ہر پڑھنے والا بدلتا نہیں… مگر کچھ الفاظ ایسے ہیں جو انسان کو چھوڑنے کا نام نہیں لیتے
قرآن مجید میں ایک آیت ہے جس نے اپنی کتاب پر ایمان
لانے والوں کو گدھوں سے تشبیح دی گئی اور یہ کوئی
کافروں کے بارے میں نہیں بلکہ یہ اس کتاب پر ایمان لانے
والوں کے بارے میں ہے اور قرآن مجید میں اس کو اس لیے
رکھا گیا کہ تم اس حقیقت کا سامنا کر سکو جو حقیقت
قرآن تمہیں دکھانا چاہتا ہے سورۃ الجمعہ آیت نمبر پانچ کے اندر اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں
مثل الذین حملوا التورات ثملم یحملوها کمثل الحمار یحملو اسفارا
پھر جن لوگوں کو تورات کا پابند بنایا گیا پھر انہوں نے اس
کا حق ادا نہ کیا ان کی مثال اس گدھے کیسی ہے جو
کتابیں اٹھائے ہوئے ہوں ایک گدھا جو اللہ کی کتاب کو
اٹھائے ہوئے ہو دنیا کا سب سے قیمتی علم اس کی پیٹھ پر
ہے لیکن اسے یہ معلوم تک نہیں ہے کہ وہ کیا اٹھائے ہوئے ہے
یہ آیت ابتدائی میں دراصل بنی اسرائیل اور تورات کے بارے
میں نازل ہوئی تھی لیکن ابتدائی دور کے علماء نے ہمیں
خبردار کیا قرآن مجید کے ہر مفسر نے یہ بتایا کہ یہ آیت ہر
اس شخص پر لاگو ہوتی ہے جو اللہ کی کتاب کو اٹھائے ہوئے ہوں مگر اس سے خود کو بدل نہ سکے تو پھر غور کرو
کہ کہیں یہ آیت مجھے اور ہم کو اپنے اندر شامل تو نہیں کرتی
سوچو کہ قرآن کو اٹھانے کا مطلب کیا ہے؟
اس کا مطلب وزن اٹھانا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب اپنے آپ کو قرآن کے مطابق بدلنا ہے
تو پھر سوچو کہ تم سورة ملک پڑھتے ہو لیکن کیا یہ تمہارے مرنے کے بارے میں سوچنے کا انداز بدلتی ہے؟
تم غیبت کے بارے میں آیات جانتے ہو آیات کو سنتے رہتے ہو لیکن کیا پھر بھی تم ایسی محفلوں میں بیٹھتے ہو جہاں لوگوں کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں؟
قرآن مجید کی اس ایت کے اندر لفظ( یحملو) بولا گیا جس کا معنی ہوتا ہے اٹھانا اصل نکتہ اسی لفظ کے اندر ہے دیکھو کہ
گدھا کتابوں کو جسمانی طور پر اٹھاتا ہے وزن اس کے پیٹھ پر ہوتا ہے لیکن کچھ بھی اس کے اندر منتقل نہیں ہوتا کچھ
بھی اس کے دل میں داخل نہیں ہوتا علم باہر ہی رہتا ہے وہ بوجھ کی طرح ہوتا ہے لیکن اس کا علم بے اثر ہوتا ہے
قرآن کو صرف اپنی یادداشت میں اٹھانا یا قرآن کو صرف ہاتھ میں اٹھانا یہ اس طرح بالکل نہیں ہے جیسے قرآن کو اپنے کردار میں اٹھایا جائے
امام غزالی رحمہ اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں لکھا جو قرآن کو خوبصورت انداز میں پڑھتے ہیں مگر ایسی زندگی
گزارتے ہیں جیسے انہوں نے اسے کبھی پڑھا ہی نہ ہو
انہوں نے ایسے لوگوں کو کہا کہ وہ لوگ جو قرآن کو اپنی زبان پر اٹھاتے ہیں دلوں میں نہیں
امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب انسان ایسا ہو جائے تو انسان اس گدھے کی مانند ہو جاتا ہے جو خزانے سے لدا ہوا ہے مگر اسے اس کی کوئی خبر نہیں
یاد رکھو کہ یہ جملہ تمہیں توڑنے کے لیے نہیں کہا گیا کہ تمہیں جگانے کے لیے کہا گیا ہے کیونکہ گدھے اور عالم کے
درمیان فرق صرف حفظ نہیں ہے نہ یہ کہ تم نے کتنے پارے مکمل کیے ہیں اصل فرق ہے تبدیلی
تو پھر سوچو کہ وہ آیت جو آج تم نے نماز میں پڑھی وہ آیت جو تم نے کسی طرح تلاوت کی ..کیا اس نے تمہارے برتاؤ میں کوئی تبدیلی لائی ہے؟
کیا اس نے تمہیں کسی ایک گناہ سے روکا ہے؟
اگر ہاں تو پھر تو قرآن کے الفاظ نہیں بلکہ اس کا وزن بھی
اٹھا رہے ہو اور اگر جواب نہیں ہے تو وہ آیت تم سے یہی کہہ رہی ہے اس بارے میں خود سے سچ بولو
قرآن صرف تلاوت کے لیے نازل نہیں ہوا یہ زندگی کے لیے نازل ہوا اور جسے یہ سب سے زیادہ بدلنا چاہتا ہے وہ تمہارے ارد گرد کی دنیا نہیں بلکہ وہ تم خود ہو
قرآن یہ چاہتا ہے کہ تم اس کی وجہ سے خود بدل جاؤ
قرآن کی یہ باتیں شاید تمہیں سخت لگیں لیکن اگر عمل کرو گے تو قرآن تمہیں ایک بہترین انسان بنا دے۔
![]()

