خواہش کو حق کا معیار نہیں بناتا۔

عملی زندگی میں تبدیلی

آج سے ایک چھوٹی سی مشق شروع کریں۔

جب بھی کسی جھگڑے میں فیصلہ کرنا ہو، فوراً فیصلہ نہ دیں۔

پہلے دونوں طرف کی بات سنیں۔

پھر اپنے دل سے پوچھیں:

مجھے کس سے محبت ہے؟

مجھے کس سے ناراضی ہے؟

کیا میری رائے ان جذبات سے متاثر ہے؟

پھر خود سے کہیں:

میں شخص کے مطابق نہیں، حق کے مطابق فیصلہ کروں گا۔

اگر آپ نے یہ ایک اصول سیکھ لیا تو قرآن کی ایک بہت بڑی تعلیم آپ کی عملی زندگی میں داخل ہو جائے گی۔

مختصر خلاصہ

آج ہم نے سمجھا کہ قرآن کا عدل صرف عدالتوں کے لیے نہیں۔

یہ گھر، کاروبار، رشتوں، فیصلوں، دوستیوں اور اختلافات سب کے لیے ہے۔

قرآن انسان کو سکھاتا ہے کہ دشمنی بھی انصاف ختم نہ کرے۔

رشتہ بھی حق سے بڑا نہ ہو۔

اپنی غلطی بھی تسلیم کی جائے۔

کمزور کا حق بھی محفوظ رکھا جائے۔

اور اختیار کو ملکیت نہیں بلکہ امانت سمجھا جائے۔

لیکن اب قرآن کے عدل کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔

انسان دوسروں کے حقوق تو مان لیتا ہے، لیکن جب اس کے اپنے حق کی بات آئے تو کیا وہ صبر کر سکتا ہے؟

اور اگر اسے ظلم کا سامنا ہو تو کیا قرآن اسے صرف برداشت کرنا سکھاتا ہے؟

یا پھر مظلوم کو اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کا طریقہ بھی بتاتا ہے؟

آج اپنے آپ سے پوچھیں:

اگر میرے کسی قریبی شخص اور کسی اجنبی کے درمیان حق کا معاملہ ہو، تو کیا میں واقعی حق کا ساتھ دوں گا—even اگر میرے اپنے شخص کو نقصان ہو؟

اور اب اگلے حصے کا دروازہ کھلتا ہے:

اگر قرآن عدل سکھاتا ہے تو ظلم کے سامنے انسان کیا کرے؟

اگلا حصہ: “قرآن اور ظلم — خاموشی، صبر اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا درست راستہ”

Loading