قرآن کے ایک لفظ کی پوری دنیا
قسط نمبر 10 — الْهَمْزُ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب انسان دوسروں کے عیب اچھالتے اچھالتے اپنی حقیقت بھول جائے
کبھی انسان کسی کو گالی نہیں دیتا…
کوئی سخت لفظ بھی نہیں بولتا…
لیکن پھر بھی وہ سامنے والے کی عزت مجروح کر دیتا ہے۔
صرف ایک اشارے سے۔
ایک طنزیہ مسکراہٹ سے۔
ایک معنی خیز نظر سے۔
کسی کے لباس کو دیکھ کر ہنسنے سے۔
کسی کی غربت پر تبصرہ کرنے سے۔
کسی کے لہجے کی نقل اتارنے سے۔
یا کسی کی ایسی کمزوری محفل میں بیان کرنے سے جسے وہ خود لوگوں سے چھپانا چاہتا تھا۔
اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسا کرنے والا اکثر آخر میں یہی کہتا ہے:
“ارے! میں تو مذاق کر رہا تھا۔”
لیکن قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر مذاق بے ضرر نہیں ہوتا۔
کچھ مذاق انسان کے دل پر نشان چھوڑ جاتے ہیں۔
کچھ الفاظ رشتوں میں دراڑ ڈال دیتے ہیں۔
کچھ اشارے کسی کی خود اعتمادی توڑ دیتے ہیں۔
اور کچھ رویے انسان کو اللہ کے سامنے جواب دہ بنا دیتے ہیں۔
اسی لیے قرآن ایک انتہائی مختصر مگر لرزا دینے والی آیت سے آغاز کرتا ہے:
«وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ»
“ہر ایسے شخص کے لیے ہلاکت ہے جو طعنہ دینے والا، عیب نکالنے والا ہے۔”
(سورۃ الہمزۃ: 1)
صرف ایک آیت…
لیکن اس میں انسانی رویے کا ایک پورا آئینہ موجود ہے۔
—
الْهَمْزُ کیا ہے؟
عربی میں هَمَزَ کا تعلق کسی کو طعن دینے، عیب لگانے یا اشارے سے اذیت پہنچانے کے مفہوم سے آتا ہے۔
قرآن میں هُمَزَة اور لُمَزَة ایک ساتھ آئے ہیں۔
مفسرین نے ان دونوں کے درمیان مختلف پہلو بیان کیے ہیں۔ عمومی طور پر اس میں دوسروں کو عیب لگانا، ان کی تحقیر کرنا، طعنہ دینا اور کسی نہ کسی انداز سے ان کی عزت پر حملہ کرنا شامل ہے۔
یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آپ نے کیا کہا۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ:
آپ نے کس نیت سے کہا؟
کس انداز میں کہا؟
کس کے سامنے کہا؟
اور سب سے بڑھ کر:
کسی دوسرے انسان کے دل اور عزت کے ساتھ کیا کیا؟
—
ایک لمحے کے لیے اس منظر کا تصور کریں
ایک محفل ہے۔
لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔
ایک شخص ابھی ابھی آیا ہے۔
اس کے کپڑے عام سے ہیں۔
اس کا لہجہ دیہاتی ہے۔
اس کی گفتگو میں اعتماد نہیں۔
کسی نے اس کے جوتوں پر نظر ڈالی۔
دوسرے نے اس کی نقل اتاری۔
تیسرے نے ہنس کر کہا:
“یہ بھی آج کل بڑا آدمی بننے لگا ہے!”
محفل میں قہقہہ گونج اٹھا۔
جس شخص کا مذاق بنایا گیا، وہ بھی شاید مسکرا دے۔
شاید وہ کچھ نہ کہے۔
شاید وہ خاموشی سے وہاں بیٹھا رہے۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں؟
ممکن ہے اس کی وہ مسکراہٹ صرف اپنی تکلیف چھپانے کا طریقہ ہو۔
انسان ہر زخم پر ہاتھ نہیں رکھتا۔
کچھ زخم وہ دل میں چھپا لیتا ہے۔
—
ہم دوسروں کو ہنسانے کے لیے کیوں گراتے ہیں؟
یہ سوال بہت گہرا ہے۔
اکثر انسان کسی دوسرے کو نیچا دکھا کر خود کو بڑا محسوس کرتا ہے۔
اگر کسی کا لباس معمولی ہے تو وہ اس پر ہنسے گا۔
اگر کوئی کم تعلیم یافتہ ہے تو اس کا مذاق بنائے گا۔
اگر کسی کی گفتگو کمزور ہے تو اس کی نقل اتارے گا۔
اگر کسی کے پاس دولت کم ہے تو اسے کمتر سمجھے گا۔
اگر کسی سے غلطی ہو جائے تو اسے بار بار یاد دلائے گا۔
کیوں؟
کیونکہ اندر کہیں انسان یہ چاہتا ہے کہ:
“میں اس سے بہتر ہوں۔”
لیکن یہاں ایک عجیب حقیقت ہے۔
جس لمحے آپ کسی دوسرے انسان کو ذلیل کرکے اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں…
اسی لمحے آپ اپنے کردار کو چھوٹا کر دیتے ہیں۔
—
قرآن نے مذاق اڑانے سے بھی روکا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ»
“اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔”
(سورۃ الحجرات: 11)
یہ آیت انسان کی سوچ کا رخ ہی بدل دیتی ہے۔
آپ جس شخص پر ہنس رہے ہیں…
ممکن ہے اللہ کے نزدیک وہ آپ سے بہتر ہو۔
آپ جسے معمولی سمجھ رہے ہیں…
ممکن ہے اس کا دل اللہ کے نزدیک آپ سے زیادہ پاک ہو۔
آپ جس کی ظاہری کمزوری دیکھ رہے ہیں…
ممکن ہے اس کی کوئی ایسی نیکی ہو جس کا آپ کو علم ہی نہ ہو۔
—
ہم صرف لوگوں کا مذاق نہیں اڑاتے، ہم ان کے ظاہر سے فیصلہ کرتے ہیں
یہ بھی انسان کی ایک بڑی کمزوری ہے۔
ہم کسی کو دیکھتے ہیں اور فوراً فیصلہ کر لیتے ہیں:
یہ غریب ہے۔
یہ کم عقل ہے۔
یہ ناکام ہے۔
یہ کمزور ہے۔
یہ خوبصورت نہیں۔
یہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں۔
یہ ہماری سطح کا نہیں۔
لیکن ہمیں اس انسان کی پوری کہانی معلوم نہیں ہوتی۔
ہمیں نہیں معلوم وہ کن حالات سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہے۔
ہمیں نہیں معلوم اس نے کتنی راتیں فکر میں گزاری ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم اس نے کتنی بار گر کر دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی ہے۔
ہمیں نہیں معلوم اس کے دل میں اللہ کے ساتھ کیسا تعلق ہے۔
اور پھر ہم صرف چند سیکنڈ کے مشاہدے سے پورے انسان کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔
یہ انصاف نہیں۔
—
زبان کے ساتھ آنکھیں بھی بولتی ہیں
کبھی انسان کہتا ہے:
“میں نے تو کچھ کہا ہی نہیں!”
لیکن اس کی آنکھیں بہت کچھ کہہ چکی ہوتی ہیں۔
کسی کے وزن پر نظر۔
کسی کے لباس پر مسکراہٹ۔
کسی کے تلفظ پر ہنسی۔
کسی کے ہاتھ میں موجود سستی چیز دیکھ کر تحقیر۔
کسی کے گھر کو دیکھ کر تبصرہ۔
کسی کی گاڑی دیکھ کر طنز۔
یہ سب وہ جگہیں ہیں جہاں انسان سمجھتا ہے کہ:
“میں نے تو صرف دیکھا تھا۔”
لیکن اگر اس نظر میں تحقیر تھی تو مسئلہ صرف دیکھنے کا نہیں رہا۔
کیونکہ انسان کی عزت صرف الفاظ سے نہیں ٹوٹتی۔
رویے بھی عزت توڑتے ہیں۔
—
سوشل میڈیا نے اس آزمائش کو اور بڑا کر دیا
پہلے کسی انسان کا مذاق اڑانے کے لیے محفل چاہیے تھی۔
آج ایک موبائل کافی ہے۔
کسی کی تصویر سامنے آئی۔
ہم نے کمنٹ کردیا:
“یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟”
کسی نے ویڈیو بنائی۔
ہم نے اس کے لہجے کی نقل بنا دی۔
کسی سے غلطی ہوئی۔
ہم نے اس کا کلپ کاٹ کر دوبارہ پھیلا دیا۔
لوگ ہنسے۔
ویوز آئے۔
لائکس آئے۔
اور ہمیں لگا:
“کیا زبردست مزاح ہے!”
لیکن ذرا رک کر سوچیے…
اگر وہ شخص آپ کے سامنے بیٹھا ہوتا تو کیا آپ یہی بات اس کے چہرے کے سامنے کہتے؟
اگر جواب “نہیں” ہے…
تو شاید اسکرین نے ہمیں بہادر نہیں بنایا۔
اسکرین نے صرف ہماری زبان کو چہرے سے آزاد کر دیا ہے۔
—
کسی کے عیب کو تفریح بنا دینا
یہ آج کے معاشرے کا ایک خطرناک رویہ ہے۔
کسی کی بیماری…
کسی کی مالی پریشانی…
کسی کی خاندانی مشکل…
کسی کی ظاہری کمزوری…
کسی کی غلطی…
کسی کا جذباتی ردعمل…
سب کچھ مواد بن سکتا ہے۔
لیکن ہر چیز مواد نہیں ہوتی۔
کسی کی تکلیف آپ کی تفریح نہیں ہے۔
اگر کوئی شخص اپنی کمزوری کے ساتھ آپ کے سامنے کھڑا ہے تو ممکن ہے اسے مذاق نہیں…
رحمت کی ضرورت ہو۔
—
رسول اللہ ﷺ کی تعلیم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)»
غور کیجیے۔
زبان اور ہاتھ دونوں کا ذکر ہے۔
کیونکہ نقصان صرف مارنے سے نہیں ہوتا۔
ایک جملہ بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایک افواہ بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ایک طنز بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایک عوامی تذلیل بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ایک ایسا کمنٹ بھی نقصان پہنچا سکتا ہے جو آپ نے دو سیکنڈ میں لکھا، مگر دوسرا شخص اسے کئی دن تک اپنے ذہن میں دہراتا رہا۔
—
اور کبھی ہم مذاق کے نام پر کسی کا راز کھول دیتے ہیں
یہ اور بھی حساس معاملہ ہے۔
کوئی شخص آپ پر اعتماد کرکے اپنی کمزوری بتاتا ہے۔
پھر ایک دن محفل میں آپ ہنستے ہوئے کہتے ہیں:
“ارے! تمہیں تو یاد ہے نا جب تم نے فلاں کام کیا تھا؟”
سب ہنسنے لگتے ہیں۔
لیکن آپ نے ایک راز کو مذاق بنا دیا۔
ایک اعتماد کو تماشہ بنا دیا۔
ایک انسان کی کمزوری کو عوام کے سامنے رکھ دیا۔
اس وقت شاید سب ہنس رہے ہوں…
لیکن ممکن ہے اللہ کے نزدیک آپ کی یہ حرکت ہنسی کے قابل نہ ہو۔
—
کیا ہر تنقید بھی الہمز ہے؟
نہیں۔
یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
اگر کوئی شخص غلط کام کر رہا ہے اور آپ اسے اصلاح کے لیے مناسب انداز میں سمجھاتے ہیں تو یہ تحقیر نہیں۔
اگر کسی کے نقصان سے دوسروں کو بچانا ضروری ہے اور آپ حقیقت واضح کرتے ہیں تو یہ بھی محض “عیب جوئی” نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ:
کیا آپ اصلاح چاہتے ہیں یا تذلیل؟
اگر مقصد اصلاح ہے تو لہجہ بدل جائے گا۔
اگر مقصد اپنی برتری دکھانا ہے تو الفاظ بدل جائیں گے۔
اگر مقصد خیر ہے تو انسان سامنے والے کی عزت بھی بچانے کی کوشش کرے گا۔
لیکن اگر مقصد صرف اسے نیچا دکھانا ہے…
تو پھر یہ اصلاح نہیں۔
یہ نفس کی تسکین ہے۔
—
ایک عجیب سوال: اگر آپ کا عیب سب کے سامنے آ جائے؟
تصور کریں…
آپ کی وہ کمزوری جو صرف آپ اور اللہ جانتے ہیں، اچانک لوگوں کے سامنے آ جائے۔
لوگ آپ کے بارے میں باتیں کرنے لگیں۔
آپ کی تصویر کے نیچے تبصرے ہونے لگیں۔
لوگ آپ کے ماضی کو اچھالنے لگیں۔
آپ جہاں جائیں لوگ آپ کو اسی ایک غلطی سے پہچانیں۔
آپ کی باقی تمام خوبیاں نظر انداز کر دی جائیں۔
کیسا محسوس ہوگا؟
شاید بہت تکلیف ہوگی۔
تو پھر یاد رکھیے:
جس عزت کی حفاظت آپ اپنے لیے چاہتے ہیں، دوسرے انسان بھی اسی عزت کے مستحق ہیں۔
—
قرآن ہمیں ایک اور دروازہ دکھاتا ہے
اسی آیت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ»
“اور ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ، اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔”
(سورۃ الحجرات: 11)
یہاں ایک نہایت خوبصورت بات ہے:
“اپنے آپ کو عیب نہ لگاؤ۔”
کیوں؟
کیونکہ اہل ایمان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
جب آپ کسی دوسرے مومن کی عزت توڑتے ہیں تو دراصل آپ اپنے ہی معاشرے کی عزت کم کرتے ہیں۔
دوسرے کو گرانا…
بالآخر سب کو کمزور کرتا ہے۔
—
ایک لمحہ اپنے گھر کے لیے
کبھی کبھی ہم باہر لوگوں کے ساتھ بہت مہذب ہوتے ہیں…
لیکن گھر میں؟
بچے کی شکل پر تبصرہ۔
اس کے نمبر کم آئے تو مذاق۔
اس کے وزن پر جملہ۔
اس کے بولنے کے انداز پر ہنسی۔
بہن بھائی کی کمزوری سب کے سامنے بیان کرنا۔
بچے کو رشتہ داروں کے سامنے شرمندہ کرنا۔
ہم سمجھتے ہیں:
“اس سے تو بچہ مضبوط بنے گا۔”
لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔
کبھی بچہ مضبوط نہیں بنتا…
وہ صرف خاموش ہو جاتا ہے۔
اور خاموش بچے کے اندر کیا چل رہا ہے، والدین کو بہت دیر بعد معلوم ہوتا ہے۔
اس لیے تربیت میں بھی ایک اصول یاد رکھیے:
غلطی کی اصلاح کریں، انسان کی تحقیر نہ کریں۔
—
اپنی زبان کے لیے ایک چھوٹا سا اصول
آج سے کوئی جملہ بولنے سے پہلے تین سوال کریں:
کیا یہ سچ ہے؟
کیا یہ ضروری ہے؟
کیا یہ عزت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے؟
اگر تینوں کا جواب ہاں ہے تو بولیے۔
اگر سچ ہے مگر ضروری نہیں…
تو خاموشی بہتر ہو سکتی ہے۔
اگر ضروری ہے مگر انداز توہین آمیز ہے…
تو انداز بدل دیجیے۔
اور اگر صرف دوسروں کو ہنسانے کے لیے کسی کو نیچا دکھانا ہے…
تو رک جائیے۔
آپ کی ہنسی کسی دوسرے کے آنسو کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔
—
اصل بڑائی کیا ہے؟
لوگوں کی خامیاں گنوا دینا آسان ہے۔
کسی کے عیب تلاش کرنا آسان ہے۔
کسی کی کمزوری دیکھ کر ہنسنا آسان ہے۔
مشکل یہ ہے کہ آپ کسی کی کمزوری دیکھیں…
اور اسے ڈھانپ دیں۔
کسی کی غلطی دیکھیں…
اور اسے اکیلے میں سمجھا دیں۔
کسی کی عزت خطرے میں دیکھیں…
اور اس کی حفاظت کریں۔
یہاں انسان کا کردار سامنے آتا ہے۔
کیونکہ اچھا انسان وہ نہیں جو دوسروں کے عیب نہ دیکھے۔
اچھا انسان وہ ہے جو دوسروں کے عیب دیکھ کر اپنی زبان کو قابو میں رکھے۔
—
آج کا اپنا محاسبہ
رات کو سونے سے پہلے صرف چند منٹ اپنے دن کو یاد کیجیے۔
آج میں نے کس کا مذاق بنایا؟
کس کے لباس پر تبصرہ کیا؟
کس کی کمزوری کو ہنسی کا موضوع بنایا؟
کسی کی نقل اتاری؟
کسی کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس کے سامنے نہ کہہ سکتا؟
کسی کے راز کو مذاق میں ظاہر کیا؟
اگر جواب “ہاں” ہے تو خود کو ختم نہ سمجھیں۔
غلطی کا احساس اصلاح کا آغاز ہے۔
جس کا دل دکھایا ہے، ممکن ہو تو معافی مانگیں۔
اور آئندہ کے لیے ایک اصول بنا لیں:
کسی انسان کی عزت کو اپنی تفریح نہیں بناؤں گا۔
—
ایک بہت گہری حقیقت
ہم سب اللہ کے محتاج ہیں۔
آج جس شخص پر آپ ہنس رہے ہیں…
کل حالات آپ کو بھی اسی مقام پر لا سکتے ہیں۔
آج جس کمزوری کو آپ دوسروں میں دیکھ رہے ہیں…
ممکن ہے کل وہی آزمائش آپ کے سامنے ہو۔
آج جس شخص کو آپ معمولی سمجھ رہے ہیں…
ممکن ہے قیامت کے دن اس کا مقام آپ سے کہیں بلند ہو۔
اس لیے کسی انسان کو اس کے ظاہری حال سے مکمل طور پر مت پرکھیے۔
دلوں کا علم اللہ کے پاس ہے۔
—
دل سے ایک دعا
اے اللہ!
ہماری زبانوں کو دوسروں کی عزت کا محافظ بنا۔
ہمیں لوگوں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر عطا فرما۔
ہمیں ایسا دل دے جو کسی کی کمزوری دیکھ کر خوش نہ ہو بلکہ اس کے لیے خیر چاہے۔
یا اللہ!
اگر ہماری کسی بات، اشارے، مذاق یا کمنٹ سے کسی کا دل دکھا ہو تو ہمیں معافی مانگنے کی توفیق دے۔
ہمیں ایسا اخلاق عطا فرما کہ ہماری موجودگی میں لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں۔
اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو دوسروں کی عزت کی حفاظت کرتے ہیں، نہ کہ اسے اپنی تفریح بناتے ہیں۔
آمین یا رب العالمین۔
—
آج کا ایک جملہ یاد رکھیں
“کسی کو ہنسانا خوبصورت ہے، لیکن کسی کو گرا کر ہنسانا خوبصورتی نہیں۔”
اپنے الفاظ کا انتخاب کیجیے۔
کیونکہ الفاظ واپس نہیں آتے۔
اور کبھی کبھی ایک معمولی سا جملہ…
کسی کے دل میں بہت لمبے عرصے تک زندہ رہتا ہے۔
—
❤️ اگر یہ تحریر آپ کے دل کو چھو گئی ہو
پیج کو فالو کریں، پوسٹ کو لائک کریں اور اسے اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔
ممکن ہے آپ کا ایک شیئر کسی ایسے شخص تک یہ پیغام پہنچا دے جو آج اپنی زبان اور رویے پر غور کرنے کا محتاج ہے۔
![]()

